Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئیآپ منہ پھیر کے بیٹھے ہیں یہ کیا بات ہوئیQaisarul Jafri (1926–2005)
  2. اتنا سناٹا ہے بستی میں کہ ڈر جائے گاچاند نکلا بھی تو چپ چاپ گزر جائے گاQaisarul Jafri (1926–2005)
  3. اس دور کی پلکوں پہ ہیں آنسو کی طرح ہمکچھ دیر میں اڑ جائیں گے خوشبو کی طرح ہمQaisarul Jafri (1926–2005)
  4. بجتے ہوئے گھنگھرو تھے اڑتی ہوئی تانیں تھیںپہلے انہی گلیوں میں نغموں کی دکانیں تھیںQaisarul Jafri (1926–2005)
  5. برسوں کے رت جگوں کی تھکن کھا گئی مجھےسورج نکل رہا تھا کہ نیند آ گئی مجھےQaisarul Jafri (1926–2005)
  6. بستی میں ہے وہ سناٹا جنگل مات لگےشام ڈھلے بھی گھر پہنچوں تو آدھی رات لگےQaisarul Jafri (1926–2005)
  7. پہلے ذرا محاسبۂ ذات بھی تو ہودنیا پڑی ہے گھر سے شروعات بھی تو ہوQaisarul Jafri (1926–2005)
  8. پھر مرے سر پہ کڑی دھوپ کی بوچھار گریمیں جہاں جا کے چھپا تھا وہیں دیوار گریQaisarul Jafri (1926–2005)
  9. تری بے وفائی کے بعد بھی مرے دل کا پیار نہیں گیاشب انتظار گزر گئی غم انتظار نہیں گیاQaisarul Jafri (1926–2005)
  10. تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہواپھر اس کے بعد نہ آنا ہوا نہ جانا ہواQaisarul Jafri (1926–2005)
  11. تم سے بچھڑ گئے تو کسی سے ملے نہ ہممل بھی لئے کسی سے تو جی سے ملے نہ ہمQaisarul Jafri (1926–2005)
  12. تم سے دو حرف کا خط بھی نہیں لکھا جاتاجاؤ اب یوں بھی تعلق نہیں توڑا جاتاQaisarul Jafri (1926–2005)
  13. تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگےمیں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگےQaisarul Jafri (1926–2005)
  14. تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کراگر وفا کا ارادہ نہیں تو ہاں مت کرQaisarul Jafri (1926–2005)
  15. ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتیاب رو کے بھی آنکھوں کی جلن کم نہیں ہوتیQaisarul Jafri (1926–2005)
  16. جہاں دھواں تھا وہیں روشنی کے داغ بھی تھےمرے مکان کے ملبے میں کچھ چراغ بھی تھےQaisarul Jafri (1926–2005)
  17. چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھامیں نے اک بار ترا نام سنا تھا کیا تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
  18. خوابوں کے کسی موڑ پہ دیکھا سا لگے ہےاپنا نہ سہی پھر بھی وہ اپنا سا لگے ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  19. خیال و خواب بن کے میرے ذہن سے لپٹ گئےوہ اتنی دور ہو گئے کہ فاصلے سمٹ گئےQaisarul Jafri (1926–2005)
  20. دانشوروں کے بس میں یہ رد عمل نہ تھامیں ایسی تیغ لے کے اٹھا جس میں پھل نہ تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
  21. دشت تنہائی میں کل رات ہوا کیسی تھیدیر تک ٹوٹتے لمحوں کی صدا کیسی تھیQaisarul Jafri (1926–2005)
  22. دل بے تب و تاب ہو گیا ہےآئینہ خراب ہو گیا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  23. دن کی بے درد تھکن چہرے پہ لے کر مت جابام و در جاگ رہے ہوں گے ابھی گھر مت جاQaisarul Jafri (1926–2005)
  24. دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہےہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  25. ڈوبنے والو ہواؤں کا ہنر کیسا لگایہ کنارا یہ سمندر یہ بھنور کیسا لگاQaisarul Jafri (1926–2005)
