پہلے چنگاری سے اک شعلہ بناتا ہے مجھے

Obaidullah Siddiqui

پہلے چنگاری سے اک شعلہ بناتا ہے مجھے

پھر وہی تیز ہواؤں سے ڈراتا ہے مجھے

بین کرتے ہوئے اس رات کے سناٹے میں

دشت سے گھر کی طرف کون بلاتا ہے مجھے

گرد ہوتے ہوئے چہرے سے ملانے کے لیے

آئنہ خانے میں کوئی لئے جاتا ہے مجھے

شام ہوتی ہے تو میرا ہی فسانہ اکثر

وہ جو ٹوٹا ہوا تارا ہے سناتا ہے مجھے

ریگ صحرا سے تعلق کو بڑھا دیتا ہے

خواب میں جب بھی وہ دریا نظر آتا ہے مجھے