Poetry
- آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئیآپ منہ پھیر کے بیٹھے ہیں یہ کیا بات ہوئیQaisarul Jafri (1926–2005)
- اتنا سناٹا ہے بستی میں کہ ڈر جائے گاچاند نکلا بھی تو چپ چاپ گزر جائے گاQaisarul Jafri (1926–2005)
- اس دور کی پلکوں پہ ہیں آنسو کی طرح ہمکچھ دیر میں اڑ جائیں گے خوشبو کی طرح ہمQaisarul Jafri (1926–2005)
- بجتے ہوئے گھنگھرو تھے اڑتی ہوئی تانیں تھیںپہلے انہی گلیوں میں نغموں کی دکانیں تھیںQaisarul Jafri (1926–2005)
- برسوں کے رت جگوں کی تھکن کھا گئی مجھےسورج نکل رہا تھا کہ نیند آ گئی مجھےQaisarul Jafri (1926–2005)
- بستی میں ہے وہ سناٹا جنگل مات لگےشام ڈھلے بھی گھر پہنچوں تو آدھی رات لگےQaisarul Jafri (1926–2005)
- پہلے ذرا محاسبۂ ذات بھی تو ہودنیا پڑی ہے گھر سے شروعات بھی تو ہوQaisarul Jafri (1926–2005)
- پھر مرے سر پہ کڑی دھوپ کی بوچھار گریمیں جہاں جا کے چھپا تھا وہیں دیوار گریQaisarul Jafri (1926–2005)
- تری بے وفائی کے بعد بھی مرے دل کا پیار نہیں گیاشب انتظار گزر گئی غم انتظار نہیں گیاQaisarul Jafri (1926–2005)
- تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہواپھر اس کے بعد نہ آنا ہوا نہ جانا ہواQaisarul Jafri (1926–2005)
- تم سے بچھڑ گئے تو کسی سے ملے نہ ہممل بھی لئے کسی سے تو جی سے ملے نہ ہمQaisarul Jafri (1926–2005)
- تم سے دو حرف کا خط بھی نہیں لکھا جاتاجاؤ اب یوں بھی تعلق نہیں توڑا جاتاQaisarul Jafri (1926–2005)
- تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگےمیں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگےQaisarul Jafri (1926–2005)
- تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کراگر وفا کا ارادہ نہیں تو ہاں مت کرQaisarul Jafri (1926–2005)
- ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتیاب رو کے بھی آنکھوں کی جلن کم نہیں ہوتیQaisarul Jafri (1926–2005)
- جہاں دھواں تھا وہیں روشنی کے داغ بھی تھےمرے مکان کے ملبے میں کچھ چراغ بھی تھےQaisarul Jafri (1926–2005)
- چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھامیں نے اک بار ترا نام سنا تھا کیا تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
- خوابوں کے کسی موڑ پہ دیکھا سا لگے ہےاپنا نہ سہی پھر بھی وہ اپنا سا لگے ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
- خیال و خواب بن کے میرے ذہن سے لپٹ گئےوہ اتنی دور ہو گئے کہ فاصلے سمٹ گئےQaisarul Jafri (1926–2005)
- دانشوروں کے بس میں یہ رد عمل نہ تھامیں ایسی تیغ لے کے اٹھا جس میں پھل نہ تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
- دشت تنہائی میں کل رات ہوا کیسی تھیدیر تک ٹوٹتے لمحوں کی صدا کیسی تھیQaisarul Jafri (1926–2005)
- دل بے تب و تاب ہو گیا ہےآئینہ خراب ہو گیا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
- دن کی بے درد تھکن چہرے پہ لے کر مت جابام و در جاگ رہے ہوں گے ابھی گھر مت جاQaisarul Jafri (1926–2005)
- دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہےہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
