Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آبلے پاؤں کے کیا تو نے ہمارے توڑےخار صحرائے جنوں عرش کے تارے توڑےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  2. آخر کار چلے تیر کی رفتار قدمغیر منزل نہ پڑے راہ میں زنہار قدمHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  3. آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کاکچھ زباں سے کہے کوئی یہ دہن ہے کس کاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  4. آگ پر رشک سے میں چاک گریباں لوٹاخاک پر وقت خرام اس کا جو داماں لوٹاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  5. آئنہ خانہ کریں گے دل ناکام کو ہمپھیریں گے اپنی طرف روئے دل آرام کو ہمHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  6. آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھاچہرۂ شاہد مقصود عیاں ہے کہ جو تھاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  7. اس شش جہت میں خوب تری جستجو کریںکعبے میں چل کے سجدہ تجھے چار سو کریںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  8. اس کے کوچے میں مسیحا ہر سحر جاتا رہابے اجل واں ایک دو ہر رات مر جاتا رہاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  9. انصاف کی ترازو میں تولا عیاں ہوایوسف سے تیرے حسن کا پلہ گراں ہواHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  10. ایسی وحشت نہیں دل کو کہ سنبھل جاؤں گاصورت پیرہن تنگ نکل جاؤں گاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  11. اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سےفصل گل آئی کہ دیوانے سدھارے شہر سےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  12. اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہےاسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  13. بازار دہر میں تری منزل کہاں نہ تھییوسف نہ جس میں ہو کوئی ایسی دکاں نہ تھیHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  14. برق کو اس پر عبث گرنے کی ہیں تیاریاںبرگ گل ہی آشیاں کو اپنے ہے چنگاریاںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  15. برگشتہ طالعی کا تماشا دکھاؤں میںگھر کو لگے جو آگ تو پانی بجھاؤں میںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  16. بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہواچھری جو تیز ہوئی پہلے میں حلال ہواHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  17. بلبل کو خار خار دبستاں ہے ان دنوںہر طفل کی بغل میں گلستاں ہے ان دنوںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  18. بلبل گلوں سے دیکھ کے تجھ کو بگڑ گیاقمری کا طوق سرو کی گردن میں پڑ گیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  19. دیوانگی نے کیا کیا عالم دکھا دیے ہیںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  20. پسے دل اس کی چتون پر ہزاروںموے بے ساختہ پن پر ہزاروںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  21. پیری سے مرا نوع دگر حال ہوا ہےوہ قد جو الف سا تھا سو اب دال ہوا ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  22. پیمبر میں نہیں عاشق ہوں جانیرہے موسی ہی سے یہ لن ترانیHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  23. تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوستمثل تصویر نہالی میں ہوں ہم پہلوئے دوستHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  24. تازہ ہو دماغ اپنا تمنا ہے تو یہ ہےاس زلف کی بو سونگھئے سودا ہے تو یہ ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  25. تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتاذرا سنبل کو لہرایا تو ہوتاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  26. تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوںرہی ہے ایک تصویر خیالی روبرو برسوںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  27. توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہاخاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  28. تیری جو یاد اے دل خواہ بھولاباللہ بھولا واللہ بھولاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  29. جب کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیااے صنم لطف ہے پردے کی ملاقات میں کیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  30. جگر کو داغ میں مانند لالہ کیا کرتالبالب اپنے لہو کا پیالہ کیا کرتاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  31. جوش و خروش پر ہے بہار چمن ہنوزپیتے ہیں نوجوان شراب کہن ہنوزHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  32. جوہر نہیں ہمارے ہیں صیاد پر کھلےلے کر قفس کو اڑ گئے رکھا جو پر کھلےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  33. چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلومنہال کس کو کرے باغباں نہیں معلومHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  34. چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیایقین ہو گیا شبنم کو آفتاب آیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  35. حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کانہایت غم ہے اس قطرے کو دریا کی جدائی کاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  36. حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہےپیش روزن پس دیوار لیے پھرتی ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  37. حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کاہشیار وہی ہے کہ جو دیوانہ ہے اس کاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  38. حسن کس روز ہم سے صاف ہواگنہ عشق کب معاف ہواHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  39. خار مطلوب جو ہووے تو گلستاں مانگوںبجلی گرنے کو جو جی چاہے تو باراں مانگوںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  40. خواہاں ترے ہر رنگ میں اے یار ہمیں تھےیوسف تھا اگر تو تو خریدار ہمیں تھےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  41. دل بہت تنگ رہا کرتا ہےرنگ بے رنگ رہا کرتا ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  42. دل شہید رہ دامان نہ ہوا تھا سو ہواٹکڑے ٹکڑے جو گریباں نہ ہوا تھا سو ہواHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  43. دل کی کدورتیں اگر انساں سے دور ہوںسارے نفاق گبر و مسلماں سے دور ہوںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  44. دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھیصبح تک شام سے یاہو کے سوا بات نہ تھیHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  45. دوست دشمن نے کئے قتل کے ساماں کیا کیاجان مشتاق کے پیدا ہوئے خواہاں کیا کیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  46. دولت حسن کی بھی ہے کیا لوٹآنکھوں کو پڑ گئی ہے لوٹا لوٹHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  47. دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسےکلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  48. رجوع بندہ کی ہے اس طرح خدا کی طرفپھرے ضمیر خبر جیسے مبتدا کی طرفHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  49. رخ و زلف پر جان کھویا کیااندھیرے اجالے میں رویا کیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  50. رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم کیجئےعالم ارواح سے صحبت کوئی دم کیجئےHaidar Ali Aatish (1778–1847)