Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ابر ساں ہر چند رکھا چشم کو پر آب ہمکر سکے پر کشت الفت کا نہیں شاداب ہمقاسم علی خان آفریدی
  2. اپنے جانان کو اے جان اسی جان میں ڈھونڈڈھونڈ مت اور جگہ پر دل حیران میں ڈھونڈقاسم علی خان آفریدی
  3. اس ارض کے تختہ پر سنسار ہے اور میں ہوںموہوم ہوا تو کیا پر یار ہے اور میں ہوںقاسم علی خان آفریدی
  4. اگر شمع ہوئے تو گل گئے ہمجو پروانہ ہوئے تو جل گئے ہمقاسم علی خان آفریدی
  5. اے دل اب عشق کی لے گوئی اور چوگان میں آبے خطر ٹھوک کے خم جنگ کے سامان میں آقاسم علی خان آفریدی
  6. بندہ پرور جو نہ پچھتائیے گابندہ خانہ پہ کبھی آئیے گاقاسم علی خان آفریدی
  7. پارسا تو پارسائی پر نہ کر اتنا غرورمیں اگر بندہ ہوں عاصی پر مرا مولیٰ غفورقاسم علی خان آفریدی
  8. پھیر روز فراق یار آیانامہ بر آہ زار زار آیاقاسم علی خان آفریدی
  9. جب کسی نے آن کر دل سے مرے پرخاش کیبات تب عاشق گری کی میں جہاں میں فاش کیقاسم علی خان آفریدی
  10. جتا نہ میرے تئیں اپنا تو ہنر واعظتو اپنے فعل سے منہ اپنا خاک بھر واعظقاسم علی خان آفریدی
  11. جو میرا لے گیا دل کون وہ انسان ہے کیا ہےپری ہے یا ملک یا حور یا غلمان ہے کیا ہےقاسم علی خان آفریدی
  12. جی رہے یا نہ رہے ہر قدم یار نہ چھوڑاے پتنگے تو کبھی شمع کا انوار نہ چھوڑقاسم علی خان آفریدی
  13. درد دل کا کسے کروں اظہارغم ہجرت بہ جان من بسیارقاسم علی خان آفریدی
  14. عاشق سوختہ دل خط صنم دونوں ایکجس طرح سنیے جدا شادی و غم دونوں ایکقاسم علی خان آفریدی
  15. عشق کی کوئی اگر سیکھ لے گر مجھ سے تمیزدین دنیا میں ہوا اپنے پرایوں کو عزیزقاسم علی خان آفریدی
  16. کچھ اپنے کام نہیں آوے جام جم کی کتابکفایت اپنے کو بس ایک اپنے غم کی کتابقاسم علی خان آفریدی
  17. کفر عشق آیا بدل مجھ مومن دیں دار تکنوبت با صندل و قشقہ ہے بل زنار تکقاسم علی خان آفریدی
  18. کہاں کا ننگ رہا اور اور کہاں رہا ناموسالجھ گئی جو محبت میں دختر طیموسقاسم علی خان آفریدی
  19. کیا فروغ بزم اس مہ رو کا شب صد رنگ تھاشمع نہیں شرمندہ اور مہ دیکھ رخ کو دنگ تھاقاسم علی خان آفریدی
  20. ماتم رنج و الم غم ہیں بہم چاروں ایکستم و جور جفا ناز و صنم چاروں ایکقاسم علی خان آفریدی
  21. مثل سرمد طالب حق بیں اگر سرداد داددیکھ لے منصور نے جی دار پر استاد دادقاسم علی خان آفریدی
  22. محبت ماسوا کی جس نے کی گوری کلوٹی کییقیں کیجو کہ کافر ہو کے اپنی راہ کھوٹی کیقاسم علی خان آفریدی
  23. ہم نہ محظوظ ہوئے ہیں کسی شے سے ایسےجیسے مسرور ہیں پینے ستے مے سے ایسےقاسم علی خان آفریدی
  24. ہم نے تو اجاڑ اور بستی دیکھیدنیا کی سبھی بلند اور پستی دیکھیقاسم علی خان آفریدی
  25. یہ مشت خاک اپنے کو جہاں چاہے تہاں لے جاپر اس عالم کو اس عالم سے مت بار گراں لے جاقاسم علی خان آفریدی
  26. جس طرح کوچے میں تیرے پھرتے ہیں ہم بر طرفاے ستم گاری ہماری طرز ہیں کم بر طرفقاسم علی خان آفریدی
  27. خط آزادی لکھا تھا شوخ نے فردا غلطدل میں رکھتا اور کچھ ظاہر لکھا انشا غلطقاسم علی خان آفریدی
  28. رکھتا ہے اپنے حسن پر وہ دل ربا گھمنڈجیسے عبادت اپنے اوپر پارسا گھمنڈقاسم علی خان آفریدی
  29. کسی کا راغ مطالب کسی کا باغ مرادعوام خلق کو منظور ہے چراغ مرادقاسم علی خان آفریدی
  30. مجھ کو تو شراب سے مستی ہے اورتن قید کے چھوٹنے سے ہستی ہے اورقاسم علی خان آفریدی
  31. پانچ دن کو جو یہاں پر آ گیامثل گل دو روز میں کمھلا گیاقاسم علی خان آفریدی
  32. فاسق جو اگر عاشق دیوانہ ہوا تو کیادنیا کے مطالب کو فرزانہ ہوا تو کیاقاسم علی خان آفریدی