Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آسماں تک جو نالہ پہنچا ہےدل کی گہرائیوں سے نکلا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  2. آؤ اب مل کے گلستاں کو گلستاں کر دیںہر گل و لالہ کو رقصاں و غزل خواں کر دیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  3. اذن خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہمہٹ کر چلے ہیں رہ گزر کارواں سے ہمMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  4. برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہہاں میری محبت کا جواب اور زیادہMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  5. بس اس تقصیر پر اپنے مقدر میں ہے مر جاناتبسم کو تبسم کیوں نظر کو کیوں نظر جاناMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  6. پرتو ساغر صہبا کیا تھارات اک حشر سا برپا کیا تھاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  7. تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئےاس سعئ کرم کو کیا کہیے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  8. جگر اور دل کو بچانا بھی ہےنظر آپ ہی سے ملانا بھی ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  9. جنون شوق اب بھی کم نہیں ہےمگر وہ آج بھی برہم نہیں ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  10. حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئےدل کی جانب نظر ہے کیا کہئےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  11. حسن کو بے حجاب ہونا تھاشوق کو کامیاب ہونا تھاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  12. خامشی کا تو نام ہوتا ہےورنہ یوں بھی کلام ہوتا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  13. خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئیہاں لطف جب ہے پا کے بھی ڈھونڈا کرے کوئیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  14. دامن دل پہ نہیں بارش الہام ابھیعشق نا پختہ ابھی جذب دروں خام ابھیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  15. درد کی دولت بیدار عطا ہو ساقیہم بہی خواہ سبھی کے ہیں بھلا ہو ساقیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  16. دل خوں گشتۂ جفا پہ کہیںاب کرم بھی گراں نہ ہو جائےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  17. دھواں سا اک سمت اٹھ رہا ہے شرارے اڑ اڑ کے آ رہے ہیںیہ کس کی آہیں یہ کس کے نالے تمام عالم پہ چھا رہے ہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  18. شہر نگارMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  19. رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوںکشش حسن کی دیکھنا چاہتا ہوںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  20. سارا عالم گوش بر آواز ہےآج کن ہاتھوں میں دل کا ساز ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  21. سازگار ہے ہم دم ان دنوں جہاں اپناعشق شادماں اپنا شوق کامراں اپناMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  22. ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیانغمہ بر لب خم بہ سر بادہ بہ جام آ ہی گیاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  23. سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیںہم اپنے دل کو طور بنائے ہوئے تو ہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  24. شوق کے ہاتھوں اے دل مضطر کیا ہونا ہے کیا ہوگاعشق تو رسوا ہو ہی چکا ہے حسن بھی کیا رسوا ہوگاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  25. عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہےاور صبر آزما بھی ہوتی ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  26. عقل کی سطح سے کچھ اور ابھر جانا تھاعشق کو منزل پستی سے گزر جانا تھاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  27. عیش سے بے نیاز ہیں ہم لوگبے خود سوز و ساز ہیں ہم لوگMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  28. کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئےوہ زلف پریشاں بھول گئے وہ دیدۂ گریاں بھول گئےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  29. کرشمہ سازئ دل دیکھتا ہوںتمہیں اپنے مقابل دیکھتا ہوںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  30. کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میںیہ کس کے ہاتھ سے دامن چھڑا رہا ہوں میںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  31. مری وفا کا ترا لطف بھی جواب نہیںمرے شباب کی قیمت ترا شباب نہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  32. نگاہ لطف مت اٹھ خوگر آلام رہنے دےہمیں ناکام رہنا ہے ہمیں ناکام رہنے دےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  33. نہ ہم آہنگ مسیحا نہ حریف جبریلتیرا شاعر کہ ہے زندانی گیسوئے جمیلMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  34. نہیں یہ فکر کوئی رہبر کامل نہیں ملتاکوئی دنیا میں مانوس مزاج دل نہیں ملتاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  35. وہ نقاب آپ سے اٹھ جائے تو کچھ دور نہیںورنہ میری نگہ شوق بھی مجبور نہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  36. یونہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کربنو کیوں چارہ گر تم کیا کروگے چارہ گر ہو کرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  37. یہ تیرگیٔ شب ہی کچھ صبح طراز آتیخود وعدۂ فردا کی چھاتی بھی دھڑک جاتیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  38. یہ جہاں بارگہ رطل گراں ہے ساقیاک جہنم مرے سینے میں تپاں ہے ساقیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  39. یہ میری دنیا یہ میری ہستینغمہ طرازی صہبا پرستیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  40. تاج جب مرد کے ماتھے پہ نظر آتا ہےیک بیک خوں مری آنکھوں میں اتر آتا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  41. دل کو محو غم دل دار کئے بیٹھے ہیںرند بنتے ہیں مگر زہر پئے بیٹھے ہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  42. زندگی ساز دے رہی ہے مجھےسحر و اعجاز دے رہی ہے مجھےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  43. شاعر ہوں اور امیں ہوں عروس سخن کا میںکرنل نہیں ہوں خان بہادر نہیں ہوں میںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  44. کفر کیا تثلیث کیا الحاد کیا اسلام کیاتو بہر صورت کسی زنجیر میں جکڑا ہواMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  45. مجھے ساغر دوبارہ مل گیا ہےتلاطم میں کنارا مل گیا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  46. میکدہ چھوڑ کے میں تیری طرف آیا ہوںسرفروشوں سے میں باندھے ہوئے صف آیا ہوںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  47. نہ ان کا ذہن صاف ہے نہ میرا قلب صاف ہےتو کیوں دلوں میں جا گزیں وہ بنت صد عفاف ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  48. مہمانMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  49. اعتراف (مجاز لکھنوی)Majaz Lakhnawi (1911–1955)
  50. نذر دلMajaz Lakhnawi (1911–1955)