ظاہر وہی الفت کے اثر ہیں اب تک

Mir Anees (1803–1874)

ظاہر وہی الفت کے اثر ہیں اب تک

قربان شہہ جن و بشر ہیں اب تک

ہوتے ہیں علم آگے جب اٹھتی ہے ضریح

عباس علی سینہ سپر ہیں اب تک