Poetry
Ramal Musaddas Makhbun Mahzuf Musakkan
رمل مسدس مخبون محذوف مسکن- خوش ہیں انعام ملا ہو جیسےدرد بھی کوئی دوا ہو جیسےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- لذت درد جگر یاد آئیپھر تری پہلی نظر یاد آئیQamar Moradabadi (1910–1987)
- پرتو ساغر صہبا کیا تھارات اک حشر سا برپا کیا تھاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ٹوٹ کر عہد تمنا کی طرحمعتبر ہم رہے فردا کی طرحTabish Dehlvi (1911–2004)
- کسی مسکین کا گھر کھلتا ہےیا کوئی زخم نظر کھلتا ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
- دوستی عام ہے لیکن اے دوستدوست ملتا ہے بڑی مشکل سےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- سو ملیں زندگی سے سوغاتیںہم کو آوارگی ہی راس آئیAli Sardar Jafri (1913–2000)
- جب بھی خلوت میں وہ یاد آئے گاوقت کا سیل ٹھہر جائے گاEhsan Danish (1914–1982)
- یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسےساتھ چل موج صبا ہو جیسےEhsan Danish (1914–1982)
- آج مدت میں وہ یاد آئے ہیںدر و دیوار پہ کچھ سائے ہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- زیست آزار ہوئی جاتی ہےسانس تلوار ہوئی جاتی ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- سانس لینا بھی سزا لگتا ہےاب تو مرنا بھی روا لگتا ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- شام کو صبح چمن یاد آئیکس کی خوشبوئے بدن یاد آئیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- لب خاموش سے افشا ہوگاراز ہر رنگ میں رسوا ہوگاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- آگ جنگل میں لگی تھی لیکنبستیوں میں بھی دھواں جا پہنچاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- اپنے ماضی کے گھنے جنگل سےکون نکلے گا! کہاں نکلے گاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- مرحلہ رات کا جب آئے گاجسم سائے کو ترس جائے گاQateel Shifai (1919–2001)
- مطمئن کوئی نہیں ہے اس سےکوئی برہم ہے تو خائف کوئیQateel Shifai (1919–2001)
- روز بڑھتا ہوں جہاں سے آگےپھر وہیں لوٹ کے آ جاتا ہوںKaifi Azmi (1919–2002)
- آپ چھیڑیں نہ وفا کا قصہبات میں بات نکل آتی ہےDard Asadi (1919–1990)
- خوب انداز پذیرائی ہےعزت نفس پہ بن آئی ہےLais Quraishi (b. 1922)
- حرف معنی سے جدا ہو جیسےزندگی کوئی سزا ہو جیسےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- خواب آنکھوں میں سجائے رکھناعزم کے دیپ جلائے رکھناUmmeed Fazli (1923–2005)
- چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گےلوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گےAda Jafri (1924–2015)
- گھر کا رستہ بھی ملا تھا شایدراہ میں سنگ وفا تھا شایدAda Jafri (1924–2015)
- دل دھڑکنے کا سبب یاد آیاوہ تری یاد تھی اب یاد آیاNasir Kazmi (1925–1972)
- عشق جب زمزمہ پیرا ہوگاحسن خود محو تماشا ہوگاNasir Kazmi (1925–1972)
- ہم کہ مجنوں کو دعا کہتے ہیںروئے لیلیٰ کو صبا کہتے ہیںQamar Jameel (1927–2000)
- لوگ گیتوں کا نگر یاد آیاآج پردیس میں گھر یاد آیاHabib Jalib (1928–1993)
- آہ بھی حرف دعا ہو جیسےاک دکھی دل کی صدا ہو جیسےA G Josh (1928–2007)
- لب و رخسار و جبیں سے ملئےجی نہیں بھرتا کہیں سے ملئےIbn-e-Safi (1928–1980)
- مدتوں کور نگاہی دل کینور عرفاں کو ترستی رہتیMustafa Zaidi (1930–1970)
- تجریدMustafa Zaidi (1930–1970)
- حسن پابند جفا ہو جیسےیہ کوئی خاص ادا ہو جیسےParkash Nath Parvez (b. 1930)
- تیری باتیں ہی سنانے آئےدوست بھی دل ہی دکھانے آئےAhmad Faraz (1931–2008)
- جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گےلوگ آرام سے سوئے ہوں گےAhmad Faraz (1931–2008)
- جب تری یاد کے جگنو چمکےدیر تک آنکھ میں آنسو چمکےAhmad Faraz (1931–2008)
- دل جو ہے آگ لگا دوں اس کواور پھر خود ہی ہوا دوں اس کوJaun Elia (1931–2002)
- مستقل بولتا ہی رہتا ہوںکتنا خاموش ہوں میں اندر سےJaun Elia (1931–2002)
- اس نے کچھ مجھ سے کہا تھا شایدیا مجھے وہم ہوا تھا شایدZafar Naseemi (b. 1931)
- میں نئے عزم سفر سے نکلاسر پہ سورج لئے گھر سے نکلاZafar Naseemi (b. 1931)
- درد ایسا کہ دوا ہو جیسےآج کچھ حد سے سوا ہو جیسےRafeeq Jabir (b. 1931)
- ہجر انعام وفا ہو جیسےجرم الفت کی سزا ہو جیسےRafeeq Jabir (b. 1931)
- شرر افشاں وہ شرر خو بھی نہیںکوئی تارا کوئی جگنو بھی نہیںHafiz Taib (1931–2004)
- زیست یوں ہی نہ رہے گی مغمومزندگانی کو بدلنا ہوگاDaud Ghazi (1932–1963)
- ایک پرواز دکھائی دی ہےتیری آواز سنائی دی ہےGulzar (b. 1934)
- انفرادیت پرستShakeb Jalali (1934–1966)
- کوئی مشکل نہیں انساں ہوناآدمی سیکھ لے ناداں ہوناDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- درد اب دل کی دوا ہو جیسےزندگی ایک سزا ہو جیسےIftikhar Aazmi (1935–1977)
- اپنے نائی کا ہنر یاد آیاہم نے منڈوایا تھا سر یاد آیاT N Raaz (b. 1935)