Poetry
- آ گیا جس کو بھی احساس کی وحشت پڑھنااس نے سیکھا ہی نہیں لفظ محبت پڑھناEhtisham ul Haq Siddiqui
- اپنے شب یاروں سے کس طرح میں غافل ہو جاؤںآسماں جاگ رہا ہے تو میں کیسے سو جاؤںEhtisham ul Haq Siddiqui
- اور اب عقل کا بار نہیں گر سہ سکتے ہودل کے اس پاگل خانے میں رہ سکتے ہوEhtisham ul Haq Siddiqui
- ایک بجا ہے رات کا اب تو سونے دوموبائل بھی گرم ہے ٹھنڈا ہونے دوEhtisham ul Haq Siddiqui
- ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسمنظر نظر میں کھلا گیا ہے شرارتوں کے گلاب موسمEhtisham ul Haq Siddiqui
- تھوڑی سی وضع اوڑھ لی اور وضع دار ہو گئےاصحاب عز و جاہ میں ہم بھی شمار ہو گئےEhtisham ul Haq Siddiqui
- جو اصل ہے میری وہی پوشاک پہن لوںسب کھیل ہوئے ختم چلوں خاک پہن لوںEhtisham ul Haq Siddiqui
- جو ہوا وہ ذہن میں تھا نہیں جو تھا ذہن میں وہ ہوا نہیںجو گمان میں نہ تھا مل گیا جو تھا ہاتھ میں وہ ملا نہیںEhtisham ul Haq Siddiqui
- حصول مقصد میں آخرش یوں رہے گی قسمت دخیل کب تکتم اپنی ناکامیوں پہ دو گے مقدروں کی دلیل کب تکEhtisham ul Haq Siddiqui
- سو تک گنتی بیس پہاڑے کام آئےساری دولت میں یہ سکے کام آئےEhtisham ul Haq Siddiqui
- شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دیناکہ مجھ کو آتا نہیں غموں کو خوشی کے سانچوں میں ڈھال دیناEhtisham ul Haq Siddiqui
- شکریہ بیچ سفر آپ نے تنہا چھوڑااس طرح آپ نے مجھ سے مرا رشتہ جوڑاEhtisham ul Haq Siddiqui
- طرح طرح کے فسانے سنانے لگتی ہےاڑوں تو میری زمیں چھٹپٹانے لگتی ہےEhtisham ul Haq Siddiqui
- ظلمت کشی کا قصد کیا اور چل پڑےمٹھی میں جگنوؤں کو لیا اور چل پڑےEhtisham ul Haq Siddiqui
- کس نے کی بات ابھی کون شناسا نکلایاد آیا تو مرا اپنا ہی چہرہ نکلاEhtisham ul Haq Siddiqui
- کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئےوقت کو آگے بڑھانا ہے کہانی چاہئےEhtisham ul Haq Siddiqui
- مجھ میں سے رفتہ رفتہ گھٹاتا رہا مجھےوہ تھوڑا تھوڑا روز چراتا رہا مجھےEhtisham ul Haq Siddiqui
- مجھ میں سے مرے جبہ و دستار نفی کررہ جاؤں اگر باقی تو تشریح مری کرEhtisham ul Haq Siddiqui
- مجھ میں کتنا زہر ہے کولی بھر کر دیکھمرنا تو لازم ہے آج ہی مر کر دیکھEhtisham ul Haq Siddiqui
- مرے وجود کا آئینہ صاف اسی نے کیااسی کو کرنا تھا آخر معاف اسی نے کیاEhtisham ul Haq Siddiqui
- ناکام ولولوں کو لیے بھاگتے رہےہم سر پہ دلدلوں کو لئے بھاگتے رہےEhtisham ul Haq Siddiqui
- نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیاچراغ لینے گیا آفتاب لے آیاEhtisham ul Haq Siddiqui
- وہ جو رو رہا تھا وہ ہنس پڑا وہ جو ہنس رہا تھا وہ رو دیایہاں اک جزیرہ بنا دیا وہاں اک جزیرہ ڈبو دیاEhtisham ul Haq Siddiqui
- ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہےوہ چپ لگی ہمیں کہ کہیں کے نہیں رہےEhtisham ul Haq Siddiqui
- یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنالبوں پر پیاس رکھنا اور پانی پشت پر رکھناEhtisham ul Haq Siddiqui