عشق میں پاس جاں نہیں ہے درست
Shah Hatim (1699–1783)عشق میں پاس جاں نہیں ہے درست
اس سخن میں گماں نہیں ہے درست
کسو مشرب میں اور مذہب میں
ظلم اے مہرباں نہیں ہے درست
ڈر نہ دشمن کوں کڑکڑانے میں
بانگ مرغی کے یاں نہیں ہے درست
کئی دیوان کہہ چکا حاتمؔ
اب تلک پر زباں نہیں ہے درست