اے دل اب عشق کی لے گوئی اور چوگان میں آ

قاسم علی خان آفریدی

اے دل اب عشق کی لے گوئی اور چوگان میں آ

بے خطر ٹھوک کے خم جنگ کے سامان میں آ

خوف غماز رقیبوں کا نہ کر کچھ ہرگز

ہو کے راضی بہ رضا وقت ہے میدان میں آ

فرصت اس وقت غنیمت ہے نکل ظلمت سے

سلجھ کر زلف سے رخسار درخشان میں آ

گل رخسارہ کا نظارہ تو کر آنکھیں کھول

انگبیں چکھنے کو پھر دل لب خندان میں آ

بعد اس کے جو اگر سمجھے مناسب اے دل

قید ہونے کے تئیں چاہ زنخدان میں آ

ہرزہ پھرنے سے ترے گوشہ نشینی بہتر

وہم و شک اور گماں چھوڑ کے ایقان میں آ

وصل و ہجرت کے تئیں ایک سمجھ افریدیؔ

عقل ہے کچھ بھی اگر صحبت رندان میں آ