Poetry
Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf
رمل مثمن سالم مخبون محذوف- یوں تو محروم کوئی بزم میں مے خوار نہیںہاں مگر میری طرف چشم فسوں کار نہیںPaikar Jafari
- عشق میں چور بھی ہوں پیروئے منصور بھی ہوںیعنی میں طور بھی ہوں برق سر طور بھی ہوںS. Nooruddin Anwar Bhopali
- دیت اس قاتل بے رحم سے کیا لیجئے گااپنی ہی آنکھوں سے اب خون بہا لیجئے گاشیر محمد خاں ایمان
- میرا غم میرے خیالات ہی سب کچھ تو نہیںان کی محفل میں مری بات ہی سب کچھ تو نہیںUma Shankar Shadan Gwaliori
- ہے جما خون رگوں میں کہ رواں کچھ بھی نہیںتم سے یہ کس نے کہا ہے کہ وہاں کچھ بھی نہیںMadhav Noor
- خود کے احساس محبت نے مجھے زندہ رکھامیرے کچھ نیک خیالات نے تابندہ رکھاUrmila Madhav
- بے خبر اپنے مقدر سے رہا پہلے پہلجب قدم شہر زلیخا میں رکھا پہلے پہلDawood Kashmiri
- ہر حقیقت ہے وہی خواب پریشاں کہ جو تھاجذبۂ دل ہے وہی چاک گریباں کہ جو تھاDawood Kashmiri
- ہم یہاں غم سے ہیں دو چار کہیں اور چلیںآپ بھی دکھتے ہیں بیمار کہیں اور چلیںKalicharan Singh
- مدعا گریہ سے کچھ عشق کا اظہار نہیںکیا کہوں تم سے کہ کہنے میں دل زار نہیںمنشی بہاری لال مشتاق دہلوی
- ہم نے خاک در محبوب جو چہرے پہ ملیقصۂ درد چھڑا بات سے پھر بات چلیSaba Jayasi
- حشر میں پھر وہی نقشا نظر آتا ہے مجھےآج بھی وعدۂ فردا نظر آتا ہے مجھےتاجور نجیب آبادی
- درد کا میرے مداوا وہ کریں یا نہ کریںمیں ہوں مشکور دم نزع جو پردا نہ کریںوفا لکھنوی
- اس تعلق کو تو رستے کی رکاوٹ نہ سمجھاب کسی اور کا ہونا ہے تو چل جا ہو جاFaiyaz Aswad
- حسن بے پردہ کی گرمی سے کلیجہ پکاتیغ کی آنچ سے گھر میں مرے کھانا پکامظفر علی اسیر
- سانحہ روز نیا ہو تو غزل کیا کہیےہر طرف حشر بپا ہو تو غزل کیا کہیےZafar Rabab
- ہاتھ آیا ہے ستم گر تو بڑی گھات کے بعدسب بتا دوں گا میں تجھ کو مگر اک بات کے بعدماسٹر باسط بسوانی
- یوں نہیں چین تو غفلت کا ستم اور سہیہم یہ سمجھیں گے کہ افزائش غم اور سہیمیر محمد سلطان عاقل
- بند کمرے میں ہوں اور کوئی دریچا بھی نہیںکسی دستک کا لرزتا ہوا جھونکا بھی نہیںParvez Bazmi
- دل کو جس چیز کی حسرت ہے ہمیں جانتے ہیںوہ کوئی چاند سی صورت ہے ہمیں جانتے ہیںDanish Ejaz
- پہلے چنگاری سے اک شعلہ بناتا ہے مجھےپھر وہی تیز ہواؤں سے ڈراتا ہے مجھےObaidullah Siddiqui
- جب سے جانا ہے کہ دنیا میں وفا کوئی نہیںپھر کسی سے بھی رہا ہم کو گلہ کوئی نہیںSaba Alam Shah
- زہر میں بجھتی ہوئی بیل ہے دیوار کے ساتھجیسے اک نائکہ بیٹھی ہو گنہ گار کے ساتھUmmeed KHwaja
- سر میں سودا بھی وہی کوچۂ قاتل بھی وہیرقص بسمل بھی وہی شور سلاسل بھی وہیZafar Anwar
- ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیاماپنے وعدے کو تو کر یاد مجھے یاد نہ کرJalal Manikpuri
- کیا کہا پھر تو کہو دل کی خبر کچھ بھی نہیںپھر یہ کیا ہے خم گیسو میں اگر کچھ بھی نہیںمحمد علی تشنہ
- جان آنکھوں میں رہی جی سے گزرنے نہ دیااچھی دیدار کی حسرت تھی کہ مرنے نہ دیاشیخ عبداللطیف تپش
- خودکشی جرم بھی ہے صبر کی توہین بھی ہےاس لیے عشق میں مر مر کے جیا جاتا ہےIbrat Siddiqui
- سخت وحشت سی برستی ہے شب و روز یہاںاب تو غوغائے سگاں تک میں اثر کوئی نہیںJafar Askari
- ہم ترے شہر میں آئے ترے مہماں بھی رہےتجھ کو چاہا بھی مگر تجھ سے گریزاں بھی رہےJagdeesh Masoom
- درد مندوں سے نہ پوچھو کہ کدھر بیٹھ گئےتیری مجلس میں غنیمت ہے جدھر بیٹھ گئےمیر شمس الدین فقیر
- خواہش وصل نے عشاق کو رسوا رکھاحسن نے دل کش و خوش رنگ سراپا رکھاRaeesuddin Tahoor Jafri
- جب نہ تب سنئے تو کرتا ہے وہ اقرار بغیرگفتگو ہم سے اسے پر نہیں انکار بغیررائے سرب سکھ دیوانہ
- دل کی جو آگ تھی کم اس کو بھی ہونے نہ دیاہم تو روتے تھے مگر آپ نے رونے نہ دیاUma Shankar Chitravanshi Bazal
- جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہکان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیںUnknown
- دوستی خواب ہے اور خواب کی تعبیر بھی ہےرشتۂ عشق بھی ہے یاد کی زنجیر بھی ہےUnknown
- شام ہوتے ہی چراغوں کو بجھا دیتا ہوںدل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لیےUnknown
- عید کے بعد وہ ملنے کے لیے آئے ہیںعید کا چاند نظر آنے لگا عید کے بعدUnknown