ہم نے خاک در محبوب جو چہرے پہ ملی
Saba Jayasiہم نے خاک در محبوب جو چہرے پہ ملی
قصۂ درد چھڑا بات سے پھر بات چلی
کس طرح سمجھوں مرا عشق ہے سرگرم سفر
راہ بیدار ہوئی ہے نہ کہیں شمع جلی
دل کو بہلائیں کہ قدموں کو سنبھالیں ہم لوگ
جب نئے موڑ پہ پہنچے ہیں تو یہ شام ڈھلی
یہ مرے نقش قدم وقت سے مٹ سکتے ہیں
اپنے سینے سے لگائے ہے جنہیں تیری گلی
ہم نے ہر تار گریباں کو بنایا دامن
تیری یادوں کو لیے باد بہاری جو چلی
مجھ کو اس برق سے بس اتنا ہی شکوہ ہے صباؔ
آشیاں جل گیا کیوں شاخ نشیمن نہ جلی