Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گیوہ تو وہ ان کے فرشتوں کو خبر ہو جائے گیQamar Jalalvi (1887–1968)
  2. اب تو منہ سے بول مجھ کو دیکھ دن بھر ہو گیااے بت خاموش کیا سچ مچ کا پتھر ہو گیاQamar Jalalvi (1887–1968)
  3. اب کیسے رفو پیراہن ہو اس آوارہ دیوانے کاکیا جانے گریباں ہوگا کہاں دامن سے بڑا ویرانے کاQamar Jalalvi (1887–1968)
  4. اگر چھوٹا بھی اس سے آئنہ خانہ تو کیا ہوگاوہ الجھے ہی رہیں گے زلف میں شانہ تو کیا ہوگاQamar Jalalvi (1887–1968)
  5. ان کی طرف سے ترک ملاقات ہو گئیہم جس سے ڈر رہے تھے وہی بات ہو گئیQamar Jalalvi (1887–1968)
  6. اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیںبات ہوتی گلوں تک تو سہہ لیتے ہم اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
  7. بارش میں عہد توڑ کے گر مے کشی ہوئیتوبہ مری پھرے گی کہاں بھیگتی ہوئیQamar Jalalvi (1887–1968)
  8. باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرحپھول کی طرح ہنسے رو دئے شبنم کی طرحQamar Jalalvi (1887–1968)
  9. بجز تمہارے کسی سے کوئی سوال نہیںکہ جیسے سارے زمانے سے بول چال نہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
  10. پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کیگرمی تو دیکھو ڈوبے ہوئے آفتاب کیQamar Jalalvi (1887–1968)
  11. تجھے کیا ناصحا احباب خود سمجھائے جاتے ہیںادھر تو کھائے جاتا ہے ادھر وہ کھائے جاتے ہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
  12. ترے نثار نہ دیکھی کوئی خوشی میں نےکہ اب تو موت کو سمجھا ہے زندگی میں نےQamar Jalalvi (1887–1968)
  13. تم اپنی یاد سے کہہ دو نہ جائے چھوڑ کے دلکہ درد ہجر نہ رکھ دے کہیں مروڑ کے دلQamar Jalalvi (1887–1968)
  14. تم کو ہم خاک نشینوں کا خیال آنے تکشہر تو شہر بدل جائیں گے ویرانے تکQamar Jalalvi (1887–1968)
  15. توبہ کیجے اب فریب دوستی کھائیں گے کیاآج تک پچھتا رہے ہیں اور پچھتائیں گے کیاQamar Jalalvi (1887–1968)
  16. چھوڑ کر گھر بار اپنا حسرت دیدار میںاک تماشہ بن کے آ بیٹھا ہوں کوئے یار میںQamar Jalalvi (1887–1968)
  17. حسن کب عشق کا ممنون وفا ہوتا ہےلاکھ پروانہ مرے شمع پہ کیا ہوتا ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
  18. دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لئے ہوئےدل کو ہے درد درد کو ہے دل لئے ہوئےQamar Jalalvi (1887–1968)
  19. دہائی ہے تری تو لے خبر او لا مکاں والےچمن میں رو رہے ہیں آشیاں کو آشیاں والےQamar Jalalvi (1887–1968)
  20. دیکھتے ہیں رقص میں دن رات پیمانے کو ہمساقیا راس آ گئے ہیں تیرے مے خانے کو ہمQamar Jalalvi (1887–1968)
  21. دیکھیے ہو گئی بد نام مسیحائی بھیہم نہ کہتے تھے کہ ٹلتی ہے کہیں آئی بھیQamar Jalalvi (1887–1968)
  22. راز دل کیوں نہ کہوں سامنے دیوانوں کےیہ تو وہ لوگ ہیں اپنوں کے نہ بیگانوں کےQamar Jalalvi (1887–1968)
  23. سجدے ترے کہنے سے میں کر لوں بھی تو کیا ہوتو اے بت کافر نہ خدا ہے نہ خدا ہوQamar Jalalvi (1887–1968)
  24. سرخیاں کیوں ڈھونڈھ کر لاؤں فسانے کے لئےبس تمہارا نام کافی ہے زمانے کے لئےQamar Jalalvi (1887–1968)
  25. سوال چھوڑ کہ حالت یہ کیوں بنائی ہےاسے نہ سن جو کہانی سنی سنائی ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
