Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mutaqarib Musamman Mahzuf

متقارب مثمن محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. جسے عشق کا تیر کاری لگےاسے زندگی کیوں نہ بھاری لگےWali Dakani (1667–1707)
  2. تری گالی مجھ دل کو پیاری لگےدعا میری تجھ من میں بھاری لگےFaez Dehlvi (1690–1738)
  3. نہ پوچھو کہ قائمؔ کا کیا حال ہےکچھ اک ڈھیر ہڈیوں کا یا کھال ہےQaem Chandpuri (1722–1793)
  4. اگر راہ میں اس کی رکھا ہے گامگئے گزرے خضر علیہ السلامMir Taqi Mir (1723–1810)
  5. بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعدسو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعدMir Taqi Mir (1723–1810)
  6. جو دیکھو مرے شعر تر کی طرفتو مائل نہ ہو پھر گہر کی طرفMir Taqi Mir (1723–1810)
  7. فقیرانہ آئے صدا کر چلےکہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلےMir Taqi Mir (1723–1810)
  8. کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہےزمیں سخت ہے آسماں دور ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  9. غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
  10. گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیںرہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
  11. موے سہتے سہتے جفا کاریاںکوئی ہم سے سیکھے وفاداریاںMir Taqi Mir (1723–1810)
  12. ہمیں آمد میرؔ کل بھا گئیطرح اس میں مجنوں کی سب پا گئیMir Taqi Mir (1723–1810)
  13. ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سےنہ نکلا کبھو عہدۂ مور سےMir Taqi Mir (1723–1810)
  14. تمامی حجت کی خاطر اماملگا کہنے رو کر سوے اہل شامMir Taqi Mir (1723–1810)
  15. اعجاز عشقMir Taqi Mir (1723–1810)
  16. در حال افغاں پسرMir Taqi Mir (1723–1810)
  17. در حال مسافر جواںMir Taqi Mir (1723–1810)
  18. خواب و خیالMir Taqi Mir (1723–1810)
  19. در بیان دنیاMir Taqi Mir (1723–1810)
  20. فلک قتل سبط پیمبر ہے کلیہ ہنگامہ ہونا مقرر ہے کلMir Taqi Mir (1723–1810)
  21. شعلۂ عشقMir Taqi Mir (1723–1810)
  22. محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلالقیامت رہیں گے دلوں پر ملالMir Taqi Mir (1723–1810)
  23. در تعریف اسپ و زیر زماں آصف دوراں نواب آصف الدولہ بہادرMir Taqi Mir (1723–1810)
  24. اژدرنامہMir Taqi Mir (1723–1810)
  25. صنم پاس ہے اور شب ماہ ہےیہ شب ہے کہ اللہ ہی اللہ ہےMir Hasan (1727–1786)
  26. کدھر جائیے اور کہاں بیٹھیےپرچتا نہیں دل جہاں بیٹھیےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  27. وہی راتیں آئیں وہی زاریاںوہی پھر سحر تک کی بیداریاںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  28. جو ہاتھ اپنے سبزے کا گھوڑا لگاتو سلفے کا اور اس کو کوڑا لگاInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  29. میاں چشم جادو پہ اتنا گھمنڈخط و خال و گیسو پہ اتنا گھمنڈInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  30. رخ و زلف پر جان کھویا کیااندھیرے اجالے میں رویا کیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  31. متفرقاتMirza Ghalib (1797–1869)
  32. غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
  33. مرا راز دل آشکارا نہیںوہ دریا ہوں جس کا کنارا نہیںMir Anees (1803–1874)
  34. پلا جام ساقی مے ناب کاکہ کچھ حظ اٹھے سیرِ مہتاب کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  35. نہ کر فاش رازِ گلستاں عبثنہ ہو بلبلِ زار نالاں عبثMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  36. دوپٹا وہ گلنار دکھلا گئےنئے سر سے پھر آگ بھڑکا گئےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  37. اثر کر کے آہ رسا پھر گئیہوا صاف مطلع ہوا پھر گئیMunir Shikohabadi (1814–1880)
  38. پلا ساقیا ارغوانی شرابکہ پیری میں دے نوجوانی شرابAmeer Minai (1829–1900)
  39. نہیں معتقد جو ترے دید کامیں دیوانہ ہوں اس کی فہمید کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  40. شب وصل ضد میں بسر ہو گئینہیں ہوتے ہوتے سحر ہو گئیDagh Dehlvi (1831–1905)
  41. طبیعت کوئی دن میں بھر جائے گیچڑھی ہے یہ آندھی اتر جائے گیDagh Dehlvi (1831–1905)
  42. بگڑ کر عدو سے دکھاتے ہیں آپبناوٹ کی باتیں بناتے ہیں آپZaheer Dehlvi (1835–1911)
  43. بری اور بھلی سب گزر جائے گییہ کشتی یونہیں پار اتر جائے گیAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  44. شب زندگانی سحر ہو گئیبہر کیف اچھی بسر ہو گئیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  45. تھوڑا تھوڑا مل کر بہت ہو جاتا ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  46. شفقIsmail Meeruthi (1844–1917)
  47. نصیحتIsmail Meeruthi (1844–1917)
  48. راتIsmail Meeruthi (1844–1917)
  49. برساتIsmail Meeruthi (1844–1917)
  50. جو ناصح مرے آگے بکنے لگامیں کیا کرتا منہ اس کا تکنے لگاAkbar Allahabadi (1846–1921)