Poetry
- ابر ساں ہر چند رکھا چشم کو پر آب ہمکر سکے پر کشت الفت کا نہیں شاداب ہمقاسم علی خان آفریدی
- اپنے جانان کو اے جان اسی جان میں ڈھونڈڈھونڈ مت اور جگہ پر دل حیران میں ڈھونڈقاسم علی خان آفریدی
- اس ارض کے تختہ پر سنسار ہے اور میں ہوںموہوم ہوا تو کیا پر یار ہے اور میں ہوںقاسم علی خان آفریدی
- اگر شمع ہوئے تو گل گئے ہمجو پروانہ ہوئے تو جل گئے ہمقاسم علی خان آفریدی
- اے دل اب عشق کی لے گوئی اور چوگان میں آبے خطر ٹھوک کے خم جنگ کے سامان میں آقاسم علی خان آفریدی
- بندہ پرور جو نہ پچھتائیے گابندہ خانہ پہ کبھی آئیے گاقاسم علی خان آفریدی
- پارسا تو پارسائی پر نہ کر اتنا غرورمیں اگر بندہ ہوں عاصی پر مرا مولیٰ غفورقاسم علی خان آفریدی
- پھیر روز فراق یار آیانامہ بر آہ زار زار آیاقاسم علی خان آفریدی
- جب کسی نے آن کر دل سے مرے پرخاش کیبات تب عاشق گری کی میں جہاں میں فاش کیقاسم علی خان آفریدی
- جتا نہ میرے تئیں اپنا تو ہنر واعظتو اپنے فعل سے منہ اپنا خاک بھر واعظقاسم علی خان آفریدی
- جو میرا لے گیا دل کون وہ انسان ہے کیا ہےپری ہے یا ملک یا حور یا غلمان ہے کیا ہےقاسم علی خان آفریدی
- جی رہے یا نہ رہے ہر قدم یار نہ چھوڑاے پتنگے تو کبھی شمع کا انوار نہ چھوڑقاسم علی خان آفریدی
- درد دل کا کسے کروں اظہارغم ہجرت بہ جان من بسیارقاسم علی خان آفریدی
- عاشق سوختہ دل خط صنم دونوں ایکجس طرح سنیے جدا شادی و غم دونوں ایکقاسم علی خان آفریدی
- عشق کی کوئی اگر سیکھ لے گر مجھ سے تمیزدین دنیا میں ہوا اپنے پرایوں کو عزیزقاسم علی خان آفریدی
- کچھ اپنے کام نہیں آوے جام جم کی کتابکفایت اپنے کو بس ایک اپنے غم کی کتابقاسم علی خان آفریدی
- کفر عشق آیا بدل مجھ مومن دیں دار تکنوبت با صندل و قشقہ ہے بل زنار تکقاسم علی خان آفریدی
- کہاں کا ننگ رہا اور اور کہاں رہا ناموسالجھ گئی جو محبت میں دختر طیموسقاسم علی خان آفریدی
- کیا فروغ بزم اس مہ رو کا شب صد رنگ تھاشمع نہیں شرمندہ اور مہ دیکھ رخ کو دنگ تھاقاسم علی خان آفریدی
- ماتم رنج و الم غم ہیں بہم چاروں ایکستم و جور جفا ناز و صنم چاروں ایکقاسم علی خان آفریدی
- مثل سرمد طالب حق بیں اگر سرداد داددیکھ لے منصور نے جی دار پر استاد دادقاسم علی خان آفریدی
- محبت ماسوا کی جس نے کی گوری کلوٹی کییقیں کیجو کہ کافر ہو کے اپنی راہ کھوٹی کیقاسم علی خان آفریدی
- ہم نہ محظوظ ہوئے ہیں کسی شے سے ایسےجیسے مسرور ہیں پینے ستے مے سے ایسےقاسم علی خان آفریدی
- ہم نے تو اجاڑ اور بستی دیکھیدنیا کی سبھی بلند اور پستی دیکھیقاسم علی خان آفریدی
- یہ مشت خاک اپنے کو جہاں چاہے تہاں لے جاپر اس عالم کو اس عالم سے مت بار گراں لے جاقاسم علی خان آفریدی
- جس طرح کوچے میں تیرے پھرتے ہیں ہم بر طرفاے ستم گاری ہماری طرز ہیں کم بر طرفقاسم علی خان آفریدی
- خط آزادی لکھا تھا شوخ نے فردا غلطدل میں رکھتا اور کچھ ظاہر لکھا انشا غلطقاسم علی خان آفریدی
- رکھتا ہے اپنے حسن پر وہ دل ربا گھمنڈجیسے عبادت اپنے اوپر پارسا گھمنڈقاسم علی خان آفریدی
- کسی کا راغ مطالب کسی کا باغ مرادعوام خلق کو منظور ہے چراغ مرادقاسم علی خان آفریدی
- مجھ کو تو شراب سے مستی ہے اورتن قید کے چھوٹنے سے ہستی ہے اورقاسم علی خان آفریدی
- پانچ دن کو جو یہاں پر آ گیامثل گل دو روز میں کمھلا گیاقاسم علی خان آفریدی
- فاسق جو اگر عاشق دیوانہ ہوا تو کیادنیا کے مطالب کو فرزانہ ہوا تو کیاقاسم علی خان آفریدی