Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. خود کو کبھی نہ دیکھا آئینے ہی کو دیکھاہم سے تو کیا کہ خود سے نا آشنا رہا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
  2. دل کے ہر جزو میں جدائی ہےدرد اٹھے آبلہ اگر بیٹھےQalaq Meerathi (1835–1880)
  3. رحم کر مستوں پہ کب تک طاق پر رکھے گا توساغر مے ساقیا زاہد کا ایماں ہو گیاQalaq Meerathi (1835–1880)
  4. زہے قسمت کہ اس کے قیدیوں میں آ گئے ہم بھیولے شور سلاسل میں ہے اک کھٹکا رہائی کاQalaq Meerathi (1835–1880)
  5. شہر ان کے واسطے ہے جو رہتے ہیں تجھ سے دورگھر ان کا پھر کہاں جو ترے دل میں گھر کریںQalaq Meerathi (1835–1880)
  6. فکر ستم میں آپ بھی پابند ہو گئےتم مجھ کو چھوڑ دو تو میں تم کو رہا کروںQalaq Meerathi (1835–1880)
  7. کدھر قفس تھا کہاں ہم تھے کس طرف یہ قیدکچھ اتفاق ہے صیاد آب و دانے کاQalaq Meerathi (1835–1880)
  8. کفر اور اسلام میں دیکھا تو نازک فرق تھادیر میں جو پاک تھا کعبے میں وہ ناپاک تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
  9. کیا خانہ خرابوں کا لگے تیرے ٹھکانااس شہر میں رہتے ہیں جہاں گھر نہیں ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
  10. کیوں کر نہ آستیں میں چھپا کر پڑھیں نمازحق تو ہے یہ عزیز ہیں بت ہی خدا کے بعدQalaq Meerathi (1835–1880)
  11. گلی سے اپنی ارادہ نہ کر اٹھانے کاترا قدم ہوں نہ فتنہ ہوں میں زمانے کاQalaq Meerathi (1835–1880)
  12. میں راز داں ہوں یہ کہ جہاں تھا وہاں نہ تھاتو بد گماں ہے وہ کہ جہاں ہے وہاں نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  13. نہ لگتی آنکھ تو سونے میں کیا برائی تھیخبر کچھ آپ کی ہوتی تو بے خبر ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
  14. واعظ یہ مے کدہ ہے نہ مسجد کہ اس جگہذکر حلال پر بھی ہے فتویٰ حرام کاQalaq Meerathi (1835–1880)
  15. وہ ذکر تھا تمہارا جو انتہا سے گزرایہ قصہ ہے ہمارا جو ناتمام نکلاQalaq Meerathi (1835–1880)
  16. وہ سنگ دل انگشت بدنداں نظر آوےایسا کوئی صدمہ مری جاں پر نہیں ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
  17. ہر سنگ میں کعبہ کے نہاں عشوۂ بت ہےکیا بانیٔ اسلام بھی غارت گر دیں تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
  18. ہم اس کوچے میں اٹھنے کے لیے بیٹھے ہیں مدت سےمگر کچھ کچھ سہارا ہے ابھی بے دست و پائی کاQalaq Meerathi (1835–1880)
  19. ہو محبت کی خبر کچھ تو خبر پھر کیوں ہویہ بھی اک بے خبری ہے کہ خبر رکھتے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  20. ابھی سے آ گئیں نام خدا ہیں شوخیاں کیا کیامری تقدیر بن بن کر بدلتی ہے زباں کیا کیاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  21. ان کو حال دل پر سوز سنا کر اٹھےاور دو چار کے گھر آگ لگا کر اٹھےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  22. ایسے کی محبت کو محبت نہ کہیں گےاس عام عنایت کو عنایت نہ کہیں گےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  23. اے مہرباں ہے گر یہی صورت نباہ کیباز آئے دل لگانے سے توبہ گناہ کیZaheer Dehlvi (1835–1911)
  24. بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہےیہ کافر وہ قیامت ہیں طبیعت آ ہی جاتی ہےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  25. بزم دشمن میں جا کے دیکھ لیالے تجھے آزما کے دیکھ لیاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  26. بگڑ کر عدو سے دکھاتے ہیں آپبناوٹ کی باتیں بناتے ہیں آپZaheer Dehlvi (1835–1911)
