Poetry
- آخری ٹیس آزمانے کوجی تو چاہا تھا مسکرانے کوAda Jafri (1924–2015)
- آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھااچھا ہوا کہ ساتھ کسی کو لیا نہ تھاAda Jafri (1924–2015)
- آنکھوں میں روپ صبح کی پہلی کرن سا ہےاحوال جی کا زلف شکن در شکن سا ہےAda Jafri (1924–2015)
- اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتاہمیشہ ہو ستارا ہم سفر آساں نہیں ہوتاAda Jafri (1924–2015)
- اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانادعا آساں نہیں رہنا سخن دشوار ہو جاناAda Jafri (1924–2015)
- ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھیاس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھیAda Jafri (1924–2015)
- بیگانگئ طرز ستم بھی بہانہ سازبیچارگیٔ کرب و الم بھی بہانہ سازAda Jafri (1924–2015)
- توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہےدنیا میں فقط طالع بیدار چلے ہےAda Jafri (1924–2015)
- جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھاجینے کی آرزو تھی مگر حوصلہ نہ تھاAda Jafri (1924–2015)
- جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہایہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہاAda Jafri (1924–2015)
- چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گےلوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گےAda Jafri (1924–2015)
- حال کھلتا نہیں جبینوں سےرنج اٹھائے ہیں جن قرینوں سےAda Jafri (1924–2015)
- حس نہیں تڑپ نہیں باب عطا بھی کیوں کھلےہم ہیں گرفتہ دل ابھی ہم سے صبا بھی کیوں کھلےAda Jafri (1924–2015)
- خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئیابتدا رنج کی کہاں سے ہوئیAda Jafri (1924–2015)
- خلش تیر بے پناہ گئیلیجئے ان سے رسم و راہ گئیAda Jafri (1924–2015)
- خود حجابوں سا خود جمال سا تھادل کا عالم بھی بے مثال سا تھاAda Jafri (1924–2015)
- دل اپنا جلایا ہے کسی نے بھی خوشی سےبن جاتی ہے جی پر تو گزر جاتے ہیں جی سےAda Jafri (1924–2015)
- دیپ تھا یا تارا کیا جانےدل میں کیوں ڈوبا کیا جانےAda Jafri (1924–2015)
- ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکےچھلکے چھلکے ساغر چھلکےAda Jafri (1924–2015)
- روز و شب کی کوئی صورت تو بنا کر رکھوںکسی لہجے کسی آہٹ کو سجا کر رکھوںAda Jafri (1924–2015)
- زباں کو حکم نگاہ کرم کو پہچانےنگہ کا جرم غبار الم کو پہچانےAda Jafri (1924–2015)
- شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھیکیوں ورنہ انتظار بھی ہے اضطرار بھیAda Jafri (1924–2015)
- عالم ہی اور تھا جو شناسائیوں میں تھاجو دیپ تھا نگاہ کی پرچھائیوں میں تھاAda Jafri (1924–2015)
- کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیاگھلتا ہوا لہو میں یہ خورشید سا ہے کیاAda Jafri (1924–2015)
- کوئی خبر بھی نہ بھیجی بہار نے آتےکہ ہم بھی قسمت مژگاں سنوارنے آتےAda Jafri (1924–2015)
- کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہامری رات بھی ترے نام تھی اسے کس نے تیرہ شبی کہاAda Jafri (1924–2015)
- کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطا کار بہت ہیںاک رسم وفا تھی سو وفادار بہت ہیںAda Jafri (1924–2015)
- کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوںکہنے کو تو جس راہ چلایا ہے چلی ہوںAda Jafri (1924–2015)
- گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاںہم ایسے لوگ اب ملیں حکایتوں کے درمیاںAda Jafri (1924–2015)
- گلوں کو چھو کے شمیم دعا نہیں آئیکھلا ہوا تھا دریچہ صبا نہیں آئیAda Jafri (1924–2015)
- گھر کا رستہ بھی ملا تھا شایدراہ میں سنگ وفا تھا شایدAda Jafri (1924–2015)
- مجھے رنگ خواب سے زندگی کا یقیں ملاکبھی دل دکھا تو کچھ اور بھی وہ قریں ملاAda Jafri (1924–2015)
- مزاج و مرتبۂ چشم نم کو پہچانےجو تجھ کو دیکھ کے آئے وہ ہم کو پہچانےAda Jafri (1924–2015)
- نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوںمیں بجھتے بجھتے بھی پیراہن شرر میں رہوںAda Jafri (1924–2015)
- نہ بام و دشت نہ دریا نہ کوہسار ملےجنوں کی راہ تھی حالات سازگار ملےAda Jafri (1924–2015)
- وہ لمحہ کہ خاموشیٔ شب نغمہ سرا تھیکانوں پہ گراں دل کے دھڑکنے کی صدا تھیAda Jafri (1924–2015)
- وہی نا صبورئ آرزو وہی نقش پا وہی جادہ ہےکوئی سنگ رہ کو خبر کرو اسی آستاں کا ارادہ ہےAda Jafri (1924–2015)
- ویسے ہی خیال آ گیا ہےیا دل میں ملال آ گیا ہےAda Jafri (1924–2015)
- ہر اک دریچہ کرن کرن ہے جہاں سے گزرے جدھر گئے ہیںہم اک دیا آرزو کا لے کر بطرز شمس و قمر گئے ہیںAda Jafri (1924–2015)
- ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھییادوں کے بھنور میں چل رہی تھیAda Jafri (1924–2015)
- ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئےآئے تو سہی بر سر الزام ہی آئےAda Jafri (1924–2015)
- یہ حکم ہے تری راہوں میں دوسرا نہ ملےشمیم جاں تجھے پیراہن صبا نہ ملےAda Jafri (1924–2015)
- یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیںیہ حال تھا کہ دل کو اسم آرزو ملا نہیںAda Jafri (1924–2015)