بند کمرے میں ہوں اور کوئی دریچا بھی نہیں
Parvez Bazmiبند کمرے میں ہوں اور کوئی دریچا بھی نہیں
کسی دستک کا لرزتا ہوا جھونکا بھی نہیں
تیرگی اوڑھ کے آئی ہے گھٹا کی چادر
اور فانوس کوئی آہ کا جلتا بھی نہیں
کل مرے سائے میں سستائی تھی صدیوں کی تھکن
آج وہ پیڑ ہوں جس پر کوئی پتا بھی نہیں
دھوپ کے دشت کا درپیش سفر ہے مجھ کو
ساتھ دینے کو مگر کوئی پرندہ بھی نہیں
اپنا خوں راہ میں پھیلائیں لکیروں کی طرح
آنے والے نہ کہیں نقش کف پا بھی نہیں