  26. سوز غم فراق سے دل کو بچائے کونظالم تری لگائی ہوئی کو بجھائے کونQamar Jalalvi (1887–1968)
  27. شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیںاور بھی بیٹھے ہیں محفل میں ہمیں تم تو نہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
  28. کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیںغنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
  29. کبھی جو آنکھ پہ گیسوئے یار ہوتا ہےشراب خانے پہ ابر بہار ہوتا ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
  30. کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کونہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کوQamar Jalalvi (1887–1968)
  31. کرتے بھی کیا حضور نہ جب اپنے گھر ملےدشمن سے ہم کبھی نہ ملے تھے مگر ملےQamar Jalalvi (1887–1968)
  32. کسی صورت سحر نہیں ہوتیرات ادھر سے ادھر نہیں ہوتیQamar Jalalvi (1887–1968)
  33. کسی کا نام لو بے نام افسانے بہت سے ہیںنہ جانے کس کو تم کہتے ہو دیوانے بہت سے ہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
  34. کون سے تھے وہ تمہارے عہد جو ٹوٹے نہ تھےخیر ان باتوں میں کیا رکھا ہے تم جھوٹے نہ تھےQamar Jalalvi (1887–1968)
  35. لحد اور حشر میں یہ فرق کم پائے نہیں جاتےیہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتےQamar Jalalvi (1887–1968)
  36. مجھے باغباں سے گلہ یہ ہے کہ چمن سے بے خبری رہیکہ ہے نخل گل کا تو ذکر کیا کوئی شاخ تک نہ ہری رہیQamar Jalalvi (1887–1968)
  37. مرا خاموش رہ کر بھی انہیں سب کچھ سنا دینازباں سے کچھ نہ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دیناQamar Jalalvi (1887–1968)
  38. مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتےمگر ذکر شام الم کا جب آیا چراغ سحر بجھ گیا جلتے جلتےQamar Jalalvi (1887–1968)
  39. موسیٰ سمجھے تھے ارماں نکل جائے گایہ خبر ہی نہ تھی طور جل جائے گاQamar Jalalvi (1887–1968)
  40. نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالےکہو کوئی کیسے محبت چھپا لےQamar Jalalvi (1887–1968)
  41. وہ آغاز محبت کا زمانہذرا سی بات بنتی تھی فسانہQamar Jalalvi (1887–1968)
  42. ہٹی زلف ان کے چہرے سے مگر آہستہ آہستہعیاں سورج ہوا وقت سحر آہستہ آہستہQamar Jalalvi (1887–1968)
  43. یوں تمہارے ناتوان شوق منزل بھر چلےکھائی ٹھوکر گر پڑے گر کر اٹھے اٹھ کر چلےQamar Jalalvi (1887–1968)
  44. یہ درد ہجر اور اس پر سحر نہیں ہوتیکہیں ادھر کی تو دنیا ادھر نہیں ہوتیQamar Jalalvi (1887–1968)
  45. یہ رستے میں کس سے ملاقات کر لیکہاں رہ گئے تھے بڑی رات کر لیQamar Jalalvi (1887–1968)
  46. یہ روز حشر کا اور شکوۂ وفا کے لئےخدا کے سامنے تو چپ رہو خدا کے لئےQamar Jalalvi (1887–1968)
  47. آئیں ہیں وہ مزار پہ گھونگھٹ اتار کےمجھ سے نصیب اچھے ہے میرے مزار کےQamar Jalalvi (1887–1968)
  48. ابھی باقی ہیں پتوں پر جلے تنکوں کی تحریریںیہ وہ تاریخ ہے بجلی گری تھی جب گلستاں پرQamar Jalalvi (1887–1968)
  49. اس لئے آرزو چھپائی ہےمنہ سے نکلی ہوئی پرائی ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
  50. اگر آ جائے پہلو میں قمرؔ وہ ماہ کامل بھیدو عالم جگمگا اٹھیں گے دوہری چاندنی ہوگیQamar Jalalvi (1887–1968)