Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'

خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. اٹھنے میں درد متصل ہوں میںگرد باد غبار دل ہوں میںQalaq Meerathi (1835–1880)
  2. تیرے در پر مقام رکھتے ہیںقصد دار السلام رکھتے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  3. خط زمیں پر نہ اے فسوں گر کاٹدرد سر کاٹنا ہے تو سر کاٹQalaq Meerathi (1835–1880)
  4. دل کے ہر جزو میں جدائی ہےکیا بلا وصل کی سمائی ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
  5. راز دل دوست کو سنا بیٹھےمفت میں مدعی بنا بیٹھےQalaq Meerathi (1835–1880)
  6. کس قدر دل ربا نما ہے دلخانۂ غیر ہو گیا ہے دلQalaq Meerathi (1835–1880)
  7. کہیے کیا اور فیصلے کی باتوصل ہے اک معاملے کی باتQalaq Meerathi (1835–1880)
  8. کیا کہیں تجھ سے ہم وفا کیا ہےسوچ کچھ دل میں پوچھتا کیا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
  9. ہر عداوت کی ابتدا ہے عشقکہ محبت کی انتہا ہے عشقQalaq Meerathi (1835–1880)
  10. امن اور تیرے عہد میں ظالمکس طرح خاک رہ گزر بیٹھےQalaq Meerathi (1835–1880)
  11. دل کے ہر جزو میں جدائی ہےدرد اٹھے آبلہ اگر بیٹھےQalaq Meerathi (1835–1880)
  12. دل کو دارالسرور کہتے ہیںجلوہ گاہ حضور کہتے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  13. عشق اور عشق شعلہ ور کی آگآگ اور الفت بشر کی آگZaheer Dehlvi (1835–1911)
  14. کیوں کسی سے وفا کرے کوئیخود برے ہوں تو کیا کرے کوئیZaheer Dehlvi (1835–1911)
  15. بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آجبول کر ہم نے منہ کی کھائی آجAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  16. دل کو درد آشنا کیا تو نےدرد دل کو دوا کیا تو نےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  17. دھوم تھی اپنی پارسائی کیکی بھی اور کس سے آشنائی کیAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  18. کر کے بیمار دی دوا تو نےجان سے پہلے دل لیا تو نےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  19. ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پروہی اصرار ہے خطاؤں پرAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  20. حب وطنAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  21. کچھوا اور خرگوشIsmail Meeruthi (1844–1917)
  22. دال کی فریادIsmail Meeruthi (1844–1917)
  23. سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچہے بھلے مانسوں کا پیشہ سچIsmail Meeruthi (1844–1917)
  24. پن چکیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  25. آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موتمجھ کو تو نیند بھی نہیں آتیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  26. اس میں عکس آپ کا اتاریں گےدل کو اپنے یوں ہیں سنواریں گےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  27. حال دل میں سنا نہیں سکتالفظ معنیٰ کو پا نہیں سکتاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  28. سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوںیہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  29. وصل ہو یا فراق ہو اکبرؔجاگنا رات بھر مصیبت ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  30. آرزو بھی تو کر نہیں آتیدل میں ہے ہونٹھ پر نہیں آتیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  31. بات دل کی زبان پر آئیآفت اب میری جان پر آئیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  32. جوبن ان کا اٹھان پر کچھ ہےاب مزاج آسمان پر کچھ ہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  33. درد ہو تو دوا کرے کوئیموت ہی ہو تو کیا کرے کوئیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  34. ضد ہماری دعا سے ہوتی ہےہم سے کیا اب خدا سے ہوتی ہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  35. عشق میں دل لگی سی رہتی ہےغم بھی ہو تو خوشی سی رہتی ہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  36. غیر سے بد گمان ہو جاتےمیری سنتے تو کان ہو جاتےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  37. مجھ کو دیکھا تو ہنس کے کہتے ہیںاشک اب بے سبب بھی بہتے ہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  38. نظر آتی ہے دور کی صورتآنکھ میں ہے حضور کی صورتRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  39. کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھےاپنے دل کو فگار کر بیٹھےNazm Tabatabai (1854–1933)
  40. آپ ہیں بے گناہ کیا کہناکیا صفائی ہے واہ کیا کہناBekhud Dehlvi (1863–1955)
  41. اور ساقی پلا ابھی کیا ہےتیری سرکار میں کمی کیا ہےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  42. جو تجھے امتحان دیتا ہےکس خوشی سے وہ جان دیتا ہےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  43. ہو کے مجبور آہ کرتا ہوںتھام کر دل گناہ کرتا ہوںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  44. مجھ سے کہتے ہو کیا کہیں گے آپجو کہوں گا تو کیا سنیں گے آپPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  45. وہی ضد ان کو ہے وہی ہے ہٹان کی چاہی نہیں ہے یہ جھنجھٹPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  46. آپ ہیں محو حسن و رعنائیہم کو اپنا کیا ہے سودائیPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  47. اپنی صورت نہ جب نظر آئیشکل آوارگوں نے دکھلائیPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  48. تو نے صورت جو اپنی دکھلائیمٹ گئی ساری یہ من و مائیPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  49. جس سے تیری ہوئی ہے یکتائیاس نے وحدت سے آگہی پائیPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  50. دیکھ کر تیری عالم آرائیتیری پنہائی اور پیدائیPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)