غیر سے بد گمان ہو جاتے
Riyaz Khairabadi (1853–1934)غیر سے بد گمان ہو جاتے
میری سنتے تو کان ہو جاتے
مہرباں آسمان ہو جاتے
آپ اگر مہربان ہو جاتے
میرے گھر میہمان ہو جاتے
دل میں تم آ کے جان ہو جاتے
جاتے ہم زار اس گلی میں اگر
ذرے بھی آسمان ہو جاتے
پیر فانی کو وقت بادہ کشی
ہم نے دیکھا جوان ہو جاتے
نام میرا جو بزم میں آتا
میرے لاکھوں بیان ہو جاتے
دل تو کہتا ہے لطف وصل یہ تھا
جان من میری جان ہو جاتے
کہتے تیری سی برگ گل بلبل
یہ بھی تیری زبان ہو جاتے
بوسے کیا لے کوئی تصور میں
کہ ہیں رخ پر نشان ہو جاتے
ظلم ڈھاتے جو آتے تربت پر
فرش رہ آسمان ہو جاتے
بادلوں میں جو مے بھری ہوتی
جھک کے اونچی دکان ہو جاتے
شیخ جی مے کدہ وہ جنت ہے
تم بھی جا کر جوان ہو جاتے
پاسباں تو رقیب بن جاتا
ہم ترے پاسبان ہو جاتے
ملتے کم عمر مہ جبیں جو ریاضؔ
ہم ابھی نوجوان ہو جاتے