- ڈوبنے والو ہواؤں کا ہنر کیسا لگایہ کنارا یہ سمندر یہ بھنور کیسا لگاQaisarul Jafri (1926–2005)
- ذہن میں کون سے آسیب کا ڈر باندھ لیاتم نے پوچھا بھی نہیں رخت سفر باندھ لیاQaisarul Jafri (1926–2005)
- زخموں کو مرہم کہتا ہوں قاتل کو مسیحا کہتا ہوںجو دل پر گزرا کرتی ہے میں پردا پردا کہتا ہوںQaisarul Jafri (1926–2005)
- زلف گھٹا بن کر رہ جائے آنکھ کنول ہو جائےشاید ان کو پل بھر سوچیں اور غزل ہو جائےQaisarul Jafri (1926–2005)
- ساری دنیا کے تعلق سے جو سوچا جاتاآدمی اتنے قبیلوں میں نہ بانٹا جاتاQaisarul Jafri (1926–2005)
- صدیوں طویل رات کے زانو سے سر اٹھاسورج افق سے جھانک رہا ہے نظر اٹھاQaisarul Jafri (1926–2005)
- عذاب سا ہے دل نامراد پر کب سےکھڑا ہوں میں روش گرد باد پر کب سےQaisarul Jafri (1926–2005)
- عہد جنوں میں بیٹھے بیٹھے جو غزلیں لکھ ڈالی تھیںہم کو رسوا دنیا بھر کو پاگل کرنے والی تھیںQaisarul Jafri (1926–2005)
- کاغذ کاغذ دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گاجس دن سوکھے دل کے آنسو سب پتھر ہو جائے گاQaisarul Jafri (1926–2005)
- گھر بسا کر بھی مسافر کے مسافر ٹھہرےلوگ دروازوں سے نکلے کہ مہاجر ٹھہرےQaisarul Jafri (1926–2005)
- مجھے کوئی کیوں سمیٹے مری روشنی میں کیا ہےوہ چراغ رہ گزر ہوں جو پس سحر جلا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
- مرے ساتھ چلتے چلتے یہ کہاں ٹھہر گئے تمشب غم کٹے گی کیسے جو ابھی سے ڈر گئے تمQaisarul Jafri (1926–2005)
- مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرناجہاں کہا تھا وہاں انتظار مت کرناQaisarul Jafri (1926–2005)
- منتشر ذہن کی سوچوں کو اکٹھا کر دوتم جو آ جاؤ تو شاید مجھے تنہا کر دوQaisarul Jafri (1926–2005)
- میں پچھلی رات کیا جانے کہاں تھادعاؤں کا بھی لہجہ بے زباں تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
- نہ سوال جام نہ ذکر مے اسی بانکپن سے چلے گئےترا ظرف دیکھ کے تشنہ لب تری انجمن سے چلے گئےQaisarul Jafri (1926–2005)
- وہی شکست سفر کا نشاں ہے چہرے پربہت غبار پس کارواں ہے چہرے پرQaisarul Jafri (1926–2005)
- ہم بھی اپنے شہر میں یارو پھرتے تھے فرہاد بنےکیا کیا عشق رچایا برسوں لکھیں تو روداد بنےQaisarul Jafri (1926–2005)
- ہم نے لکھے تھے ہواؤں میں فسانے اپنےاڑ گئے ایک ہی جھونکے میں زمانے اپنےQaisarul Jafri (1926–2005)
- ہم وقت کے الاؤ میں برسوں جلے میاںلو دل کی راکھ چھوڑ کے ہم بھی چلے میاںQaisarul Jafri (1926–2005)
- ہوا بہت ہے متاع سفر سنبھال کے رکھدریدہ چادر جاں ہے مگر سنبھال کے رکھQaisarul Jafri (1926–2005)
- یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوںکوئی دیکھے تو یہ سمجھے کہ پئے بیٹھا ہوںQaisarul Jafri (1926–2005)
- یہ خواب جو ہم سفر ہیں میرےقاتل ہیں کہ چارہ گر ہیں میرےQaisarul Jafri (1926–2005)
- یہ زندگی ہے کہ آسیب کا سفر ہے میاںچراغ لے کے نکلنا بڑا ہنر ہے میاںQaisarul Jafri (1926–2005)
- آج تو دفعتاً سامنے آ گئیتیری رفتار باد صبا کی طرحQaisarul Jafri (1926–2005)
- آئیں گے اک دن پردیس والےاے گاؤں تھوڑے آنسو بچا لےQaisarul Jafri (1926–2005)