Poetry
- آخر ایک دن شاد کرو گےمیرا گھر آباد کرو گےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیےآدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- آ ہی گیا وہ مجھ کو لحد میں اتارنےغفلت ذرا نہ کی مرے غفلت شعار نےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- اب تو کچھ اور بھی اندھیرا ہےیہ مری رات کا سویرا ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- ابھرے جو خاک سے وہ تہ خاک ہو گئےسب پائمال گردش افلاک ہو گئےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- اس شوخ نے نگاہ نہ کی ہم بھی چپ رہےہم نے بھی آہ آہ نہ کی ہم بھی چپ رہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیالخت جگر کو خاک میں دفنا کے آ گیاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- اگر موج ہے بیچ دھارے چلا چلوگرنہ کنارے کنارے چلا چلHafeez Jalandhari (1900–1982)
- ان تلخ آنسوؤں کو نہ یوں منہ بنا کے پییہ مے ہے خودکشید اسے مسکرا کے پیHafeez Jalandhari (1900–1982)
- ان کو جگر کی جستجو ان کی نظر کو کیا کروںمجھ کو نظر کی آرزو اپنے جگر کو کیا کروںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- ان گیسوؤں میں شانۂ ارماں نہ کیجئےخون جگر سے دعوت مژگاں نہ کیجئےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جااب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میںاس دور دوستی کی دوا ہو گیا ہوں میںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- بے تعلق زندگی اچھی نہیںزندگی کیا موت بھی اچھی نہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- جوانی کے ترانے گا رہا ہوںدبی چنگاریاں سلگا رہا ہوںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوںوہیں ڈوبا ہوا پایا گیا ہوںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- حسن نے سیکھیں غریب آزاریاںعشق کی مجبوریاں لاچاریاںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- حیات جاوداں والے نے مارازباں دے کر زباں والے نے ماراHafeez Jalandhari (1900–1982)
- حیران نہ ہو دیکھ میں کیا دیکھ رہا ہوںبندے تری صورت میں خدا دیکھ رہا ہوںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- دل ابھی تک جوان ہے پیارےکس مصیبت میں جان ہے پیارےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- دل بے مدعا ہے اور میں ہوںمگر لب پر دعا ہے اور میں ہوںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- دل سے ترا خیال نہ جائے تو کیا کروںمیں کیا کروں کوئی نہ بتائے تو کیا کروںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھاپھر بھی دل ہی میں رہوگے مجھے معلوم نہ تھاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- دوستی کا چلن رہا ہی نہیںاب زمانے کی وہ ہوا ہی نہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- رنگ بدلا یار نے وہ پیار کی باتیں گئیںوہ ملاقاتیں گئیں وہ چاندنی راتیں گئیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- زندگی کا لطف بھی آ جائے گازندگانی ہے تو دیکھا جائے گاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- عرض ہنر بھی وجہ شکایات ہو گئیچھوٹا سا منہ تھا مجھ سے بڑی بات ہو گئیHafeez Jalandhari (1900–1982)
- عشق نے عقل کو دیوانہ بنا رکھا ہےزلف انجام کی الجھن میں پھنسا رکھا ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- کبھی زمیں پہ کبھی آسماں پہ چھائے جااجاڑنے کے لیے بستیاں بسائے جاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- کسی کے روبرو بیٹھا رہا میں بے زباں ہو کرمری آنکھوں سے حسرت پھوٹ نکلی داستاں ہو کرHafeez Jalandhari (1900–1982)
- کل ضرور آؤ گے لیکن آج کیا کروںبڑھ رہا ہے قلب کا اختلاج کیا کروںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- کمبخت دل برا ہو تری آہ آہ کاحسن نگاہ بھی نہ رہا گاہ گاہ کاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- کوئی چارہ نہیں دعا کے سواکوئی سنتا نہیں خدا کے سواHafeez Jalandhari (1900–1982)
- کوئی دوا نہ دے سکے مشورۂ دعا دیاچارہ گروں نے اور بھی دل کا درد بڑھا دیاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہےاب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- مٹنے والی حسرتیں ایجاد کر لیتا ہوں میںجب بھی چاہوں اک جہاں آباد کر لیتا ہوں میںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- مجاز عین حقیقت ہے با صفا کے لیےبتوں کو دیکھ رہا ہوں مگر خدا کے لیےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنامرے دیدہ و دل کو آباد رکھناHafeez Jalandhari (1900–1982)
- مدتوں تک جو پڑھایا کیا استاد مجھےعشق میں بھول گیا کچھ نہ رہا یاد مجھےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیےپیتے ہی ایک لغزش مستانہ چاہیےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- ناکامیٔ عشق یا کامیابیدونوں کا حاصل خانہ خرابیHafeez Jalandhari (1900–1982)
- نگاہ آرزو آموز کا چرچا نہ ہو جائےشرارت سادگی ہی میں کہیں رسوا نہ ہو جائےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- نہ کر دل جوئی اے صیاد میریکہ فطرت ہے بہت آزاد میریHafeez Jalandhari (1900–1982)
- وفاداریاں سخت نادانیاں ہیںکہ ان کے نتیجے پشیمانیاں ہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- وہ سر خوشی دے کہ زندگی کو شباب سے بہرہ یاب کر دےمرے خیالوں میں رنگ بھر دے مرے لہو کو شراب کر دےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہوآواز نفس ہی جسے آواز درا ہوHafeez Jalandhari (1900–1982)
- ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکےتم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھےعشق لافانی ملا ہے زندگی فانی مجھےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- یہ کیا مقام ہے وہ نظارے کہاں گئےوہ پھول کیا ہوئے وہ ستارے کہاں گئےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہےبات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)