  26. ذہن میں کون سے آسیب کا ڈر باندھ لیاتم نے پوچھا بھی نہیں رخت سفر باندھ لیاQaisarul Jafri (1926–2005)
  27. زخموں کو مرہم کہتا ہوں قاتل کو مسیحا کہتا ہوںجو دل پر گزرا کرتی ہے میں پردا پردا کہتا ہوںQaisarul Jafri (1926–2005)
  28. زلف گھٹا بن کر رہ جائے آنکھ کنول ہو جائےشاید ان کو پل بھر سوچیں اور غزل ہو جائےQaisarul Jafri (1926–2005)
  29. ساری دنیا کے تعلق سے جو سوچا جاتاآدمی اتنے قبیلوں میں نہ بانٹا جاتاQaisarul Jafri (1926–2005)
  30. صدیوں طویل رات کے زانو سے سر اٹھاسورج افق سے جھانک رہا ہے نظر اٹھاQaisarul Jafri (1926–2005)
  31. عذاب سا ہے دل نامراد پر کب سےکھڑا ہوں میں روش گرد باد پر کب سےQaisarul Jafri (1926–2005)
  32. عہد جنوں میں بیٹھے بیٹھے جو غزلیں لکھ ڈالی تھیںہم کو رسوا دنیا بھر کو پاگل کرنے والی تھیںQaisarul Jafri (1926–2005)
  33. کاغذ کاغذ دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گاجس دن سوکھے دل کے آنسو سب پتھر ہو جائے گاQaisarul Jafri (1926–2005)
  34. گھر بسا کر بھی مسافر کے مسافر ٹھہرےلوگ دروازوں سے نکلے کہ مہاجر ٹھہرےQaisarul Jafri (1926–2005)
  35. مجھے کوئی کیوں سمیٹے مری روشنی میں کیا ہےوہ چراغ رہ گزر ہوں جو پس سحر جلا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  36. مرے ساتھ چلتے چلتے یہ کہاں ٹھہر گئے تمشب غم کٹے گی کیسے جو ابھی سے ڈر گئے تمQaisarul Jafri (1926–2005)
  37. مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرناجہاں کہا تھا وہاں انتظار مت کرناQaisarul Jafri (1926–2005)
  38. منتشر ذہن کی سوچوں کو اکٹھا کر دوتم جو آ جاؤ تو شاید مجھے تنہا کر دوQaisarul Jafri (1926–2005)
  39. میں پچھلی رات کیا جانے کہاں تھادعاؤں کا بھی لہجہ بے زباں تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
  40. نہ سوال جام نہ ذکر مے اسی بانکپن سے چلے گئےترا ظرف دیکھ کے تشنہ لب تری انجمن سے چلے گئےQaisarul Jafri (1926–2005)
  41. وہی شکست سفر کا نشاں ہے چہرے پربہت غبار پس کارواں ہے چہرے پرQaisarul Jafri (1926–2005)
  42. ہم بھی اپنے شہر میں یارو پھرتے تھے فرہاد بنےکیا کیا عشق رچایا برسوں لکھیں تو روداد بنےQaisarul Jafri (1926–2005)
  43. ہم نے لکھے تھے ہواؤں میں فسانے اپنےاڑ گئے ایک ہی جھونکے میں زمانے اپنےQaisarul Jafri (1926–2005)
  44. ہم وقت کے الاؤ میں برسوں جلے میاںلو دل کی راکھ چھوڑ کے ہم بھی چلے میاںQaisarul Jafri (1926–2005)
  45. ہوا بہت ہے متاع سفر سنبھال کے رکھدریدہ چادر جاں ہے مگر سنبھال کے رکھQaisarul Jafri (1926–2005)
  46. یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوںکوئی دیکھے تو یہ سمجھے کہ پئے بیٹھا ہوںQaisarul Jafri (1926–2005)
  47. یہ خواب جو ہم سفر ہیں میرےقاتل ہیں کہ چارہ گر ہیں میرےQaisarul Jafri (1926–2005)
  48. یہ زندگی ہے کہ آسیب کا سفر ہے میاںچراغ لے کے نکلنا بڑا ہنر ہے میاںQaisarul Jafri (1926–2005)
  49. آج تو دفعتاً سامنے آ گئیتیری رفتار باد صبا کی طرحQaisarul Jafri (1926–2005)
  50. آئیں گے اک دن پردیس والےاے گاؤں تھوڑے آنسو بچا لےQaisarul Jafri (1926–2005)