Poetry
Mutaqarib Musamman Mahzuf
متقارب مثمن محذوف- جسے عشق کا تیر کاری لگےاسے زندگی کیوں نہ بھاری لگےWali Dakani (1667–1707)
- تری گالی مجھ دل کو پیاری لگےدعا میری تجھ من میں بھاری لگےFaez Dehlvi (1690–1738)
- نہ پوچھو کہ قائمؔ کا کیا حال ہےکچھ اک ڈھیر ہڈیوں کا یا کھال ہےQaem Chandpuri (1722–1793)
- اگر راہ میں اس کی رکھا ہے گامگئے گزرے خضر علیہ السلامMir Taqi Mir (1723–1810)
- بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعدسو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعدMir Taqi Mir (1723–1810)
- جو دیکھو مرے شعر تر کی طرفتو مائل نہ ہو پھر گہر کی طرفMir Taqi Mir (1723–1810)
- فقیرانہ آئے صدا کر چلےکہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہےزمیں سخت ہے آسماں دور ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیںرہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- موے سہتے سہتے جفا کاریاںکوئی ہم سے سیکھے وفاداریاںMir Taqi Mir (1723–1810)
- ہمیں آمد میرؔ کل بھا گئیطرح اس میں مجنوں کی سب پا گئیMir Taqi Mir (1723–1810)
- ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سےنہ نکلا کبھو عہدۂ مور سےMir Taqi Mir (1723–1810)
- تمامی حجت کی خاطر اماملگا کہنے رو کر سوے اہل شامMir Taqi Mir (1723–1810)
- اعجاز عشقMir Taqi Mir (1723–1810)
- در حال افغاں پسرMir Taqi Mir (1723–1810)
- در حال مسافر جواںMir Taqi Mir (1723–1810)
- خواب و خیالMir Taqi Mir (1723–1810)
- در بیان دنیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- فلک قتل سبط پیمبر ہے کلیہ ہنگامہ ہونا مقرر ہے کلMir Taqi Mir (1723–1810)
- شعلۂ عشقMir Taqi Mir (1723–1810)
- محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلالقیامت رہیں گے دلوں پر ملالMir Taqi Mir (1723–1810)
- در تعریف اسپ و زیر زماں آصف دوراں نواب آصف الدولہ بہادرMir Taqi Mir (1723–1810)
- اژدرنامہMir Taqi Mir (1723–1810)
- صنم پاس ہے اور شب ماہ ہےیہ شب ہے کہ اللہ ہی اللہ ہےMir Hasan (1727–1786)
- کدھر جائیے اور کہاں بیٹھیےپرچتا نہیں دل جہاں بیٹھیےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- وہی راتیں آئیں وہی زاریاںوہی پھر سحر تک کی بیداریاںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- جو ہاتھ اپنے سبزے کا گھوڑا لگاتو سلفے کا اور اس کو کوڑا لگاInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- میاں چشم جادو پہ اتنا گھمنڈخط و خال و گیسو پہ اتنا گھمنڈInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- رخ و زلف پر جان کھویا کیااندھیرے اجالے میں رویا کیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- متفرقاتMirza Ghalib (1797–1869)
- غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
- مرا راز دل آشکارا نہیںوہ دریا ہوں جس کا کنارا نہیںMir Anees (1803–1874)
- پلا جام ساقی مے ناب کاکہ کچھ حظ اٹھے سیرِ مہتاب کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- نہ کر فاش رازِ گلستاں عبثنہ ہو بلبلِ زار نالاں عبثMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- دوپٹا وہ گلنار دکھلا گئےنئے سر سے پھر آگ بھڑکا گئےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- اثر کر کے آہ رسا پھر گئیہوا صاف مطلع ہوا پھر گئیMunir Shikohabadi (1814–1880)
- پلا ساقیا ارغوانی شرابکہ پیری میں دے نوجوانی شرابAmeer Minai (1829–1900)
- نہیں معتقد جو ترے دید کامیں دیوانہ ہوں اس کی فہمید کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- شب وصل ضد میں بسر ہو گئینہیں ہوتے ہوتے سحر ہو گئیDagh Dehlvi (1831–1905)
- طبیعت کوئی دن میں بھر جائے گیچڑھی ہے یہ آندھی اتر جائے گیDagh Dehlvi (1831–1905)
- بگڑ کر عدو سے دکھاتے ہیں آپبناوٹ کی باتیں بناتے ہیں آپZaheer Dehlvi (1835–1911)
- بری اور بھلی سب گزر جائے گییہ کشتی یونہیں پار اتر جائے گیAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- شب زندگانی سحر ہو گئیبہر کیف اچھی بسر ہو گئیIsmail Meeruthi (1844–1917)
- تھوڑا تھوڑا مل کر بہت ہو جاتا ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- شفقIsmail Meeruthi (1844–1917)
- نصیحتIsmail Meeruthi (1844–1917)
- راتIsmail Meeruthi (1844–1917)
- برساتIsmail Meeruthi (1844–1917)
- جو ناصح مرے آگے بکنے لگامیں کیا کرتا منہ اس کا تکنے لگاAkbar Allahabadi (1846–1921)