ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا

Majaz Lakhnawi (1911–1955)

ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا

نغمہ بر لب خم بہ سر بادہ بہ جام آ ہی گیا

اپنی نظروں میں نشاط جلوۂ خوباں لیے

خلوتی خاص سوئے بزم عام آ ہی گیا

میری دنیا جگمگا اٹھی کسی کے نور سے

میرے گردوں پر مرا ماہ تمام آ ہی گیا

جھوم جھوم اٹھے شجر کلیوں نے آنکھیں کھول دیں

جانب گلشن کوئی مست خرام آ ہی گیا

پھر کسی کے سامنے چشم تمنا جھک گئی

شوق کی شوخی میں رنگ احترام آ ہی گیا

میری شب اب میری شب ہے میرا بادہ میرے جام

وہ مرا سرو رواں ماہ تمام آ ہی گیا

بارہا ایسا ہوا ہے یاد تک دل میں نہ تھی

بارہا مستی میں لب پر ان کا نام آ ہی گیا

زندگی کے خاکۂ سادہ کو رنگیں کر دیا

حسن کام آئے نہ آئے عشق کام آ ہی گیا

کھل گئی تھی صاف گردوں کی حقیقت اے مجازؔ

خیریت گزری کہ شاہیں زیر دام آ ہی گیا