Poetry
Poet
Meter
- خود کو کبھی نہ دیکھا آئینے ہی کو دیکھاہم سے تو کیا کہ خود سے نا آشنا رہا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- دل کے ہر جزو میں جدائی ہےدرد اٹھے آبلہ اگر بیٹھےQalaq Meerathi (1835–1880)
- رحم کر مستوں پہ کب تک طاق پر رکھے گا توساغر مے ساقیا زاہد کا ایماں ہو گیاQalaq Meerathi (1835–1880)
- زہے قسمت کہ اس کے قیدیوں میں آ گئے ہم بھیولے شور سلاسل میں ہے اک کھٹکا رہائی کاQalaq Meerathi (1835–1880)
- شہر ان کے واسطے ہے جو رہتے ہیں تجھ سے دورگھر ان کا پھر کہاں جو ترے دل میں گھر کریںQalaq Meerathi (1835–1880)
- فکر ستم میں آپ بھی پابند ہو گئےتم مجھ کو چھوڑ دو تو میں تم کو رہا کروںQalaq Meerathi (1835–1880)
- کدھر قفس تھا کہاں ہم تھے کس طرف یہ قیدکچھ اتفاق ہے صیاد آب و دانے کاQalaq Meerathi (1835–1880)
- کفر اور اسلام میں دیکھا تو نازک فرق تھادیر میں جو پاک تھا کعبے میں وہ ناپاک تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
- کیا خانہ خرابوں کا لگے تیرے ٹھکانااس شہر میں رہتے ہیں جہاں گھر نہیں ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
- کیوں کر نہ آستیں میں چھپا کر پڑھیں نمازحق تو ہے یہ عزیز ہیں بت ہی خدا کے بعدQalaq Meerathi (1835–1880)
- گلی سے اپنی ارادہ نہ کر اٹھانے کاترا قدم ہوں نہ فتنہ ہوں میں زمانے کاQalaq Meerathi (1835–1880)
- میں راز داں ہوں یہ کہ جہاں تھا وہاں نہ تھاتو بد گماں ہے وہ کہ جہاں ہے وہاں نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- نہ لگتی آنکھ تو سونے میں کیا برائی تھیخبر کچھ آپ کی ہوتی تو بے خبر ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
- واعظ یہ مے کدہ ہے نہ مسجد کہ اس جگہذکر حلال پر بھی ہے فتویٰ حرام کاQalaq Meerathi (1835–1880)
- وہ ذکر تھا تمہارا جو انتہا سے گزرایہ قصہ ہے ہمارا جو ناتمام نکلاQalaq Meerathi (1835–1880)
- وہ سنگ دل انگشت بدنداں نظر آوےایسا کوئی صدمہ مری جاں پر نہیں ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہر سنگ میں کعبہ کے نہاں عشوۂ بت ہےکیا بانیٔ اسلام بھی غارت گر دیں تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہم اس کوچے میں اٹھنے کے لیے بیٹھے ہیں مدت سےمگر کچھ کچھ سہارا ہے ابھی بے دست و پائی کاQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہو محبت کی خبر کچھ تو خبر پھر کیوں ہویہ بھی اک بے خبری ہے کہ خبر رکھتے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- ابھی سے آ گئیں نام خدا ہیں شوخیاں کیا کیامری تقدیر بن بن کر بدلتی ہے زباں کیا کیاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- ان کو حال دل پر سوز سنا کر اٹھےاور دو چار کے گھر آگ لگا کر اٹھےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- ایسے کی محبت کو محبت نہ کہیں گےاس عام عنایت کو عنایت نہ کہیں گےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- اے مہرباں ہے گر یہی صورت نباہ کیباز آئے دل لگانے سے توبہ گناہ کیZaheer Dehlvi (1835–1911)
- بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہےیہ کافر وہ قیامت ہیں طبیعت آ ہی جاتی ہےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- بزم دشمن میں جا کے دیکھ لیالے تجھے آزما کے دیکھ لیاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- بگڑ کر عدو سے دکھاتے ہیں آپبناوٹ کی باتیں بناتے ہیں آپZaheer Dehlvi (1835–1911)
- بھول کر ہرگز نہ لیتے ہم زباں سے نام عشقگر نظر آتا ہمیں آغاز میں انجام عشقZaheer Dehlvi (1835–1911)
- پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیںیہ مرے قتل کے سامان کہاں جاتے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- تلافی وفا کی جفا چاہتا ہوںتمھیں خود یہ کہہ دو برا چاہتا ہوںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیںگھول کر شہد میں وہ زہر پلا دیتے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- جاتے ہو تم جو روٹھ کے جاتے ہیں جی سے ہمتم کیا خفا ہو خود ہیں خفا زندگی سے ہمZaheer Dehlvi (1835–1911)
- جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہویہ تھوڑی وضع داری ہے کہ دشمن آشنا تم ہوZaheer Dehlvi (1835–1911)
- حریف راز ہیں اے بے خبر در و دیوارکہ گوش رکھتے ہیں سب سر بہ سر در و دیوارZaheer Dehlvi (1835–1911)
- حسینوں میں رتبہ دوبالا ہے تیراکہ بیمار الفت مسیحا ہے تیراZaheer Dehlvi (1835–1911)
- دل کو آزار لگا وہ کہ چھپا بھی نہ سکوںپردہ وہ آ کے پڑا ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- دل کو دارالسرور کہتے ہیںجلوہ گاہ حضور کہتے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- دل گیا دل کا نشاں باقی رہادل کی جا درد نہاں باقی رہاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- دے حشر کے وعدے پہ اسے کون بھلا قرضتم لے کے نہ دیتے ہو کسی کا نہ دیا قرضZaheer Dehlvi (1835–1911)
- رقیبوں کو ہم راہ لانا نہ چھوڑانہ چھوڑا مرا جی جلانا نہ چھوڑاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- رنج راحت اثر نہ ہو جائےدرد کا دل میں گھر نہ ہو جائےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- رنگ جمنے نہ دیا بات کو چلنے نہ دیاکوئی پہلو مرے مطلب کا نکلنے نہ دیاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- رہتا تو ہے اس بزم میں چرچا مرے دل کااچھا ہے یہ اچھا ہو نہ سودا مرے دل کاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- ساقیا مر کے اٹھیں گے ترے مے خانے سےعہد و پیماں ہیں یہی زیست میں پیمانے سےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- سخت دشوار ہے پہلو میں بچانا دل کاکچھ نگاہوں سے برستا ہے چرانا دل کاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- عشق اور عشق شعلہ ور کی آگآگ اور الفت بشر کی آگZaheer Dehlvi (1835–1911)
- غوغائے پند گو نہ رہا نوحہ گر رہاہنگامہ اک نہ اک مرے بالین پر رہاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- فتنہ گر شوخی حیا کب تکدیکھنا اور نہ دیکھنا کب تکZaheer Dehlvi (1835–1911)
- کچھ شکوے گلے ہوتے کچھ طیش سوا ہوتاقسمت میں نہ ملنا تھا ملتے بھی تو کیا ہوتاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- کچھ نہ کچھ رنج وہ دے جاتے ہیں آتے جاتےچھوڑ جاتے ہیں شگوفے کوئی جاتے جاتےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- کفر میں بھی ہم رہے قسمت سے ایماں کی طرفشکر ہے کعبہ بھی نکلا کوئے جاناں کی طرفZaheer Dehlvi (1835–1911)