Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آ گیا جس کو بھی احساس کی وحشت پڑھنااس نے سیکھا ہی نہیں لفظ محبت پڑھناEhtisham ul Haq Siddiqui
  2. اپنے شب یاروں سے کس طرح میں غافل ہو جاؤںآسماں جاگ رہا ہے تو میں کیسے سو جاؤںEhtisham ul Haq Siddiqui
  3. اور اب عقل کا بار نہیں گر سہ سکتے ہودل کے اس پاگل خانے میں رہ سکتے ہوEhtisham ul Haq Siddiqui
  4. ایک بجا ہے رات کا اب تو سونے دوموبائل بھی گرم ہے ٹھنڈا ہونے دوEhtisham ul Haq Siddiqui
  5. ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسمنظر نظر میں کھلا گیا ہے شرارتوں کے گلاب موسمEhtisham ul Haq Siddiqui
  6. تھوڑی سی وضع اوڑھ لی اور وضع دار ہو گئےاصحاب عز و جاہ میں ہم بھی شمار ہو گئےEhtisham ul Haq Siddiqui
  7. جو اصل ہے میری وہی پوشاک پہن لوںسب کھیل ہوئے ختم چلوں خاک پہن لوںEhtisham ul Haq Siddiqui
  8. جو ہوا وہ ذہن میں تھا نہیں جو تھا ذہن میں وہ ہوا نہیںجو گمان میں نہ تھا مل گیا جو تھا ہاتھ میں وہ ملا نہیںEhtisham ul Haq Siddiqui
  9. حصول مقصد میں آخرش یوں رہے گی قسمت دخیل کب تکتم اپنی ناکامیوں پہ دو گے مقدروں کی دلیل کب تکEhtisham ul Haq Siddiqui
  10. سو تک گنتی بیس پہاڑے کام آئےساری دولت میں یہ سکے کام آئےEhtisham ul Haq Siddiqui
  11. شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دیناکہ مجھ کو آتا نہیں غموں کو خوشی کے سانچوں میں ڈھال دیناEhtisham ul Haq Siddiqui
  12. شکریہ بیچ سفر آپ نے تنہا چھوڑااس طرح آپ نے مجھ سے مرا رشتہ جوڑاEhtisham ul Haq Siddiqui
  13. طرح طرح کے فسانے سنانے لگتی ہےاڑوں تو میری زمیں چھٹپٹانے لگتی ہےEhtisham ul Haq Siddiqui
  14. ظلمت کشی کا قصد کیا اور چل پڑےمٹھی میں جگنوؤں کو لیا اور چل پڑےEhtisham ul Haq Siddiqui
  15. کس نے کی بات ابھی کون شناسا نکلایاد آیا تو مرا اپنا ہی چہرہ نکلاEhtisham ul Haq Siddiqui
  16. کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئےوقت کو آگے بڑھانا ہے کہانی چاہئےEhtisham ul Haq Siddiqui
  17. مجھ میں سے رفتہ رفتہ گھٹاتا رہا مجھےوہ تھوڑا تھوڑا روز چراتا رہا مجھےEhtisham ul Haq Siddiqui
  18. مجھ میں سے مرے جبہ و دستار نفی کررہ جاؤں اگر باقی تو تشریح مری کرEhtisham ul Haq Siddiqui
  19. مجھ میں کتنا زہر ہے کولی بھر کر دیکھمرنا تو لازم ہے آج ہی مر کر دیکھEhtisham ul Haq Siddiqui
  20. مرے وجود کا آئینہ صاف اسی نے کیااسی کو کرنا تھا آخر معاف اسی نے کیاEhtisham ul Haq Siddiqui
  21. ناکام ولولوں کو لیے بھاگتے رہےہم سر پہ دلدلوں کو لئے بھاگتے رہےEhtisham ul Haq Siddiqui
  22. نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیاچراغ لینے گیا آفتاب لے آیاEhtisham ul Haq Siddiqui
  23. وہ جو رو رہا تھا وہ ہنس پڑا وہ جو ہنس رہا تھا وہ رو دیایہاں اک جزیرہ بنا دیا وہاں اک جزیرہ ڈبو دیاEhtisham ul Haq Siddiqui
  24. ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہےوہ چپ لگی ہمیں کہ کہیں کے نہیں رہےEhtisham ul Haq Siddiqui
  25. یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنالبوں پر پیاس رکھنا اور پانی پشت پر رکھناEhtisham ul Haq Siddiqui