Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع- عشق نے خوں کیا ہے دل جس کاپارۂ لعل اشک ہے تس کاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- گل رخوں نے کئے ہیں سیر کا ٹھاٹگلشن آباد کا بھرا ہے ہاٹSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- مجلس عیش گرم ہو یاربیار اگر ہووے شمع بزم طربSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- ہر طرف یار کا تماشا ہےاس کے دیدار کا تماشا ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- یک نگہ سیں لیا ہے وہ گلفامکیا خرد کیا شکیب کیا آرامSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- ایک ہم سے تجھے نہیں اخلاصگھر بہ گھر تجھ کو ہر کہیں اخلاصMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- جب نظر اس کی آن پڑتی ہےزندگی تب دھیان پڑتی ہےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- دیکھے بلبل جو یار کی صورتپھر نہ دیکھے بہار کی صورتMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- نہ جیا تیری چشم کا مارانہ تری زلف کا بندھا چھوٹاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- ایک ہی جام کو پلا ساقیعدل اور ہوش لے گیا ساقیTaban Abdul Hai (1715–1749)
- تیری آنکھیں بڑی سی پیاری ہیںان کے پھر دیکھنے کی واری ہیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- تیری مخمور چشم اے مے نوشجن نے دیکھی سو ہو گیا خاموشTaban Abdul Hai (1715–1749)
- داغ دل اپنا جب دکھاتا ہوںرشک سے شمع کو جلاتا ہوںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- یار سے اب کے گر ملوں تاباںؔتو پھر اس سے جدا نہ ہوں تاباںؔTaban Abdul Hai (1715–1749)
- جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھاتو ہی آیا نظر جدھر دیکھاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگاکہ نہ ہنستے میں رو دیا ہوگاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- دل مرا پھر دکھا دیا کن نےسو گیا تھا جگا دیا کن نےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہےیہ محبت نہیں ہے آفت ہےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- آپ جو کچھ قرار کرتے ہیںکہئے ہم اعتبار کرتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- اب تو نے گل نہ گلستاں ہے یاداسی مکھڑے کی ہر زماں ہے یادQaem Chandpuri (1722–1793)
- پاس اخلاص سخت ہے تکلیفتاکجا خاطر وضیع و شریفQaem Chandpuri (1722–1793)
- دل مرا دیکھ دیکھ جلتا ہےشمع کا کس پہ دل پگھلتا ہےQaem Chandpuri (1722–1793)
- شب جو دل بیقرار تھا کیا تھاکسی کا انتظار تھا کیا تھاQaem Chandpuri (1722–1793)
- محتسب سے صلاح کیجئے گامے کو چندے مباح کیجئے گاQaem Chandpuri (1722–1793)
- آج کل بے قرار ہیں ہم بھیبیٹھ جا چلنے ہار ہیں ہم بھیMir Taqi Mir (1723–1810)
- آرزوئیں ہزار رکھتے ہیںتو بھی ہم دل کو مار رکھتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- آہ اور اشک ہی سدا ہے یاںروز برسات کی ہوا ہے یاںMir Taqi Mir (1723–1810)
- آہ جس وقت سر اٹھاتی ہےعرش پر برچھیاں چلاتی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- اب جو اک حسرت جوانی ہےعمر رفتہ کی یہ نشانی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- اشک آنکھوں میں کب نہیں آتالوہو آتا ہے جب نہیں آتاMir Taqi Mir (1723–1810)
- بارہا گور دل جھنکا لایااب کے شرط وفا بجا لایاMir Taqi Mir (1723–1810)
- بو کہ ہو سوئے باغ نکلے ہےباؤ سے اک دماغ نکلے ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- تا بہ مقدور انتظار کیادل نے اب زور بے قرار کیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- تیر جو اس کمان سے نکلاجگر مرغ جان سے نکلاMir Taqi Mir (1723–1810)
- جب جنوں سے ہمیں توسل تھااپنی زنجیر پا ہی کا غل تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- جب سے خط ہے سیاہ خال کی تھانگتب سے لٹتی ہے ہند چاروں دانگMir Taqi Mir (1723–1810)
- جس جگہ دور جام ہوتا ہےواں یہ عاجز مدام ہوتا ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- جو کہو تم سو ہے بجا صاحبہم برے ہی سہی بھلا صاحبMir Taqi Mir (1723–1810)
- خوبرو سب کی جان ہوتے ہیںآرزوئے جہان ہوتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- خوش قداں جب سوار ہوتے ہیںسرو و قمری شکار ہوتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- دست و پا مارے وقت بسمل تکہاتھ پہنچا نہ پائے قاتل تکMir Taqi Mir (1723–1810)
- دل جو زیر غبار اکثر تھاکچھ مزاج ان دنوں مکدر تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- دل دماغ و جگر یہ سب اک بارکام آئے فراق میں اے یارMir Taqi Mir (1723–1810)
- دل گئے آفت آئی جانوں پریہ فسانہ رہا زبانوں پرMir Taqi Mir (1723–1810)
- دہر بھی میرؔ طرفہ مقتل ہےجو ہے سو کوئی دم کو فیصل ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہےیہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- ڈھب ہیں تیرے سے باغ میں گل کےبو گئی کچھ دماغ میں گل کےMir Taqi Mir (1723–1810)
- رات پیاسا تھا میرے لوہو کاہوں دوانہ ترے سگ کو کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیںساتھ اس کارواں کے ہم بھی ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھےدل نے صدمے بڑے اٹھائے تھےMir Taqi Mir (1723–1810)