Poetry
Poet
Meter
- گلشن میں صبا کو جستجو تیری ہےبلبل کی زبان پہ گفتگو تیری ہےMir Anees (1803–1874)
- مے خانۂ کوثر کا شرابی ہوں میںکیا قبر کا خوف بو ترابی ہوں میںMir Anees (1803–1874)
- ہر چند کہ خستہ و حزیں ہے آوازپر تعزیہ دار شاہ دیں ہے آوازMir Anees (1803–1874)
- ہر غنچے سے شاخ گل ہے کیوں نذر بکفہے روز خلافت شہنشاہ نجفMir Anees (1803–1874)
- ہشیار ہے سب سے با خبر ہے جب تکبیدار ہے عالم پہ نظر ہے جب تکMir Anees (1803–1874)
- ہو جاتی ہے سہل پیش دانا مشکلدل نے نہ کسی امر کو جانا مشکلMir Anees (1803–1874)
- جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نےجلوہ کیاسحر کے رخِ بے حجاب نےMir Anees (1803–1874)
- دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہےذروں میں روشنئ تجلئ طور ہےMir Anees (1803–1874)
- آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہےظلم کی چاند پہ زہراؔ کی گھٹا چھائی ہےMir Anees (1803–1874)
- آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہےصبح سے جشن کا غل شام کے بازار میں ہےMir Anees (1803–1874)
- بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔایک دو لاکھ سواروں میں بہادر تھا حُرؔMir Anees (1803–1874)
- جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوافوجِ خدا پہ سایۂ ابرِ کرم ہواMir Anees (1803–1874)
- جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئیپردیس میں سادات پہ، آفت عجب آئیMir Anees (1803–1874)
- فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہےسادات کی بستی کے اجڑنے کی خبر ہےMir Anees (1803–1874)
- کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئےلاکھوں سے تشنہ کام لڑے کام کر گئےMir Anees (1803–1874)
- نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میریناطقے بند ہیں سن سن کے بلاغت میریMir Anees (1803–1874)
- یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کراے ابرِ کرم خشک زراعت پہ کرم کرMir Anees (1803–1874)
- اے بت ہیں حسن میں تری مشہور پنڈلیاںایسی کہاں سے لائے پری حور پنڈلیاںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- پھولوں کو اپنے پاؤں سے ٹھکرائے جاتے ہیںمل کر وہ عطر باغ میں اترائے جاتے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- تشریف شب وعدہ جو وہ لائے ہوئے ہیںسر خم ہے نظر نیچی ہے شرمائے ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- دل آنکھوں سے عاشق بچائے ہوئے ہیںہرن کو وہ چیتا بنائے ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- دل مجھے کفر آشنا نہ کرےبندہ بت کا ہوں میں خدا نہ کرےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- روح تنہا گئی جنت کو سبکساری سےچار کے کاندھے اٹھا جسم گرانباری سےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- سر کٹا کر صفت شمع جو مر جاتے ہیںنام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- کوئی پری ہو اگر ہمکنار ہولی میںتو اب کی سال ہو دونی بہار ہولی میںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- اس قدر محو نہ ہوں آپ خود آرائی میںداغ لگ جائے نہ آئینۂ یکتائی میںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- اک بات پر قرار انہیں رات بھر نہیںدو دو پہر جو ہاں ہے تو دو دو پہر نہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- پورا کریں گے ہولی میں کیا وعدۂ وصالجن کو ابھی بسنت کی اے دل خبر نہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- پھر نہ باقی رہے غبار کبھیہولی کھیلو جو خاکساروں میںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- تری تعریف ہو اے صاحب اوصاف کیا ممکنزبانوں سے دہانوں سے تکلم سے بیانوں سےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- چالیس جام پی کے دیا ایک جام مےساقی نے خوب راہ نکالی زکوٰۃ کیKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- چلتی تو ہے پر شوخئ رفتار کہاں ہےتلوار میں پازیب کی جھنکار کہاں ہےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- دریائے شراب اس نے بہایا ہے ہمیشہساقی سے جو کشتی کے طلب گار ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- سبز کپڑوں میں سیہ زلف کی زیبائی ہےدھان کے کھیت میں کیا کالی گھٹا چھائی ہےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- لوگ کہتے ہیں کہ فن شاعری منحوس ہےشعر کہتے کہتے میں ڈپٹی کلکٹر ہو گیاKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- ناؤ کاغذ کی تن خاکیٔ انساں سمجھوغرق ہو جائیں گی چھینٹا جو پڑا پانی کاKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- وہ اور مرض ہیں کہ شفا ہوتی ہے جن سےاچھے کہیں ان آنکھوں کے بیمار ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- ہو گئے رام جو تم غیر سے اے جان جہاںجل رہی ہے دل پر نور کی لنکا دیکھوKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- ہیں دین کے پابند نہ دنیا کے مقیدکیا عشق نے اس بھول بھلیاں سے نکالاKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- آج ہی کیا آگ ہے، سرگرمِ کیں تو کب نہ تھاشمع ساں مجبورِ خوئے آتشیں تو کب نہ تھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اپنے جوار میں ہمیں مسکن بنا دیادشمن کو اور دوست نے دشمن بنا دیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اُٹھے نہ چھوڑ کے ہم آستانِ بادہ فروشطلسمِ ہوش ربا ہے دکانِ بادہ فروشMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اثر آہ دل زار کی افواہیں ہیںیعنی مجھ پر کرم یار کی افواہیں ہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- ادھر مائل کہاں وہ مہ جبیں ہےفلک کو مجھ سے کیوں پرخاش و کیں ہےMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اُس بزم میں ہر ایک سے کم تر نظر آیاوہ حسن کہ خورشید کے عہدے سے بر آیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اُس وفا کی مجھ سے پھر امیدواری ہے عبثدل فریبی کی لگاوٹ، یہ تمہاری ہے عبثMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اصحابِ درد کو ہے عجب تیزیِ خیالمثل زبانِ نطق قلم کی زبانِ حالMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اُن کو دسشمن سے ہے محبت خاصیہ ہمارا ہے ثمرہ اخلاصMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اے شیفتہ نویدِ شبِ غم سحر ہے آجہم تابِ آفتاب، فروغِ قمر ہے آجMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- بس کہ آغازِ محبت میں ہوا کام اپناپوچھتے ہیں ملک الموت سے انجام اپناMustafa Khan Shefta (1809–1869)