Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. قطرے ہیں یہ سب جس کے وہ دریا ہے علیپنہاں ہے کبھی تو گاہ پیدا ہے علیMir Anees (1803–1874)
  2. کھو دل کے مرض کو اے طبیب امتسکھلا آداب اے ادیب امتMir Anees (1803–1874)
  3. کھینچے مجھے موت زندگانی کی طرفغم خود لے جائے شادمانی کی طرفMir Anees (1803–1874)
  4. لا ریب بہشتیوں کا مرجع ہے یہسب جس میں بھرے ہیں گل و مجمع ہے یہMir Anees (1803–1874)
  5. آدم کو عجب خدا نے رتبہ بخشاادنیٰ کے لیے مقام اعلیٰ بخشاMir Anees (1803–1874)
  6. آدم کو یہ تحفہ یہ ہدیہ نہ ملاایسا تو کسی بشر کو پایا نہ ملاMir Anees (1803–1874)
  7. اب خواب سے چونک وقت بیداری ہےلے زاد سفر کوچ کی تیاری ہےMir Anees (1803–1874)
  8. اب گرم خبر موت کے آنے کی ہےغافل تجھے فکر آب و دانے کی ہےMir Anees (1803–1874)
  9. اب وقت سرور او فرحت اندوزی ہےہر دل مصروف جشن نو روزی ہےMir Anees (1803–1874)
  10. اب ہند کی ظلمت سے نکلتا ہوں میںتوفیق رفیق ہو تو چلتا ہوں میںMir Anees (1803–1874)
  11. اتنا نہ غرور کر کہ مرنا ہے تجھےآرام ابھی قبر میں کرنا ہے تجھےMir Anees (1803–1874)
  12. اشکوں میں نہاؤ تو جگر ٹھنڈے ہوںبھیگے جو مژہ دیدۂ تر ٹھنڈے ہوںMir Anees (1803–1874)
  13. اصحاب نے پوچھا جو نبی کو دیکھامعراج میں حضرت نے کسی کو دیکھاMir Anees (1803–1874)
  14. اعلیٰ رتبے میں ہر بشر سے پایاافضل انہیں خضر راہ بر سے پایاMir Anees (1803–1874)
  15. اکبر نے جو گھر موت کا آباد کیاصغرا کو دم نزع بہت یاد کیاMir Anees (1803–1874)
  16. انجام پہ اپنے آہ و زاری کر توسختی بھی جو ہو تو بردباری کر توMir Anees (1803–1874)
  17. انداز سخن تم جو ہمارے سمجھوجو لطف کلام ہیں وہ سارے سمجھوMir Anees (1803–1874)
  18. اے بخت رسا سوئے نجف راہی کرمجھ زار کو زائر ید اللہی کرMir Anees (1803–1874)
  19. اے شاہ کے غم میں جان کھونے والواے ابن علی کے صدقے ہونے والوMir Anees (1803–1874)
  20. بادل آ کے رو گئے ہائے غضبآنسو نایاب ہو گئے ہائے غضبMir Anees (1803–1874)
  21. بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے ابہشیار انیس تو مسافر ہے ابMir Anees (1803–1874)
  22. برہم ہے جہاں عجب تلاطم ہے آجسب روتے ہیں دنیا میں خوشی گم ہے آجMir Anees (1803–1874)
  23. بست و یکم ماہ محرم ہے آججس آنکھ کو دیکھیے وہ پر نم ہے آجMir Anees (1803–1874)
  24. بے جا نہیں مدح شہ میں غرا میرابھرتی سے کلام ہے معرا میراMir Anees (1803–1874)
  25. بے دینوں کو مرتضیٰ نے ایماں بخشادین داروں کو جنت کا گلستاں بخشاMir Anees (1803–1874)
  26. پتلی کی طرح نظر سے مستور ہے توآنکھیں جسے ڈھونڈھتی ہیں وہ نور ہے توMir Anees (1803–1874)
  27. تھے زیست سے اپنی ہاتھ دھوئے سجادشب کو کبھی راحت سے نہ سوئے سجادMir Anees (1803–1874)
  28. ٹھوکر بھی نہ ماریں گے اگر خود سر ہےزردار کو بھی فروتنی بہتر ہےMir Anees (1803–1874)
  29. جس پر کہ نظر لطف کی شبیر کریںادنیٰ اعلیٰ سب اس کی توقیر کریںMir Anees (1803–1874)
  30. جو چشم غم شہ میں سدا روتی ہےہر لمحہ فزوں اس میں ضیا ہوتی ہےMir Anees (1803–1874)
  31. جو مرتبہ احمد کے وصی کا دیکھاہم نے نہیں رتبہ یہ کسی کا دیکھاMir Anees (1803–1874)
  32. داماد رسول کی شہادت ہے آجمعصوموں پہ فاطمہ کے آفت ہے آجMir Anees (1803–1874)
  33. دشمن کو بھی دے خدا نہ اولاد کا داغجاتا نہیں ہرگز دل ناشاد کا داغMir Anees (1803–1874)
  34. دکھ میں ہر شب کراہتا ہوں یارباب زیست کے دن نباہتا ہوں یاربMir Anees (1803–1874)
  35. دل نے غم بے حساب کیا کیا دیکھاآنکھوں سے جہاں میں خواب کیا کیا دیکھاMir Anees (1803–1874)
  36. دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھیہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھیMir Anees (1803–1874)
  37. راہی طرف عالم بالا ہوں میںدنیا سے عدم کو جانے والا ہوں میںMir Anees (1803–1874)
  38. رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہےوہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہےMir Anees (1803–1874)
  39. سر کھینچ نہ شمشیر کشیدہ کی طرحہر ایک سے جھک قوس خمیدہ کی طرحMir Anees (1803–1874)
  40. شبیر کا غم یہ جس کے دل پر ہوگاآنسو جو گرے گا شکل گوہر ہوگاMir Anees (1803–1874)
  41. ظاہر وہی الفت کے اثر ہیں اب تکقربان شہہ جن و بشر ہیں اب تکMir Anees (1803–1874)
  42. عریاں سر خاتون زمن ہے اب تکناموس پہ ایذا و محن ہے اب تکMir Anees (1803–1874)
  43. غفلت میں نہ کھو عمر کہ پچھتائے گارونا ہی غم شاہ میں کام آئے گاMir Anees (1803–1874)
  44. فرصت کوئی ساعت نہ زمانے سے ملیبیگانے سے راحت نہ یگانے سے ملیMir Anees (1803–1874)
  45. کچھ ملک عدم میں رنج کا نام نہ تھامعلوم ہمیں اپنا سرانجام نہ تھاMir Anees (1803–1874)
  46. کس طرح کرے نہ ایک عالم افسوسجی بھر کے کیا نہ شہ کا ماتم افسوسMir Anees (1803–1874)
  47. کیا دست مژہ کو ہاتھ آئی تسبیحسبحان اللہ کیا بنائی تسبیحMir Anees (1803–1874)
  48. کیوں کر دل غمزدہ نہ فریاد کرےجب ملک کو چرخ پیر برباد کرےMir Anees (1803–1874)
  49. گلزار جہاں سے باغ جنت میں گئےمرحوم ہوئے جوار رحمت میں گئےMir Anees (1803–1874)
  50. گلشن میں پھروں کہ سیر صحرا دیکھوںیا معدن و کوہ و دشت و دریا دیکھوںMir Anees (1803–1874)