  27. بھول کر ہرگز نہ لیتے ہم زباں سے نام عشقگر نظر آتا ہمیں آغاز میں انجام عشقZaheer Dehlvi (1835–1911)
  28. پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیںیہ مرے قتل کے سامان کہاں جاتے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  29. تلافی وفا کی جفا چاہتا ہوںتمھیں خود یہ کہہ دو برا چاہتا ہوںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  30. تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیںگھول کر شہد میں وہ زہر پلا دیتے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  31. جاتے ہو تم جو روٹھ کے جاتے ہیں جی سے ہمتم کیا خفا ہو خود ہیں خفا زندگی سے ہمZaheer Dehlvi (1835–1911)
  32. جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہویہ تھوڑی وضع داری ہے کہ دشمن آشنا تم ہوZaheer Dehlvi (1835–1911)
  33. حریف راز ہیں اے بے خبر در و دیوارکہ گوش رکھتے ہیں سب سر بہ سر در و دیوارZaheer Dehlvi (1835–1911)
  34. حسینوں میں رتبہ دوبالا ہے تیراکہ بیمار الفت مسیحا ہے تیراZaheer Dehlvi (1835–1911)
  35. دل کو آزار لگا وہ کہ چھپا بھی نہ سکوںپردہ وہ آ کے پڑا ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  36. دل کو دارالسرور کہتے ہیںجلوہ گاہ حضور کہتے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  37. دل گیا دل کا نشاں باقی رہادل کی جا درد نہاں باقی رہاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  38. دے حشر کے وعدے پہ اسے کون بھلا قرضتم لے کے نہ دیتے ہو کسی کا نہ دیا قرضZaheer Dehlvi (1835–1911)
  39. رقیبوں کو ہم راہ لانا نہ چھوڑانہ چھوڑا مرا جی جلانا نہ چھوڑاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  40. رنج راحت اثر نہ ہو جائےدرد کا دل میں گھر نہ ہو جائےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  41. رنگ جمنے نہ دیا بات کو چلنے نہ دیاکوئی پہلو مرے مطلب کا نکلنے نہ دیاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  42. رہتا تو ہے اس بزم میں چرچا مرے دل کااچھا ہے یہ اچھا ہو نہ سودا مرے دل کاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  43. ساقیا مر کے اٹھیں گے ترے مے خانے سےعہد و پیماں ہیں یہی زیست میں پیمانے سےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  44. سخت دشوار ہے پہلو میں بچانا دل کاکچھ نگاہوں سے برستا ہے چرانا دل کاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  45. عشق اور عشق شعلہ ور کی آگآگ اور الفت بشر کی آگZaheer Dehlvi (1835–1911)
  46. غوغائے پند گو نہ رہا نوحہ گر رہاہنگامہ اک نہ اک مرے بالین پر رہاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  47. فتنہ گر شوخی حیا کب تکدیکھنا اور نہ دیکھنا کب تکZaheer Dehlvi (1835–1911)
  48. کچھ شکوے گلے ہوتے کچھ طیش سوا ہوتاقسمت میں نہ ملنا تھا ملتے بھی تو کیا ہوتاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  49. کچھ نہ کچھ رنج وہ دے جاتے ہیں آتے جاتےچھوڑ جاتے ہیں شگوفے کوئی جاتے جاتےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  50. کفر میں بھی ہم رہے قسمت سے ایماں کی طرفشکر ہے کعبہ بھی نکلا کوئے جاناں کی طرفZaheer Dehlvi (1835–1911)