Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آخر ایک دن شاد کرو گےمیرا گھر آباد کرو گےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  2. آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیےآدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  3. آ ہی گیا وہ مجھ کو لحد میں اتارنےغفلت ذرا نہ کی مرے غفلت شعار نےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  4. اب تو کچھ اور بھی اندھیرا ہےیہ مری رات کا سویرا ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  5. ابھرے جو خاک سے وہ تہ خاک ہو گئےسب پائمال گردش افلاک ہو گئےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  6. اس شوخ نے نگاہ نہ کی ہم بھی چپ رہےہم نے بھی آہ آہ نہ کی ہم بھی چپ رہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  7. اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیالخت جگر کو خاک میں دفنا کے آ گیاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  8. اگر موج ہے بیچ دھارے چلا چلوگرنہ کنارے کنارے چلا چلHafeez Jalandhari (1900–1982)
  9. ان تلخ آنسوؤں کو نہ یوں منہ بنا کے پییہ مے ہے خودکشید اسے مسکرا کے پیHafeez Jalandhari (1900–1982)
  10. ان کو جگر کی جستجو ان کی نظر کو کیا کروںمجھ کو نظر کی آرزو اپنے جگر کو کیا کروںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  11. ان گیسوؤں میں شانۂ ارماں نہ کیجئےخون جگر سے دعوت مژگاں نہ کیجئےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  12. او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جااب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  13. اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میںاس دور دوستی کی دوا ہو گیا ہوں میںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  14. بے تعلق زندگی اچھی نہیںزندگی کیا موت بھی اچھی نہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  15. جوانی کے ترانے گا رہا ہوںدبی چنگاریاں سلگا رہا ہوںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  16. جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوںوہیں ڈوبا ہوا پایا گیا ہوںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  17. حسن نے سیکھیں غریب آزاریاںعشق کی مجبوریاں لاچاریاںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  18. حیات جاوداں والے نے مارازباں دے کر زباں والے نے ماراHafeez Jalandhari (1900–1982)
  19. حیران نہ ہو دیکھ میں کیا دیکھ رہا ہوںبندے تری صورت میں خدا دیکھ رہا ہوںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  20. دل ابھی تک جوان ہے پیارےکس مصیبت میں جان ہے پیارےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  21. دل بے مدعا ہے اور میں ہوںمگر لب پر دعا ہے اور میں ہوںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  22. دل سے ترا خیال نہ جائے تو کیا کروںمیں کیا کروں کوئی نہ بتائے تو کیا کروںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  23. دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھاپھر بھی دل ہی میں رہوگے مجھے معلوم نہ تھاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  24. دوستی کا چلن رہا ہی نہیںاب زمانے کی وہ ہوا ہی نہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  25. رنگ بدلا یار نے وہ پیار کی باتیں گئیںوہ ملاقاتیں گئیں وہ چاندنی راتیں گئیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  26. زندگی کا لطف بھی آ جائے گازندگانی ہے تو دیکھا جائے گاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  27. عرض ہنر بھی وجہ شکایات ہو گئیچھوٹا سا منہ تھا مجھ سے بڑی بات ہو گئیHafeez Jalandhari (1900–1982)
  28. عشق نے عقل کو دیوانہ بنا رکھا ہےزلف انجام کی الجھن میں پھنسا رکھا ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  29. کبھی زمیں پہ کبھی آسماں پہ چھائے جااجاڑنے کے لیے بستیاں بسائے جاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  30. کسی کے روبرو بیٹھا رہا میں بے زباں ہو کرمری آنکھوں سے حسرت پھوٹ نکلی داستاں ہو کرHafeez Jalandhari (1900–1982)
  31. کل ضرور آؤ گے لیکن آج کیا کروںبڑھ رہا ہے قلب کا اختلاج کیا کروںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  32. کمبخت دل برا ہو تری آہ آہ کاحسن نگاہ بھی نہ رہا گاہ گاہ کاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  33. کوئی چارہ نہیں دعا کے سواکوئی سنتا نہیں خدا کے سواHafeez Jalandhari (1900–1982)
  34. کوئی دوا نہ دے سکے مشورۂ دعا دیاچارہ گروں نے اور بھی دل کا درد بڑھا دیاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  35. کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہےاب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  36. مٹنے والی حسرتیں ایجاد کر لیتا ہوں میںجب بھی چاہوں اک جہاں آباد کر لیتا ہوں میںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  37. مجاز عین حقیقت ہے با صفا کے لیےبتوں کو دیکھ رہا ہوں مگر خدا کے لیےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  38. مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنامرے دیدہ و دل کو آباد رکھناHafeez Jalandhari (1900–1982)
  39. مدتوں تک جو پڑھایا کیا استاد مجھےعشق میں بھول گیا کچھ نہ رہا یاد مجھےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  40. مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیےپیتے ہی ایک لغزش مستانہ چاہیےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  41. ناکامیٔ عشق یا کامیابیدونوں کا حاصل خانہ خرابیHafeez Jalandhari (1900–1982)
  42. نگاہ آرزو آموز کا چرچا نہ ہو جائےشرارت سادگی ہی میں کہیں رسوا نہ ہو جائےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  43. نہ کر دل جوئی اے صیاد میریکہ فطرت ہے بہت آزاد میریHafeez Jalandhari (1900–1982)
  44. وفاداریاں سخت نادانیاں ہیںکہ ان کے نتیجے پشیمانیاں ہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  45. وہ سر خوشی دے کہ زندگی کو شباب سے بہرہ یاب کر دےمرے خیالوں میں رنگ بھر دے مرے لہو کو شراب کر دےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  46. وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہوآواز نفس ہی جسے آواز درا ہوHafeez Jalandhari (1900–1982)
  47. ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکےتم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  48. ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھےعشق لافانی ملا ہے زندگی فانی مجھےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  49. یہ کیا مقام ہے وہ نظارے کہاں گئےوہ پھول کیا ہوئے وہ ستارے کہاں گئےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  50. یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہےبات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)