Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. گلشن میں صبا کو جستجو تیری ہےبلبل کی زبان پہ گفتگو تیری ہےMir Anees (1803–1874)
  2. مے خانۂ کوثر کا شرابی ہوں میںکیا قبر کا خوف بو ترابی ہوں میںMir Anees (1803–1874)
  3. ہر چند کہ خستہ و حزیں ہے آوازپر تعزیہ دار شاہ دیں ہے آوازMir Anees (1803–1874)
  4. ہر غنچے سے شاخ گل ہے کیوں نذر بکفہے روز خلافت شہنشاہ نجفMir Anees (1803–1874)
  5. ہشیار ہے سب سے با خبر ہے جب تکبیدار ہے عالم پہ نظر ہے جب تکMir Anees (1803–1874)
  6. ہو جاتی ہے سہل پیش دانا مشکلدل نے نہ کسی امر کو جانا مشکلMir Anees (1803–1874)
  7. جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نےجلوہ کیاسحر کے رخِ بے حجاب نےMir Anees (1803–1874)
  8. دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہےذروں میں روشنئ تجلئ طور ہےMir Anees (1803–1874)
  9. آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہےظلم کی چاند پہ زہراؔ کی گھٹا چھائی ہےMir Anees (1803–1874)
  10. آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہےصبح سے جشن کا غل شام کے بازار میں ہےMir Anees (1803–1874)
  11. بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔایک دو لاکھ سواروں میں بہادر تھا حُرؔMir Anees (1803–1874)
  12. جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوافوجِ خدا پہ سایۂ ابرِ کرم ہواMir Anees (1803–1874)
  13. جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئیپردیس میں سادات پہ، آفت عجب آئیMir Anees (1803–1874)
  14. فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہےسادات کی بستی کے اجڑنے کی خبر ہےMir Anees (1803–1874)
  15. کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئےلاکھوں سے تشنہ کام لڑے کام کر گئےMir Anees (1803–1874)
  16. نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میریناطقے بند ہیں سن سن کے بلاغت میریMir Anees (1803–1874)
  17. یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کراے ابرِ کرم خشک زراعت پہ کرم کرMir Anees (1803–1874)
  18. اے بت ہیں حسن میں تری مشہور پنڈلیاںایسی کہاں سے لائے پری حور پنڈلیاںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  19. پھولوں کو اپنے پاؤں سے ٹھکرائے جاتے ہیںمل کر وہ عطر باغ میں اترائے جاتے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  20. تشریف شب وعدہ جو وہ لائے ہوئے ہیںسر خم ہے نظر نیچی ہے شرمائے ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  21. دل آنکھوں سے عاشق بچائے ہوئے ہیںہرن کو وہ چیتا بنائے ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  22. دل مجھے کفر آشنا نہ کرےبندہ بت کا ہوں میں خدا نہ کرےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  23. روح تنہا گئی جنت کو سبکساری سےچار کے کاندھے اٹھا جسم گرانباری سےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  24. سر کٹا کر صفت شمع جو مر جاتے ہیںنام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  25. کوئی پری ہو اگر ہمکنار ہولی میںتو اب کی سال ہو دونی بہار ہولی میںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  26. اس قدر محو نہ ہوں آپ خود آرائی میںداغ لگ جائے نہ آئینۂ یکتائی میںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  27. اک بات پر قرار انہیں رات بھر نہیںدو دو پہر جو ہاں ہے تو دو دو پہر نہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  28. پورا کریں گے ہولی میں کیا وعدۂ وصالجن کو ابھی بسنت کی اے دل خبر نہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  29. پھر نہ باقی رہے غبار کبھیہولی کھیلو جو خاکساروں میںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  30. تری تعریف ہو اے صاحب اوصاف کیا ممکنزبانوں سے دہانوں سے تکلم سے بیانوں سےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  31. چالیس جام پی کے دیا ایک جام مےساقی نے خوب راہ نکالی زکوٰۃ کیKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  32. چلتی تو ہے پر شوخئ رفتار کہاں ہےتلوار میں پازیب کی جھنکار کہاں ہےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  33. دریائے شراب اس نے بہایا ہے ہمیشہساقی سے جو کشتی کے طلب گار ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  34. سبز کپڑوں میں سیہ زلف کی زیبائی ہےدھان کے کھیت میں کیا کالی گھٹا چھائی ہےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  35. لوگ کہتے ہیں کہ فن شاعری منحوس ہےشعر کہتے کہتے میں ڈپٹی کلکٹر ہو گیاKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  36. ناؤ کاغذ کی تن خاکیٔ انساں سمجھوغرق ہو جائیں گی چھینٹا جو پڑا پانی کاKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  37. وہ اور مرض ہیں کہ شفا ہوتی ہے جن سےاچھے کہیں ان آنکھوں کے بیمار ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  38. ہو گئے رام جو تم غیر سے اے جان جہاںجل رہی ہے دل پر نور کی لنکا دیکھوKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  39. ہیں دین کے پابند نہ دنیا کے مقیدکیا عشق نے اس بھول بھلیاں سے نکالاKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  40. آج ہی کیا آگ ہے، سرگرمِ کیں تو کب نہ تھاشمع ساں مجبورِ خوئے آتشیں تو کب نہ تھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  41. اپنے جوار میں ہمیں مسکن بنا دیادشمن کو اور دوست نے دشمن بنا دیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  42. اُٹھے نہ چھوڑ کے ہم آستانِ بادہ فروشطلسمِ ہوش ربا ہے دکانِ بادہ فروشMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  43. اثر آہ دل زار کی افواہیں ہیںیعنی مجھ پر کرم یار کی افواہیں ہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  44. ادھر مائل کہاں وہ مہ جبیں ہےفلک کو مجھ سے کیوں پرخاش و کیں ہےMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  45. اُس بزم میں ہر ایک سے کم تر نظر آیاوہ حسن کہ خورشید کے عہدے سے بر آیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  46. اُس وفا کی مجھ سے پھر امیدواری ہے عبثدل فریبی کی لگاوٹ، یہ تمہاری ہے عبثMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  47. اصحابِ درد کو ہے عجب تیزیِ خیالمثل زبانِ نطق قلم کی زبانِ حالMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  48. اُن کو دسشمن سے ہے محبت خاصیہ ہمارا ہے ثمرہ اخلاصMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  49. اے شیفتہ نویدِ شبِ غم سحر ہے آجہم تابِ آفتاب، فروغِ قمر ہے آجMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  50. بس کہ آغازِ محبت میں ہوا کام اپناپوچھتے ہیں ملک الموت سے انجام اپناMustafa Khan Shefta (1809–1869)