آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت
Akbar Allahabadi (1846–1921)آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت
مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی
عاقبت میں بشر سے ہے یہ سوا
جانور کو ہنسی نہیں آتی
حال وہ پوچھتے ہیں میں ہوں خموش
کیا کہوں شاعری نہیں آتی
ہم نشیں بک کے اپنا سر نہ پھرا
رنج میں ہوں ہنسی نہیں آتی
عشق کو دل میں دے جگہ اکبرؔ
علم سے شاعری نہیں آتی