Poetry
- اس جسم کی ہے پانچ عناصر سے بناوٹعقل و دل و پندار کی ساری ہے بناوٹساحر دہلوی
- بت پرستی کے صنم خانے کا آثار نہ توڑکعبۂ دل مرا مست مئے پندار نہ توڑساحر دہلوی
- ترے سوا مری ہستی کوئی جہاں میں نہیںیہ راز فاش ہے ہاں سے نہیں میں ہاں میں نہیںساحر دہلوی
- تقوے کے لئے جنت و کوثر ہوئے مخصوصرندی کے لئے شیشہ و ساغر ہوئے مخصوصساحر دہلوی
- جسد نے جان سے پوچھا کہ قلب بے ریا کیا ہےخطاب آیا کہ آئینہ میں جوہر کے سوا کیا ہےساحر دہلوی
- جلا ہے کس قدر دل ذوق کاوش ہائے مژگاں پرکہ سو سو نشتروں کی نوک ہے اک اک رگ جاں پرساحر دہلوی
- جنوں کے جوش میں جس نے محبت کو ہنر جاناسبکدوشی سمجھتا ہے وہ اس سودا میں سر جاناساحر دہلوی
- جو لا مذہب ہو اس کو ملت و مشرب سے کیا مطلبمرا مشرب ہے رندی رند کو مذہب سے کیا مطلبساحر دہلوی
- چار عنصر سے بنا ہے جسم پاکہیں یہ چاروں باد و آتش آب و خاکساحر دہلوی
- چشم مست ساقی سے دل ہوا خراب آبادمے کدہ ہے اور مستی اب تو ہرچہ بادا بادساحر دہلوی
- حوصلہ وجہ تپش ہائے دل و جاں نہ ہواشعلۂ شمع تری بزم میں رقصاں نہ ہواساحر دہلوی
- درمیان جسم و جاں ہے اک عجب صورت کی آڑمجھ کو دل کی دل کو ہے میری انانیت کی آڑساحر دہلوی
- دل کو یکسوئی نے دی ترک تعلق کی صلاحاے امید وصل جاناں کیا ہے اب تیری صلاحساحر دہلوی
- دل کی تسکین کو کافی ہے پریشاں ہوناہے توکل بخدا بے سر و ساماں ہوناساحر دہلوی
- دل ہے بحر بیکراں دل کی امنگچار موج چار سو ہے چار رنگساحر دہلوی
- دیر و حرم ہیں منظر آئین اختلافحق پر سدا نظر ہے مری حین اختلافساحر دہلوی
- رسوائے عشق میں ترا شیدا کہیں جسےعشاق میں مثال ہے رسوا کہیں جسےساحر دہلوی
- سر عرش بریں ہے زیر پائے پیر میخانہکمال اوج پر ہے حسن عالمگیر مے خانہساحر دہلوی
- صمد کو سراپا صنم دیکھتے ہیںمسمیٰ کو اسما میں ہم دیکھتے ہیںساحر دہلوی
- عیاں ہو رنگ میں اور مثل بو گل میں نہاں بھی ہوجہان جاں ہوئے گل پیرہن جان جہاں بھی ہوساحر دہلوی
- فضائے عالم قدسی میں ہے نشو و نما میریمکافات عمل سے دور ہے بیم و رجا میریساحر دہلوی
- کام اس دنیا میں آ کر ہم نے کیا اچھا کیاحسن کو بے پردہ نام عشق کو رسوا کیاساحر دہلوی
- کیف مستی میں عجب جلوۂ یکتائی تھاتو ہی تو تھا نہ تماشا نہ تماشائی تھاساحر دہلوی
- گویا زبان حال تھی ساحرؔ خموش تھایہ سعئ ضبط تھی وہ تقاضائے جوش جوش تھاساحر دہلوی
- مست نگاہ ناز کا ارماں نکالیےبے خود بنا کے بزم سے اے جاں نکالیےساحر دہلوی
- نشاں علم و ادب کا اب بھی ہے اجڑے دیاروں میںکہ سالمؔ اور مضطرؔ ہیں پرانی یاد گاروں میںساحر دہلوی
- نور ایماں سرمۂ چشم دل و جاں کیجئےپردہ دار حسن یکتا چشم حیراں کیجئےساحر دہلوی
- وجود اب مرا لا فنا ہو گیافنا ہو کے جزو بقا ہو گیاساحر دہلوی
- ہیں سات زمیں کے طبق اور سات ہیں افلاکاس راز کے محرم ہیں مگر صاحب ادراکساحر دہلوی
- اے طینت عبث اب بدی سے باز آاے حسن ارادت اپنا جلوہ دکھلاساحر دہلوی
- میں نفس پرستی سے سدا خوار رہاظلمت کدۂ غم میں گرفتار رہاساحر دہلوی
- خجلت سے مرا جاتا ہوں کیا زندہ ہوںاعمال سے اپنے سخت شرمندہ ہوںساحر دہلوی
- عالم کا وجود ہے نمود بے بودہے آب سراب اس کی ہستی کی نمودساحر دہلوی
- لازم ملزوم ہو گئے ذات و صفاتہیں شخص و وجود عکس و سایہ کا ثباتساحر دہلوی
- مردود خلائق ہوں گنہ گار ہوں میںپامال جہاں ہوں کہ سزاوار ہوں میںساحر دہلوی
- ہر سر میں یہ سودا ہے کہ میں ہی میں ہوںہر دل میں سمایا ہے کہ میں ہی میں ہوںساحر دہلوی
- یارب مرے دل کو عطا صدق و صفاہو نقش صداقت سے فنا وہم ریاساحر دہلوی