حریف راز ہیں اے بے خبر در و دیوار

Zaheer Dehlvi (1835–1911)

حریف راز ہیں اے بے خبر در و دیوار

کہ گوش رکھتے ہیں سب سر بہ سر در و دیوار

نوید مقدم فصل بہار سن سن کر

اڑیں گے شوق میں بے بال و پر در و دیوار

شب فراق میں گھر مجھ کو کاٹے کھاتا ہے

بنا ہے اک سگ دیوانہ ہر در و دیوار

تمہارے غم نے وہ صورت مری بنائی ہے

کہ رو رہے ہیں مرے حال پر در و دیوار

ہجوم رنج و قلق میں ظہیرؔ کیا کہئے

نہیں ہیں مونس خلوت مگر در و دیوار