Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- ہم نہ نکہت ہیں نہ گل ہیں جو مہکتے جاویںآگ کی طرح جدھر جاویں دہکتے جاویںMir Hasan (1727–1786)
- آن رکھتا ہے عجب یار کا لڑ کر چلناہر قدم ناز کے غصے میں اکڑ کر چلناNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جال میں زر کے اگر موتی کا دانا ہوگاوہ نہ اس دام میں آوے گا جو دانا ہوگاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دل نہ لو دل کا یہ لینا ہے نہ اخفا ہوگااس کو دل کہتے ہیں بس لیتے ہی چرچا ہوگاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- زاہدو روضۂ رضواں سے کہو عشق اللہعاشقو کوچۂ جاناں سے کہو عشق اللہNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- سامنے اس صف مژگاں کہ میں کل جاؤں گاچھد تُو جاؤں گا پر آگے سے نہ ٹل جاؤں گاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- شور آہوں کا اٹھا نالہ فلک سا نکلاآج اس دھوم سے ظالم تیرا شیدا نکلاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- عشق پھر رنگ وہ لایا ہے کہ جی جانے ہےدل کا یہ رنگ بنایا ہے کہ جی جانے ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کون یاں ساتھ لیے تاج و سریر آیا ہےیاں تو جو آیا ہے پہلے سو فقیر آیا ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- لو نہ ہنس ہنس کے تم اغیار سے گل دستوں سےاتنی ضد بھی نہ رکھو اپنے جگر خستوں سےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- لے کے دل مہر سے پھر رسم جفا کاری کیاتم دل آرام ہو کرتے ہو دل آزاری کیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ہو کچھ آسیب تو واں چاہئے گنڈا تعویذاور جو ہو عشق کا سایہ تو کرے کیا تعویذNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- یہ گلہ دل سے تو ہرگز نہیں جانا صاحبسب نے جانا ہمیں پر تم نے نہ جانا صاحبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- خوشامد (نظیر اکبر آبادی)Nazeer Akbarabadi (1735–1830)
- پیساNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپناجس کے گھر کو یہ سمجھتے تھے کہ ہے گھر اپناQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- در تک اب چھوڑ دیا گھر سے نکل کر آنایا وہ راتوں کو سدا بھیس بدل کر آناQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- درد اپنا میں اسی طور جتا رہتا ہوںحسب حال اس کو کئی شعر سنا رہتا ہوںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- دود آتش کی طرح یاں سے نہ ٹل جاؤں گاشمع ساں محفل جاناں ہی میں جل جاؤں گاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- صوت بلبل دل نالاں نے سنائی مج کوسیر گل دیدۂ گریاں نے دکھائی مج کوQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیاخواب میں آنے کی بھی تم نے قسم کھائی کیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- گر کہوں غیر سے پھر ربط ہوا تجھ کو کیاکیا برا مان کے کہتا ہے بھلا تجھ کو کیاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- گزر اس حجرۂ گردوں سے ہو کیدھر اپناقید خانہ ہے عجب گنبد بے در اپناQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- گو ہوں وحشی پہ ترے در سے نہ ٹل جاؤں گاہاں مگر دشت عدم ہی کو نکل جاؤں گاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- آہ دیکھی تھی میں جس گھر میں پری کی صورتاب نظر آئے ہے واں نوحہ گری کی صورتMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بعد مردن کی بھی تدبیر کیے جاتا ہوںاپنی قبر آپ ہی تعمیر کیے جاتا ہوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- پانو میں قیس کے زنجیر بھلی لگتی ہےیوں ہی دیوانے کی تصویر بھلی لگتی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- جب سے صانع نے بنایا ہے جہاں کا بہروپاپنی نظروں میں ہے سب کون و مکاں کا بہروپMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- در تلک جانے کی ہے اس کے مناہی ہم کواپنی بس اب نظر آتی ہے تباہی ہم کوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- رات پردے سے ذرا منہ جو کسو کا نکلاشعلہ سمجھا تھا اسے میں پہ بھبھوکا نکلاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کیجیے ظلم سزا وار جفا ہم ہی ہیںکھینچیے تیغ کہ مدت سے فدا ہم ہی ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- گھر میں باشندے تو اک ناز میں مر جاتے ہیںاور جو ہم سایے ہیں آواز میں مر جاتے ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- لوگ کہتے ہیں محبت میں اثر ہوتا ہےکون سے شہر میں ہوتا ہے کدھر ہوتا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- منہ میں جس کے تو شب وصل زباں دیتا ہےصبح تک مارے مزے ہی کے وہ جاں دیتا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- موج نکہت کی صبا دیکھ سواری تیارخار سے کی ہے گل تر نے کٹاری تیارMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کل پتنگ اس نے جو بازار سے منگوا بھیجاسادہ مانجھے کا اسے ماہ نے گولا بھیجاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کون اس باغ سے اے باد صبا جاتا ہےرنگ رخسار سے پھولوں کے اڑا جاتا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ایک دن رات کی صحبت میں نہیں ہوتے شریکہم کو کیا فائدہ گر آپ بہت ہیں نزدیکInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- تب سے عاشق ہیں ہم اے طفل پری وش تیرےجب سے مکتب میں تو کہتا تھا الف بے تے ثےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- جس کو کچھ دھن ہو کرے ہم سے حقیقت کی بحثکہ ہمیں جانتے ہیں اہل طریقت کی بحثInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- حضرت عشق ادھر کیجے کرم یا معبودبال گوپال ہیں یاں آپ کے ہم یا معبودInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- دیکھنا جب مجھے کر شان یہ گالی دیناکس سے تم سیکھے ہو ہر آن یہ گالی دیناInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- گاہے گاہے جو ادھر آپ کرم کرتے ہیںوہ ہیں اٹھ جاتے ہیں یہ اور ستم کرتے ہیںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- نیند مستوں کو کہاں اور کدھر کا تکیہخشت خم خانہ ہے یاں اپنے تو سر کا تکیہInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیںکہ ابھی عرش کو چاہیں تو ہلا سکتے ہیںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑاپر تصور میں مرے اس نے نہ آنا چھوڑاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- بے سبب ہاتھ کٹاری کو لگانا کیا تھاقتل عشاق پہ بیڑا یہ اٹھانا کیا تھاShah Naseer (1756–1838)
- رنگ میلا نہ ہوا جامۂ عریانی کاسر و ساماں ہے ہمیں بے سر و سامانی کاShah Naseer (1756–1838)
- میں نے بٹھلا کے جو پاس اس کو کھلایا بیڑاقتل پر میرے رقیبوں نے اٹھایا بیڑاShah Naseer (1756–1838)
- گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہےہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہےMah Laqa Chanda (1768–1824)