زہر میں بجھتی ہوئی بیل ہے دیوار کے ساتھ

Ummeed KHwaja

زہر میں بجھتی ہوئی بیل ہے دیوار کے ساتھ

جیسے اک نائکہ بیٹھی ہو گنہ گار کے ساتھ

مجھ سے ملنا ہے تو یہ قید نہیں مجھ کو پسند

ہر ملاقات مقید رہے اتوار کے ساتھ

ایک ہی وار میں مرنے سے کہیں بہتر ہے

ایک اک سر وہ جو کٹتا رہے تلوار کے ساتھ

میں نے ہر گام پہ ان لوگوں کو مرتے دیکھا

وہ جو جیتے رہے اس دور میں کردار کے ساتھ

یہ جہاں مفلس و نادار کا ہمدرد ہو کیوں

جس کے ہر کونے پہ تحریر ہے زردار کے ساتھ

کوئی شاعر مرے مرنے کی خبر لایا ہے

ایک سہہ کالمی سرخی لئے اخبار کے ساتھ

جشن خوں ناب ہے مقتل میں مغنی سے کہو

کوئی اک راگ نیا گیت ہو ملہار کے ساتھ

میں بھی اس شہر خموشاں کا ہی ساکن ہوں امیدؔ

جس کی ہر لوح پہ تحریر ہے آزار کے ساتھ