Poetry
- آسماں تک جو نالہ پہنچا ہےدل کی گہرائیوں سے نکلا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- آؤ اب مل کے گلستاں کو گلستاں کر دیںہر گل و لالہ کو رقصاں و غزل خواں کر دیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- اذن خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہمہٹ کر چلے ہیں رہ گزر کارواں سے ہمMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہہاں میری محبت کا جواب اور زیادہMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- بس اس تقصیر پر اپنے مقدر میں ہے مر جاناتبسم کو تبسم کیوں نظر کو کیوں نظر جاناMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- پرتو ساغر صہبا کیا تھارات اک حشر سا برپا کیا تھاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئےاس سعئ کرم کو کیا کہیے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- جگر اور دل کو بچانا بھی ہےنظر آپ ہی سے ملانا بھی ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- جنون شوق اب بھی کم نہیں ہےمگر وہ آج بھی برہم نہیں ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئےدل کی جانب نظر ہے کیا کہئےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- حسن کو بے حجاب ہونا تھاشوق کو کامیاب ہونا تھاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- خامشی کا تو نام ہوتا ہےورنہ یوں بھی کلام ہوتا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئیہاں لطف جب ہے پا کے بھی ڈھونڈا کرے کوئیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- دامن دل پہ نہیں بارش الہام ابھیعشق نا پختہ ابھی جذب دروں خام ابھیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- درد کی دولت بیدار عطا ہو ساقیہم بہی خواہ سبھی کے ہیں بھلا ہو ساقیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- دل خوں گشتۂ جفا پہ کہیںاب کرم بھی گراں نہ ہو جائےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- دھواں سا اک سمت اٹھ رہا ہے شرارے اڑ اڑ کے آ رہے ہیںیہ کس کی آہیں یہ کس کے نالے تمام عالم پہ چھا رہے ہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- شہر نگارMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوںکشش حسن کی دیکھنا چاہتا ہوںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- سارا عالم گوش بر آواز ہےآج کن ہاتھوں میں دل کا ساز ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- سازگار ہے ہم دم ان دنوں جہاں اپناعشق شادماں اپنا شوق کامراں اپناMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیانغمہ بر لب خم بہ سر بادہ بہ جام آ ہی گیاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیںہم اپنے دل کو طور بنائے ہوئے تو ہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- شوق کے ہاتھوں اے دل مضطر کیا ہونا ہے کیا ہوگاعشق تو رسوا ہو ہی چکا ہے حسن بھی کیا رسوا ہوگاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہےاور صبر آزما بھی ہوتی ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- عقل کی سطح سے کچھ اور ابھر جانا تھاعشق کو منزل پستی سے گزر جانا تھاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- عیش سے بے نیاز ہیں ہم لوگبے خود سوز و ساز ہیں ہم لوگMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئےوہ زلف پریشاں بھول گئے وہ دیدۂ گریاں بھول گئےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- کرشمہ سازئ دل دیکھتا ہوںتمہیں اپنے مقابل دیکھتا ہوںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میںیہ کس کے ہاتھ سے دامن چھڑا رہا ہوں میںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- مری وفا کا ترا لطف بھی جواب نہیںمرے شباب کی قیمت ترا شباب نہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- نگاہ لطف مت اٹھ خوگر آلام رہنے دےہمیں ناکام رہنا ہے ہمیں ناکام رہنے دےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- نہ ہم آہنگ مسیحا نہ حریف جبریلتیرا شاعر کہ ہے زندانی گیسوئے جمیلMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- نہیں یہ فکر کوئی رہبر کامل نہیں ملتاکوئی دنیا میں مانوس مزاج دل نہیں ملتاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- وہ نقاب آپ سے اٹھ جائے تو کچھ دور نہیںورنہ میری نگہ شوق بھی مجبور نہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- یونہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کربنو کیوں چارہ گر تم کیا کروگے چارہ گر ہو کرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- یہ تیرگیٔ شب ہی کچھ صبح طراز آتیخود وعدۂ فردا کی چھاتی بھی دھڑک جاتیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- یہ جہاں بارگہ رطل گراں ہے ساقیاک جہنم مرے سینے میں تپاں ہے ساقیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- یہ میری دنیا یہ میری ہستینغمہ طرازی صہبا پرستیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- تاج جب مرد کے ماتھے پہ نظر آتا ہےیک بیک خوں مری آنکھوں میں اتر آتا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- دل کو محو غم دل دار کئے بیٹھے ہیںرند بنتے ہیں مگر زہر پئے بیٹھے ہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- زندگی ساز دے رہی ہے مجھےسحر و اعجاز دے رہی ہے مجھےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- شاعر ہوں اور امیں ہوں عروس سخن کا میںکرنل نہیں ہوں خان بہادر نہیں ہوں میںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- کفر کیا تثلیث کیا الحاد کیا اسلام کیاتو بہر صورت کسی زنجیر میں جکڑا ہواMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- مجھے ساغر دوبارہ مل گیا ہےتلاطم میں کنارا مل گیا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- میکدہ چھوڑ کے میں تیری طرف آیا ہوںسرفروشوں سے میں باندھے ہوئے صف آیا ہوںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- نہ ان کا ذہن صاف ہے نہ میرا قلب صاف ہےتو کیوں دلوں میں جا گزیں وہ بنت صد عفاف ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- مہمانMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- اعتراف (مجاز لکھنوی)Majaz Lakhnawi (1911–1955)
- نذر دلMajaz Lakhnawi (1911–1955)