Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. ہم نہ نکہت ہیں نہ گل ہیں جو مہکتے جاویںآگ کی طرح جدھر جاویں دہکتے جاویںMir Hasan (1727–1786)
  2. آن رکھتا ہے عجب یار کا لڑ کر چلناہر قدم ناز کے غصے میں اکڑ کر چلناNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  3. جال میں زر کے اگر موتی کا دانا ہوگاوہ نہ اس دام میں آوے گا جو دانا ہوگاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  4. دل نہ لو دل کا یہ لینا ہے نہ اخفا ہوگااس کو دل کہتے ہیں بس لیتے ہی چرچا ہوگاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  5. زاہدو روضۂ رضواں سے کہو عشق اللہعاشقو کوچۂ جاناں سے کہو عشق اللہNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  6. سامنے اس صف مژگاں کہ میں کل جاؤں گاچھد تُو جاؤں گا پر آگے سے نہ ٹل جاؤں گاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  7. شور آہوں کا اٹھا نالہ فلک سا نکلاآج اس دھوم سے ظالم تیرا شیدا نکلاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  8. عشق پھر رنگ وہ لایا ہے کہ جی جانے ہےدل کا یہ رنگ بنایا ہے کہ جی جانے ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  9. کون یاں ساتھ لیے تاج و سریر آیا ہےیاں تو جو آیا ہے پہلے سو فقیر آیا ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  10. لو نہ ہنس ہنس کے تم اغیار سے گل دستوں سےاتنی ضد بھی نہ رکھو اپنے جگر خستوں سےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  11. لے کے دل مہر سے پھر رسم جفا کاری کیاتم دل آرام ہو کرتے ہو دل آزاری کیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  12. ہو کچھ آسیب تو واں چاہئے گنڈا تعویذاور جو ہو عشق کا سایہ تو کرے کیا تعویذNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  13. یہ گلہ دل سے تو ہرگز نہیں جانا صاحبسب نے جانا ہمیں پر تم نے نہ جانا صاحبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  14. خوشامد (نظیر اکبر آبادی)Nazeer Akbarabadi (1735–1830)
  15. پیساNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  16. اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپناجس کے گھر کو یہ سمجھتے تھے کہ ہے گھر اپناQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  17. در تک اب چھوڑ دیا گھر سے نکل کر آنایا وہ راتوں کو سدا بھیس بدل کر آناQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  18. درد اپنا میں اسی طور جتا رہتا ہوںحسب حال اس کو کئی شعر سنا رہتا ہوںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  19. دود آتش کی طرح یاں سے نہ ٹل جاؤں گاشمع ساں محفل جاناں ہی میں جل جاؤں گاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  20. صوت بلبل دل نالاں نے سنائی مج کوسیر گل دیدۂ گریاں نے دکھائی مج کوQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  21. کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیاخواب میں آنے کی بھی تم نے قسم کھائی کیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  22. گر کہوں غیر سے پھر ربط ہوا تجھ کو کیاکیا برا مان کے کہتا ہے بھلا تجھ کو کیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  23. گزر اس حجرۂ گردوں سے ہو کیدھر اپناقید خانہ ہے عجب گنبد بے در اپناQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  24. گو ہوں وحشی پہ ترے در سے نہ ٹل جاؤں گاہاں مگر دشت عدم ہی کو نکل جاؤں گاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  25. آہ دیکھی تھی میں جس گھر میں پری کی صورتاب نظر آئے ہے واں نوحہ گری کی صورتMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  26. بعد مردن کی بھی تدبیر کیے جاتا ہوںاپنی قبر آپ ہی تعمیر کیے جاتا ہوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  27. پانو میں قیس کے زنجیر بھلی لگتی ہےیوں ہی دیوانے کی تصویر بھلی لگتی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  28. جب سے صانع نے بنایا ہے جہاں کا بہروپاپنی نظروں میں ہے سب کون و مکاں کا بہروپMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  29. در تلک جانے کی ہے اس کے مناہی ہم کواپنی بس اب نظر آتی ہے تباہی ہم کوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  30. رات پردے سے ذرا منہ جو کسو کا نکلاشعلہ سمجھا تھا اسے میں پہ بھبھوکا نکلاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  31. کیجیے ظلم سزا وار جفا ہم ہی ہیںکھینچیے تیغ کہ مدت سے فدا ہم ہی ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  32. گھر میں باشندے تو اک ناز میں مر جاتے ہیںاور جو ہم سایے ہیں آواز میں مر جاتے ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  33. لوگ کہتے ہیں محبت میں اثر ہوتا ہےکون سے شہر میں ہوتا ہے کدھر ہوتا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  34. منہ میں جس کے تو شب وصل زباں دیتا ہےصبح تک مارے مزے ہی کے وہ جاں دیتا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  35. موج نکہت کی صبا دیکھ سواری تیارخار سے کی ہے گل تر نے کٹاری تیارMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  36. کل پتنگ اس نے جو بازار سے منگوا بھیجاسادہ مانجھے کا اسے ماہ نے گولا بھیجاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  37. کون اس باغ سے اے باد صبا جاتا ہےرنگ رخسار سے پھولوں کے اڑا جاتا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  38. ایک دن رات کی صحبت میں نہیں ہوتے شریکہم کو کیا فائدہ گر آپ بہت ہیں نزدیکInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  39. تب سے عاشق ہیں ہم اے طفل پری وش تیرےجب سے مکتب میں تو کہتا تھا الف بے تے ثےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  40. جس کو کچھ دھن ہو کرے ہم سے حقیقت کی بحثکہ ہمیں جانتے ہیں اہل طریقت کی بحثInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  41. حضرت عشق ادھر کیجے کرم یا معبودبال گوپال ہیں یاں آپ کے ہم یا معبودInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  42. دیکھنا جب مجھے کر شان یہ گالی دیناکس سے تم سیکھے ہو ہر آن یہ گالی دیناInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  43. گاہے گاہے جو ادھر آپ کرم کرتے ہیںوہ ہیں اٹھ جاتے ہیں یہ اور ستم کرتے ہیںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  44. نیند مستوں کو کہاں اور کدھر کا تکیہخشت خم خانہ ہے یاں اپنے تو سر کا تکیہInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  45. دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیںکہ ابھی عرش کو چاہیں تو ہلا سکتے ہیںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  46. میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑاپر تصور میں مرے اس نے نہ آنا چھوڑاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  47. بے سبب ہاتھ کٹاری کو لگانا کیا تھاقتل عشاق پہ بیڑا یہ اٹھانا کیا تھاShah Naseer (1756–1838)
  48. رنگ میلا نہ ہوا جامۂ عریانی کاسر و ساماں ہے ہمیں بے سر و سامانی کاShah Naseer (1756–1838)
  49. میں نے بٹھلا کے جو پاس اس کو کھلایا بیڑاقتل پر میرے رقیبوں نے اٹھایا بیڑاShah Naseer (1756–1838)
  50. گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہےہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہےMah Laqa Chanda (1768–1824)