اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیا

Hafeez Jalandhari (1900–1982)

اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیا

لخت جگر کو خاک میں دفنا کے آ گیا

ہر ہم سفر پہ خضر کا دھوکا ہوا مجھے

آب بقا کی راہ سے کترا کے آ گیا

حور لحد نے چھین لیا تجھ کو اور میں

اپنا سا منہ لیے ہوئے شرما کے آ گیا

دل لے گیا مجھے تری تربت پہ بار بار

آواز دے کے بیٹھ کے اکتا کے آ گیا

رویا کہ تھا جہیز ترا واجب الادا

مینہ موتیوں کا قبر پہ برسا کے آ گیا

میری بساط کیا تھی حضور رضائے دوست

تنکا سا ایک سامنے دریا کے آ گیا

اب کے بھی راس آئی نہ حب وطن حفیظؔ

اب کے بھی ایک تیر قضا کھا کے آ گیا