Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf

خفیف مسدس مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. دل ہوا ہے مرا خراب‌ سخندیکھ کر حسن بے حجاب سخنWali Dakani (1667–1707)
  2. چودہواں اس چندر کا سال ہواحسن میں بدر با کمال ہواFaez Dehlvi (1690–1738)
  3. زلف تیری ہوئی کمند مجھےاس میں باندھا ہے بند بند مجھےFaez Dehlvi (1690–1738)
  4. عشق میں پاس جاں نہیں ہے درستاس سخن میں گماں نہیں ہے درستShah Hatim (1699–1783)
  5. کن کے کہنے میں جو ہوا سو ہوارانڈ رونا نہ رو ہوا سو ہواShah Hatim (1699–1783)
  6. مے ہو ابر و ہوا نہیں تو نہ ہودرد ہو گر دوا نہیں تو نہ ہوShah Hatim (1699–1783)
  7. یار نکلا ہے آفتاب کی طرحکون سی اب رہی ہے خواب کی طرحShah Hatim (1699–1783)
  8. بات کر دل ستی حجاب نکالغنچۂ لب ستی گلاب نکالSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  9. ہجر کی آگ میں عذاب میں نہ دےمثل سیماب اضطراب نہ دےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  10. تم سے اب کامیاب اور ہی ہےآہ ہم پر عذاب اور ہی ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  11. ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیاپر اسے آہ کچھ اثر نہ کیاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  12. دن ہی ملئے گا یا شب آئیے گابندہ خانہ میں پھر کب آئیے گاQaem Chandpuri (1722–1793)
  13. کدھر ابرو کی اس کے دھاک نہیںکون اس تیغ کا ہلاک نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  14. کل اے آشوب نالہ آج نہیںآج ہنگامہ پر مزاج نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  15. گو بہ نام اک زبان رکھتی ہے شمعکب ترا سا بیان رکھتی ہے شمعQaem Chandpuri (1722–1793)
  16. یوں ہی رنجش ہو اور گلا بھی یوں ہیہو جے ہر بات پر خفا بھی یوں ہیQaem Chandpuri (1722–1793)
  17. بزم میں جو ترا ظہور نہیںشمع روشن کے منہ پہ نور نہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
  18. جب سے اس بے وفا نے بال رکھےصید بندوں نے جال ڈال رکھےMir Taqi Mir (1723–1810)
  19. خوش نہ آئی تمہاری چال ہمیںیوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیںMir Taqi Mir (1723–1810)
  20. دل سے شوق رخ نکو نہ گیاجھانکنا تاکنا کبھو نہ گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
  21. گل کو محبوب ہم قیاس کیافرق نکلا بہت جو پاس کیاMir Taqi Mir (1723–1810)
  22. ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئےاس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئےMir Taqi Mir (1723–1810)
  23. یار میرا بہت ہے یار فریبمکر ہے عہد سب قرار فریبMir Taqi Mir (1723–1810)
  24. حال بد میں مرے بتنگ آ کرآپ کو سب میں نیک نام کیاMir Taqi Mir (1723–1810)
  25. بے وفائی پہ تیری جی ہے فداقہر ہوتا جو باوفا ہوتاMir Taqi Mir (1723–1810)
  26. عشق میں جی کو صبر و تاب کہاںاس سے آنکھیں لڑیں تو خواب کہاںMir Taqi Mir (1723–1810)
  27. دل خدا جانے کس کے پاس رہاان دنوں جی بہت اداس رہاMir Hasan (1727–1786)
  28. دل مرا آج میرے پاس نہیںمجھ میں کچھ ہوش اور حواس نہیںMir Hasan (1727–1786)
  29. دید کی سد راہ ہے یہ مژہخار پائے نگاہ ہے یہ مژہMir Hasan (1727–1786)
  30. اس کے بالا ہے اب وہ کان کے بیچجس کی کھیتی ہے جھوک جان کے بیچNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  31. سنئے اے جاں کبھی اسیر کی عرضاپنے کوچے کے جا پذیر کی عرضNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  32. تن میں دم روک میں بہ دیر رکھاآؤ جی کس نے تم کو گھیر رکھاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  33. رات کیا کیا مجھے ملال نہ تھاخواب کا تو کہیں خیال نہ تھاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  34. وصل بننے کا کچھ بناؤ نہیںواں لگا دل جہاں لگاؤ نہیںQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  35. ہے یہ گل کی اور اس کی آب میں فرقجیسے پانی میں اور گلاب میں فرقQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  36. اس گلی میں جو ہم کو لائے قدمپاؤں پڑتے ہی لڑکھڑائے قدمMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  37. پڑھ نہ اے ہم نشیں وصال کا شعرجس سے رنگیں ہو خط و خال کا شعرMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  38. پھر یہ کیسا ادھیڑ بن سا لگاجان غم دیدہ کو جو گھن سا لگاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  39. شعر کیا جس میں نوک جھوک نہ ہومرغ پھر کیا لڑے جو نوک نہ ہوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  40. عمر پس ماندہ کچھ دلیل سی ہےزندگانی بھی اب قلیل سی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  41. غم دل کا بیان چھوڑ گئےہم یہ اپنا نشان چھوڑ گئےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  42. منہ چھپاؤ نہ تم نقاب میں جانیوں ہی عاشق کی ہے عذاب میں جانMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  43. نخل لالے جا جب زمیں سے اٹھاشعلہ اک دو وجب زمیں سے اٹھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  44. ہو چکا ناز منہ دکھائیے بسغصہ موقوف کیجے آئیے بسMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  45. ہے تمنائے سیر باغ کسےگل سے سازش کرے دماغ کسےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  46. ضعف آتا ہے دل کو تھام تو لوبولیو مت بھلا سلام تو لوInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  47. لب پہ آئی ہوئی یہ جان پھرےیار گر اس طرف کو آن پھرےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  48. ترک کر اپنے ننگ و نام کو ہمجاتے ہیں واں فقط سلام کو ہمInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  49. چاہتا ہوں تجھے نبیؐ کی قسمحضرت مرتضیٰ علی کی قسمInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  50. ساقی ہے گرچہ بے شمار شرابنہیں خوش تر سوائے یار شرابMah Laqa Chanda (1768–1824)