Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf
خفیف مسدس مخبون محذوف- دل ہوا ہے مرا خراب سخندیکھ کر حسن بے حجاب سخنWali Dakani (1667–1707)
- چودہواں اس چندر کا سال ہواحسن میں بدر با کمال ہواFaez Dehlvi (1690–1738)
- زلف تیری ہوئی کمند مجھےاس میں باندھا ہے بند بند مجھےFaez Dehlvi (1690–1738)
- عشق میں پاس جاں نہیں ہے درستاس سخن میں گماں نہیں ہے درستShah Hatim (1699–1783)
- کن کے کہنے میں جو ہوا سو ہوارانڈ رونا نہ رو ہوا سو ہواShah Hatim (1699–1783)
- مے ہو ابر و ہوا نہیں تو نہ ہودرد ہو گر دوا نہیں تو نہ ہوShah Hatim (1699–1783)
- یار نکلا ہے آفتاب کی طرحکون سی اب رہی ہے خواب کی طرحShah Hatim (1699–1783)
- بات کر دل ستی حجاب نکالغنچۂ لب ستی گلاب نکالSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- ہجر کی آگ میں عذاب میں نہ دےمثل سیماب اضطراب نہ دےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تم سے اب کامیاب اور ہی ہےآہ ہم پر عذاب اور ہی ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیاپر اسے آہ کچھ اثر نہ کیاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- دن ہی ملئے گا یا شب آئیے گابندہ خانہ میں پھر کب آئیے گاQaem Chandpuri (1722–1793)
- کدھر ابرو کی اس کے دھاک نہیںکون اس تیغ کا ہلاک نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- کل اے آشوب نالہ آج نہیںآج ہنگامہ پر مزاج نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- گو بہ نام اک زبان رکھتی ہے شمعکب ترا سا بیان رکھتی ہے شمعQaem Chandpuri (1722–1793)
- یوں ہی رنجش ہو اور گلا بھی یوں ہیہو جے ہر بات پر خفا بھی یوں ہیQaem Chandpuri (1722–1793)
- بزم میں جو ترا ظہور نہیںشمع روشن کے منہ پہ نور نہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- جب سے اس بے وفا نے بال رکھےصید بندوں نے جال ڈال رکھےMir Taqi Mir (1723–1810)
- خوش نہ آئی تمہاری چال ہمیںیوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- دل سے شوق رخ نکو نہ گیاجھانکنا تاکنا کبھو نہ گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- گل کو محبوب ہم قیاس کیافرق نکلا بہت جو پاس کیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئےاس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئےMir Taqi Mir (1723–1810)
- یار میرا بہت ہے یار فریبمکر ہے عہد سب قرار فریبMir Taqi Mir (1723–1810)
- حال بد میں مرے بتنگ آ کرآپ کو سب میں نیک نام کیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- بے وفائی پہ تیری جی ہے فداقہر ہوتا جو باوفا ہوتاMir Taqi Mir (1723–1810)
- عشق میں جی کو صبر و تاب کہاںاس سے آنکھیں لڑیں تو خواب کہاںMir Taqi Mir (1723–1810)
- دل خدا جانے کس کے پاس رہاان دنوں جی بہت اداس رہاMir Hasan (1727–1786)
- دل مرا آج میرے پاس نہیںمجھ میں کچھ ہوش اور حواس نہیںMir Hasan (1727–1786)
- دید کی سد راہ ہے یہ مژہخار پائے نگاہ ہے یہ مژہMir Hasan (1727–1786)
- اس کے بالا ہے اب وہ کان کے بیچجس کی کھیتی ہے جھوک جان کے بیچNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- سنئے اے جاں کبھی اسیر کی عرضاپنے کوچے کے جا پذیر کی عرضNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- تن میں دم روک میں بہ دیر رکھاآؤ جی کس نے تم کو گھیر رکھاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- رات کیا کیا مجھے ملال نہ تھاخواب کا تو کہیں خیال نہ تھاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- وصل بننے کا کچھ بناؤ نہیںواں لگا دل جہاں لگاؤ نہیںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- ہے یہ گل کی اور اس کی آب میں فرقجیسے پانی میں اور گلاب میں فرقQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- اس گلی میں جو ہم کو لائے قدمپاؤں پڑتے ہی لڑکھڑائے قدمMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- پڑھ نہ اے ہم نشیں وصال کا شعرجس سے رنگیں ہو خط و خال کا شعرMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- پھر یہ کیسا ادھیڑ بن سا لگاجان غم دیدہ کو جو گھن سا لگاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- شعر کیا جس میں نوک جھوک نہ ہومرغ پھر کیا لڑے جو نوک نہ ہوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- عمر پس ماندہ کچھ دلیل سی ہےزندگانی بھی اب قلیل سی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- غم دل کا بیان چھوڑ گئےہم یہ اپنا نشان چھوڑ گئےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- منہ چھپاؤ نہ تم نقاب میں جانیوں ہی عاشق کی ہے عذاب میں جانMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- نخل لالے جا جب زمیں سے اٹھاشعلہ اک دو وجب زمیں سے اٹھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ہو چکا ناز منہ دکھائیے بسغصہ موقوف کیجے آئیے بسMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ہے تمنائے سیر باغ کسےگل سے سازش کرے دماغ کسےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ضعف آتا ہے دل کو تھام تو لوبولیو مت بھلا سلام تو لوInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- لب پہ آئی ہوئی یہ جان پھرےیار گر اس طرف کو آن پھرےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- ترک کر اپنے ننگ و نام کو ہمجاتے ہیں واں فقط سلام کو ہمInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- چاہتا ہوں تجھے نبیؐ کی قسمحضرت مرتضیٰ علی کی قسمInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- ساقی ہے گرچہ بے شمار شرابنہیں خوش تر سوائے یار شرابMah Laqa Chanda (1768–1824)