Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہےاب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- ہم کو تو خیر پہنچنا تھا جہاں تک پہنچےجو ہمیں روک رہے تھے وہ کہاں تک پہنچےKaleem Aajiz (1926–2015)
- آزمانا ہے تو آ بازو و دل کی قوتتو بھی شمشیر اٹھا ہم بھی غزل کہتے ہیںKaleem Aajiz (1926–2015)
- آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہمہونٹ سی لیتے ہیں فریاد نہیں کرتے ہمSaadat Nazeer (b. 1926)
- خود بہ خود دیدہ و دل میں جو سمایا جائےہائے اس شخص کو کس طرح بھلایا جائےSaadat Nazeer (b. 1926)
- اپنے ہم راہ جو آتے ہو ادھر سے پہلےدشت پڑتا ہے میاں عشق میں گھر سے پہلےIbn-e-Insha (1927–1978)
- چاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکاگھاس شبنم میں شرابور ہے شب ہے آدھیIbn-e-Insha (1927–1978)
- یہ سرائے ہے یہاں کس کا ٹھکانا ڈھونڈویاں تو آتے ہیں مسافر سو چلے جاتے ہیںIbn-e-Insha (1927–1978)
- اپنے سب چہرے چھپا رکھے ہیں آئینے میںمیں نے کچھ پھول کھلا رکھے ہیں آئینے میںQamar Jameel (1927–2000)
- اب تو خود سے بھی کچھ ایسا ہے بشر کا رشتہجیسے پرواز سے ٹوٹے ہوئے پر کا رشتہGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- پہلے احباب تغافل کی صفائی دیں گےپھر مرے حق میں عدالت میں گواہی دیں گےB S Jain Jauhar (b. 1927)
- چاند نکلا ہے سر قریۂ ظلمت دیکھوہو گئی کیسی سیہ خانوں کی رنگت دیکھوMunir Niazi (1928–2006)
- کیوں منیرؔ اپنی تباہی کا یہ کیسا شکوہجتنا تقدیر میں لکھا ہے ادا ہوتا ہےMunir Niazi (1928–2006)
- اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنارہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھناHabib Jalib (1928–1993)
- دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھاتجھ سے بھی ہم نے ترا پیار چھپائے رکھاHabib Jalib (1928–1993)
- یوں وہ ظلمت سے رہا دست و گریباں یارواس سے لرزاں تھے بہت شب کے نگہباں یاروHabib Jalib (1928–1993)
- تو کہ ناواقف آداب شہنشاہی تھیرقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہےHabib Jalib (1928–1993)
- گولیوں سے یہ جواں آگ نہ بجھ پائے گیگیس پھینکو گے تو کچھ اور بھی لہرائے گیHabib Jalib (1928–1993)
- میں تجھے پھول کہوں اور کہوں بھنوروں سےآؤ اس پھول کا رس چوس کے ناچو جھوموHabib Jalib (1928–1993)
- بارہا ہو کے گئے ابر بہاراں خالیدشت میں پھول کھلے اور گلستاں خالیGhalib Ahmad (b. 1928)
- جسم جب مائل پرواز دگر ہوتا ہےمنزل شوق کو پھر میرا سفر ہوتا ہےGhalib Ahmad (b. 1928)
- منظر ہوش سے آگے بھی نظر جانے دےجا رہا ہے یہ مسافر تو ادھر جانے دےGhalib Ahmad (b. 1928)
- جانے کیا سوچ کے ہم تجھ سے وفا کرتے ہیںقرض ہے پچھلے جنم کا سو ادا کرتے ہیںKailash Mahir (b. 1928)
- سائے ہیں گوش بر آواز ذرا آہستہمونسو آج کی شب ذکر وفا آہستہKailash Mahir (b. 1928)
- ہم نوا ملتا تو آواز کا سودا کرتےہم کہاں آ گئے پرچھائیں کا پیچھا کرتےKailash Mahir (b. 1928)
- راکھ ہی راکھ ہے اس ڈھیر میں کیا رکھا ہےکھوکھلی آنکھیں جہاں بہتا رہا آب حیاتKailash Mahir (b. 1928)
- یہ بھی کیا کم ہے کہ تو نے مجھے پہچان لیاوہ بھی کیا رات تھی جب تجھ سے ملاقات ہوئیKailash Mahir (b. 1928)
- تم بھی اس شہر میں بن جاؤ گے پتھر جیسےہنسنے والا یہاں کوئی ہے نہ رونے والاKailash Mahir (b. 1928)
- صاف انکار اگر ہو تو تسلی ہو جائےجھوٹے وعدوں سے ترے رنج سوا ہوتا ہےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- اتنا احسان تو ہم پر وہ خدارا کرتےاپنے ہاتھوں سے جگر چاک ہمارا کرتےA G Josh (1928–2007)
- رات پھیلی ہے تیرے سرمئی آنچل کی طرحچاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے پاگل کی طرحKaleem Usmani (1928–2000)
- جور بے جا کو جو کہتے ہو بجا ہے وہ بھیدست قاتل پہ لہو ہے کہ حنا ہے وہ بھیGhani Ejaz (1929–2010)
- خواہشیں اپنی سرابوں میں نہ رکھے کوئیان ہواؤں کو حبابوں میں نہ رکھے کوئیGhani Ejaz (1929–2010)
- روشنی کب تھی مرے داغ جگر سے پہلےاس نے پائی ہے ضیا شمس و قمر سے پہلےDaud Nishat (1929–1992)
- کب ہوس کاروں نے دنیا کے دہانے دیکھےڈوبنے کے جو تھے دنیا میں ٹھکانے دیکھےDaud Nishat (1929–1992)
- وہ مرا کثرت انوار سے حیراں ہوناہر طرف طور بکف ان کا نمایاں ہوناDaud Nishat (1929–1992)
- راز یہ سب کو بتانے کی ضرورت کیا ہےدل سمجھتا ہے ترے ذکر میں لذت کیا ہےRaaz Allahabadi (1929–1996)
- اس قدر اب غم دوراں کی فراوانی ہےتو بھی منجملۂ اسباب پریشانی ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
- تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرحمیرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرحMustafa Zaidi (1930–1970)
- جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئیمدتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئیMustafa Zaidi (1930–1970)
- غم دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلنوہی سوچی ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پنMustafa Zaidi (1930–1970)
- وفا کیسی؟Mustafa Zaidi (1930–1970)
- مری پتھر آنکھیںMustafa Zaidi (1930–1970)
- تعمیرMustafa Zaidi (1930–1970)
- دوراہا (مصطفٰی زیدی)Mustafa Zaidi (1930–1970)
- یاد (مصطفٰی زیدی)Mustafa Zaidi (1930–1970)
- ایک علامتMustafa Zaidi (1930–1970)
- ہار جیتMustafa Zaidi (1930–1970)
- اجالاMustafa Zaidi (1930–1970)
- رات سنسان ہےMustafa Zaidi (1930–1970)