Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آخری ٹیس آزمانے کوجی تو چاہا تھا مسکرانے کوAda Jafri (1924–2015)
  2. آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھااچھا ہوا کہ ساتھ کسی کو لیا نہ تھاAda Jafri (1924–2015)
  3. آنکھوں میں روپ صبح کی پہلی کرن سا ہےاحوال جی کا زلف شکن در شکن سا ہےAda Jafri (1924–2015)
  4. اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتاہمیشہ ہو ستارا ہم سفر آساں نہیں ہوتاAda Jafri (1924–2015)
  5. اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانادعا آساں نہیں رہنا سخن دشوار ہو جاناAda Jafri (1924–2015)
  6. ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھیاس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھیAda Jafri (1924–2015)
  7. بیگانگئ طرز ستم بھی بہانہ سازبیچارگیٔ کرب و الم بھی بہانہ سازAda Jafri (1924–2015)
  8. توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہےدنیا میں فقط طالع بیدار چلے ہےAda Jafri (1924–2015)
  9. جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھاجینے کی آرزو تھی مگر حوصلہ نہ تھاAda Jafri (1924–2015)
  10. جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہایہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہاAda Jafri (1924–2015)
  11. چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گےلوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گےAda Jafri (1924–2015)
  12. حال کھلتا نہیں جبینوں سےرنج اٹھائے ہیں جن قرینوں سےAda Jafri (1924–2015)
  13. حس نہیں تڑپ نہیں باب عطا بھی کیوں کھلےہم ہیں گرفتہ دل ابھی ہم سے صبا بھی کیوں کھلےAda Jafri (1924–2015)
  14. خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئیابتدا رنج کی کہاں سے ہوئیAda Jafri (1924–2015)
  15. خلش تیر بے پناہ گئیلیجئے ان سے رسم و راہ گئیAda Jafri (1924–2015)
  16. خود حجابوں سا خود جمال سا تھادل کا عالم بھی بے مثال سا تھاAda Jafri (1924–2015)
  17. دل اپنا جلایا ہے کسی نے بھی خوشی سےبن جاتی ہے جی پر تو گزر جاتے ہیں جی سےAda Jafri (1924–2015)
  18. دیپ تھا یا تارا کیا جانےدل میں کیوں ڈوبا کیا جانےAda Jafri (1924–2015)
  19. ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکےچھلکے چھلکے ساغر چھلکےAda Jafri (1924–2015)
  20. روز و شب کی کوئی صورت تو بنا کر رکھوںکسی لہجے کسی آہٹ کو سجا کر رکھوںAda Jafri (1924–2015)
  21. زباں کو حکم نگاہ کرم کو پہچانےنگہ کا جرم غبار الم کو پہچانےAda Jafri (1924–2015)
  22. شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھیکیوں ورنہ انتظار بھی ہے اضطرار بھیAda Jafri (1924–2015)
  23. عالم ہی اور تھا جو شناسائیوں میں تھاجو دیپ تھا نگاہ کی پرچھائیوں میں تھاAda Jafri (1924–2015)
  24. کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیاگھلتا ہوا لہو میں یہ خورشید سا ہے کیاAda Jafri (1924–2015)
  25. کوئی خبر بھی نہ بھیجی بہار نے آتےکہ ہم بھی قسمت مژگاں سنوارنے آتےAda Jafri (1924–2015)
  26. کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہامری رات بھی ترے نام تھی اسے کس نے تیرہ شبی کہاAda Jafri (1924–2015)
  27. کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطا کار بہت ہیںاک رسم وفا تھی سو وفادار بہت ہیںAda Jafri (1924–2015)
  28. کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوںکہنے کو تو جس راہ چلایا ہے چلی ہوںAda Jafri (1924–2015)
  29. گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاںہم ایسے لوگ اب ملیں حکایتوں کے درمیاںAda Jafri (1924–2015)
  30. گلوں کو چھو کے شمیم دعا نہیں آئیکھلا ہوا تھا دریچہ صبا نہیں آئیAda Jafri (1924–2015)
  31. گھر کا رستہ بھی ملا تھا شایدراہ میں سنگ وفا تھا شایدAda Jafri (1924–2015)
  32. مجھے رنگ خواب سے زندگی کا یقیں ملاکبھی دل دکھا تو کچھ اور بھی وہ قریں ملاAda Jafri (1924–2015)
  33. مزاج و مرتبۂ چشم نم کو پہچانےجو تجھ کو دیکھ کے آئے وہ ہم کو پہچانےAda Jafri (1924–2015)
  34. نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوںمیں بجھتے بجھتے بھی پیراہن شرر میں رہوںAda Jafri (1924–2015)
  35. نہ بام و دشت نہ دریا نہ کوہسار ملےجنوں کی راہ تھی حالات سازگار ملےAda Jafri (1924–2015)
  36. وہ لمحہ کہ خاموشیٔ شب نغمہ سرا تھیکانوں پہ گراں دل کے دھڑکنے کی صدا تھیAda Jafri (1924–2015)
  37. وہی نا صبورئ آرزو وہی نقش پا وہی جادہ ہےکوئی سنگ رہ کو خبر کرو اسی آستاں کا ارادہ ہےAda Jafri (1924–2015)
  38. ویسے ہی خیال آ گیا ہےیا دل میں ملال آ گیا ہےAda Jafri (1924–2015)
  39. ہر اک دریچہ کرن کرن ہے جہاں سے گزرے جدھر گئے ہیںہم اک دیا آرزو کا لے کر بطرز شمس و قمر گئے ہیںAda Jafri (1924–2015)
  40. ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھییادوں کے بھنور میں چل رہی تھیAda Jafri (1924–2015)
  41. ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئےآئے تو سہی بر سر الزام ہی آئےAda Jafri (1924–2015)
  42. یہ حکم ہے تری راہوں میں دوسرا نہ ملےشمیم جاں تجھے پیراہن صبا نہ ملےAda Jafri (1924–2015)
  43. یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیںیہ حال تھا کہ دل کو اسم آرزو ملا نہیںAda Jafri (1924–2015)