Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس جسم کی ہے پانچ عناصر سے بناوٹعقل‌ و دل و پندار کی ساری ہے بناوٹساحر دہلوی
  2. بت پرستی کے صنم خانے کا آثار نہ توڑکعبۂ دل مرا مست مئے پندار نہ توڑساحر دہلوی
  3. ترے سوا مری ہستی کوئی جہاں میں نہیںیہ راز فاش ہے ہاں سے نہیں میں ہاں میں نہیںساحر دہلوی
  4. تقوے کے لئے جنت‌ و کوثر ہوئے مخصوصرندی کے لئے شیشہ و ساغر ہوئے مخصوصساحر دہلوی
  5. جسد نے جان سے پوچھا کہ قلب بے ریا کیا ہےخطاب آیا کہ آئینہ میں جوہر کے سوا کیا ہےساحر دہلوی
  6. جلا ہے کس قدر دل ذوق کاوش ہائے مژگاں پرکہ سو سو نشتروں کی نوک ہے اک اک رگ جاں پرساحر دہلوی
  7. جنوں کے جوش میں جس نے محبت کو ہنر جاناسبکدوشی سمجھتا ہے وہ اس سودا میں سر جاناساحر دہلوی
  8. جو لا مذہب ہو اس کو ملت و مشرب سے کیا مطلبمرا مشرب ہے رندی رند کو مذہب سے کیا مطلبساحر دہلوی
  9. چار عنصر سے بنا ہے جسم پاکہیں یہ چاروں باد و آتش آب و خاکساحر دہلوی
  10. چشم مست ساقی سے دل ہوا خراب آبادمے کدہ ہے اور مستی اب تو ہرچہ بادا بادساحر دہلوی
  11. حوصلہ وجہ تپش ہائے دل و جاں نہ ہواشعلۂ شمع تری بزم میں رقصاں نہ ہواساحر دہلوی
  12. درمیان جسم و جاں ہے اک عجب صورت کی آڑمجھ کو دل کی دل کو ہے میری انانیت کی آڑساحر دہلوی
  13. دل کو یکسوئی نے دی ترک تعلق کی صلاحاے امید وصل جاناں کیا ہے اب تیری صلاحساحر دہلوی
  14. دل کی تسکین کو کافی ہے پریشاں ہوناہے توکل بخدا بے سر و ساماں ہوناساحر دہلوی
  15. دل ہے بحر بیکراں دل کی امنگچار موج چار سو ہے چار رنگساحر دہلوی
  16. دیر و حرم ہیں منظر آئین‌ اختلافحق پر سدا نظر ہے مری حین‌ اختلافساحر دہلوی
  17. رسوائے عشق میں ترا شیدا کہیں جسےعشاق میں مثال ہے رسوا کہیں جسےساحر دہلوی
  18. سر عرش بریں ہے زیر پائے‌ پیر میخانہکمال اوج پر ہے حسن عالمگیر مے خانہساحر دہلوی
  19. صمد کو سراپا صنم دیکھتے ہیںمسمیٰ کو اسما میں ہم دیکھتے ہیںساحر دہلوی
  20. عیاں ہو رنگ میں اور مثل بو گل میں نہاں بھی ہوجہان جاں ہوئے گل پیرہن جان جہاں بھی ہوساحر دہلوی
  21. فضائے عالم قدسی میں ہے نشو و نما میریمکافات عمل سے دور ہے بیم و رجا میریساحر دہلوی
  22. کام اس دنیا میں آ کر ہم نے کیا اچھا کیاحسن کو بے پردہ نام عشق کو رسوا کیاساحر دہلوی
  23. کیف مستی میں عجب جلوۂ یکتائی تھاتو ہی تو تھا نہ تماشا نہ تماشائی تھاساحر دہلوی
  24. گویا زبان حال تھی ساحرؔ خموش تھایہ سعئ ضبط تھی وہ تقاضائے جوش جوش تھاساحر دہلوی
  25. مست نگاہ ناز کا ارماں نکالیےبے خود بنا کے بزم سے اے جاں نکالیےساحر دہلوی
  26. نشاں علم و ادب کا اب بھی ہے اجڑے دیاروں میںکہ سالمؔ اور مضطرؔ ہیں پرانی یاد گاروں میںساحر دہلوی
  27. نور ایماں سرمۂ چشم دل و جاں کیجئےپردہ‌ دار حسن یکتا چشم حیراں کیجئےساحر دہلوی
  28. وجود اب مرا لا فنا ہو گیافنا ہو کے جزو بقا ہو گیاساحر دہلوی
  29. ہیں سات زمیں کے طبق اور سات ہیں افلاکاس راز کے محرم ہیں مگر صاحب ادراکساحر دہلوی
  30. اے طینت عبث اب بدی سے باز آاے حسن ارادت اپنا جلوہ دکھلاساحر دہلوی
  31. میں نفس پرستی سے سدا خوار رہاظلمت کدۂ غم میں گرفتار رہاساحر دہلوی
  32. خجلت سے مرا جاتا ہوں کیا زندہ ہوںاعمال سے اپنے سخت شرمندہ ہوںساحر دہلوی
  33. عالم کا وجود ہے نمود بے بودہے آب سراب اس کی ہستی کی نمودساحر دہلوی
  34. لازم ملزوم ہو گئے ذات و صفاتہیں شخص و وجود عکس و سایہ کا ثباتساحر دہلوی
  35. مردود خلائق ہوں گنہ گار ہوں میںپامال جہاں ہوں کہ سزاوار ہوں میںساحر دہلوی
  36. ہر سر میں یہ سودا ہے کہ میں ہی میں ہوںہر دل میں سمایا ہے کہ میں ہی میں ہوںساحر دہلوی
  37. یارب مرے دل کو عطا صدق و صفاہو نقش صداقت سے فنا وہم ریاساحر دہلوی