Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہےاب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  2. ہم کو تو خیر پہنچنا تھا جہاں تک پہنچےجو ہمیں روک رہے تھے وہ کہاں تک پہنچےKaleem Aajiz (1926–2015)
  3. آزمانا ہے تو آ بازو و دل کی قوتتو بھی شمشیر اٹھا ہم بھی غزل کہتے ہیںKaleem Aajiz (1926–2015)
  4. آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہمہونٹ سی لیتے ہیں فریاد نہیں کرتے ہمSaadat Nazeer (b. 1926)
  5. خود بہ خود دیدہ و دل میں جو سمایا جائےہائے اس شخص کو کس طرح بھلایا جائےSaadat Nazeer (b. 1926)
  6. اپنے ہم راہ جو آتے ہو ادھر سے پہلےدشت پڑتا ہے میاں عشق میں گھر سے پہلےIbn-e-Insha (1927–1978)
  7. چاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکاگھاس شبنم میں شرابور ہے شب ہے آدھیIbn-e-Insha (1927–1978)
  8. یہ سرائے ہے یہاں کس کا ٹھکانا ڈھونڈویاں تو آتے ہیں مسافر سو چلے جاتے ہیںIbn-e-Insha (1927–1978)
  9. اپنے سب چہرے چھپا رکھے ہیں آئینے میںمیں نے کچھ پھول کھلا رکھے ہیں آئینے میںQamar Jameel (1927–2000)
  10. اب تو خود سے بھی کچھ ایسا ہے بشر کا رشتہجیسے پرواز سے ٹوٹے ہوئے پر کا رشتہGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
  11. پہلے احباب تغافل کی صفائی دیں گےپھر مرے حق میں عدالت میں گواہی دیں گےB S Jain Jauhar (b. 1927)
  12. چاند نکلا ہے سر قریۂ ظلمت دیکھوہو گئی کیسی سیہ خانوں کی رنگت دیکھوMunir Niazi (1928–2006)
  13. کیوں منیرؔ اپنی تباہی کا یہ کیسا شکوہجتنا تقدیر میں لکھا ہے ادا ہوتا ہےMunir Niazi (1928–2006)
  14. اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنارہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھناHabib Jalib (1928–1993)
  15. دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھاتجھ سے بھی ہم نے ترا پیار چھپائے رکھاHabib Jalib (1928–1993)
  16. یوں وہ ظلمت سے رہا دست و گریباں یارواس سے لرزاں تھے بہت شب کے نگہباں یاروHabib Jalib (1928–1993)
  17. تو کہ ناواقف آداب شہنشاہی تھیرقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہےHabib Jalib (1928–1993)
  18. گولیوں سے یہ جواں آگ نہ بجھ پائے گیگیس پھینکو گے تو کچھ اور بھی لہرائے گیHabib Jalib (1928–1993)
  19. میں تجھے پھول کہوں اور کہوں بھنوروں سےآؤ اس پھول کا رس چوس کے ناچو‌‌ جھوموHabib Jalib (1928–1993)
  20. بارہا ہو کے گئے ابر بہاراں خالیدشت میں پھول کھلے اور گلستاں خالیGhalib Ahmad (b. 1928)
  21. جسم جب مائل پرواز دگر ہوتا ہےمنزل شوق کو پھر میرا سفر ہوتا ہےGhalib Ahmad (b. 1928)
  22. منظر ہوش سے آگے بھی نظر جانے دےجا رہا ہے یہ مسافر تو ادھر جانے دےGhalib Ahmad (b. 1928)
  23. جانے کیا سوچ کے ہم تجھ سے وفا کرتے ہیںقرض ہے پچھلے جنم کا سو ادا کرتے ہیںKailash Mahir (b. 1928)
  24. سائے ہیں گوش بر آواز ذرا آہستہمونسو آج کی شب ذکر وفا آہستہKailash Mahir (b. 1928)
  25. ہم نوا ملتا تو آواز کا سودا کرتےہم کہاں آ گئے پرچھائیں کا پیچھا کرتےKailash Mahir (b. 1928)
  26. راکھ ہی راکھ ہے اس ڈھیر میں کیا رکھا ہےکھوکھلی آنکھیں جہاں بہتا رہا آب حیاتKailash Mahir (b. 1928)
  27. یہ بھی کیا کم ہے کہ تو نے مجھے پہچان لیاوہ بھی کیا رات تھی جب تجھ سے ملاقات ہوئیKailash Mahir (b. 1928)
  28. تم بھی اس شہر میں بن جاؤ گے پتھر جیسےہنسنے والا یہاں کوئی ہے نہ رونے والاKailash Mahir (b. 1928)
  29. صاف انکار اگر ہو تو تسلی ہو جائےجھوٹے وعدوں سے ترے رنج سوا ہوتا ہےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  30. اتنا احسان تو ہم پر وہ خدارا کرتےاپنے ہاتھوں سے جگر چاک ہمارا کرتےA G Josh (1928–2007)
  31. رات پھیلی ہے تیرے سرمئی آنچل کی طرحچاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے پاگل کی طرحKaleem Usmani (1928–2000)
  32. جور بے جا کو جو کہتے ہو بجا ہے وہ بھیدست قاتل پہ لہو ہے کہ حنا ہے وہ بھیGhani Ejaz (1929–2010)
  33. خواہشیں اپنی سرابوں میں نہ رکھے کوئیان ہواؤں کو حبابوں میں نہ رکھے کوئیGhani Ejaz (1929–2010)
  34. روشنی کب تھی مرے داغ جگر سے پہلےاس نے پائی ہے ضیا شمس و قمر سے پہلےDaud Nishat (1929–1992)
  35. کب ہوس کاروں نے دنیا کے دہانے دیکھےڈوبنے کے جو تھے دنیا میں ٹھکانے دیکھےDaud Nishat (1929–1992)
  36. وہ مرا کثرت انوار سے حیراں ہوناہر طرف طور بکف ان کا نمایاں ہوناDaud Nishat (1929–1992)
  37. راز یہ سب کو بتانے کی ضرورت کیا ہےدل سمجھتا ہے ترے ذکر میں لذت کیا ہےRaaz Allahabadi (1929–1996)
  38. اس قدر اب غم دوراں کی فراوانی ہےتو بھی منجملۂ اسباب پریشانی ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
  39. تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرحمیرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرحMustafa Zaidi (1930–1970)
  40. جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئیمدتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئیMustafa Zaidi (1930–1970)
  41. غم دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلنوہی سوچی ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پنMustafa Zaidi (1930–1970)
  42. وفا کیسی؟Mustafa Zaidi (1930–1970)
  43. مری پتھر آنکھیںMustafa Zaidi (1930–1970)
  44. تعمیرMustafa Zaidi (1930–1970)
  45. دوراہا (مصطفٰی زیدی)Mustafa Zaidi (1930–1970)
  46. یاد (مصطفٰی زیدی)Mustafa Zaidi (1930–1970)
  47. ایک علامتMustafa Zaidi (1930–1970)
  48. ہار جیتMustafa Zaidi (1930–1970)
  49. اجالاMustafa Zaidi (1930–1970)
  50. رات سنسان ہےMustafa Zaidi (1930–1970)