خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی

Majaz Lakhnawi (1911–1955)

خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی

ہاں لطف جب ہے پا کے بھی ڈھونڈا کرے کوئی

تم نے تو حکم ترک تمنا سنا دیا

کس دل سے آہ ترک تمنا کرے کوئی

دنیا لرز گئی دل حرماں نصیب کی

اس طرح ساز عیش نہ چھیڑا کرے کوئی

مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود

ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی

رنگینی نقاب میں گم ہو گئی نظر

کیا بے حجابیوں کا تقاضا کرے کوئی