Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. بگڑنے سے تمہارے کیا کہوں میں کیا بگڑتا ہےکلیجا منہ کو آ جاتا ہے دل ایسا بگڑتا ہےنظام رامپوری
  2. کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہےبدل کر وضع چھپ کر شب کو آنا یاد آتا ہےنظام رامپوری
  3. کسی نے پکڑا دامن اور کسی نے آستیں پکڑینہ اٹھا میں ہی اس کوچے سے یہ میں نے زمیں پکڑینظام رامپوری
  4. کہتے ہیں سن کے ماجرا میراتم سے کس روز ربط تھا میرانظام رامپوری
  5. گر دوستو تم نے اسے دیکھا نہیں ہوتاکہنے کا تمہارے مجھے شکوا نہیں ہوتانظام رامپوری
  6. گر کہوں مطلب تمہارا کھل گیاکہتے ہیں اچھا ہوا کیا کھل گیانظام رامپوری
  7. مری سانس اب چارا گر ٹوٹتی ہےکہیں جڑتی ہے پھر کہیں ٹوٹتی ہےنظام رامپوری
  8. واں تو ملنے کا ارادہ ہی نہیںیاں وہ خواہش ہے کہ ہوتا ہی نہیںنظام رامپوری
  9. وہ تو یوں ہی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتامیرا یہ مقولہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتانظام رامپوری
  10. آپ جن کے قریب ہوتے ہیںوہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیںنوح ناروی
  11. ابھی کم سن ہیں معلومات کتنیوہ کتنے اور ان کی بات کتنینوح ناروی
  12. اس حسیں کا خیال ہے دل میںجس کا آنا محال ہے دل میںنوح ناروی
  13. اگر اس کا مرا جھگڑا یہیں طے ہو تو اچھا ہوخدا جانے خدا کے سامنے کل کیا نہ ہو کیا ہونوح ناروی
  14. اہل الفت سے تنے جاتے ہیںروز روز آپ بنے جاتے ہیںنوح ناروی
  15. بحر غم میں دل کا قرینہلاکھوں موجیں ایک سفینہنوح ناروی
  16. بطور یادگار زہد مے خانے میں رکھ دینامری ٹوٹی ہوئی توبہ کو پیمانے میں رکھ دینانوح ناروی
  17. تاب نہیں سکوں نہیں دل نہیں اب جگر نہیںاپنی نظر کدھر اٹھے کوئی ادھر ادھر نہیںنوح ناروی
  18. جو اچھے ہیں ان کی کہانی بھی اچھیلڑکپن بھی اچھا جوانی بھی اچھینوح ناروی
  19. چین ہو یا بے چینی ہو پہلے دل گھبرائے گاجاتے جاتے جائے گی آتے آتے آئے گانوح ناروی
  20. حسن کو شکلیں دکھانی آ گئیںشوخیاں لے کر جوانی آ گئیںنوح ناروی
  21. خدا سے ظلم کا شکوہ ضرور میں نے کیابڑا قصور یہ اے رشک حور میں نے کیانوح ناروی
  22. خیال میں اک نہ اک مزے کی نئی کہانی ہے اور ہم ہیںابھی تمنا ہے اور دل ہے ابھی جوانی ہے اور ہم ہیںنوح ناروی
  23. دل ہماری طرف سے صاف کروجو ہوا سو ہوا معاف کرونوح ناروی
  24. دولت ہے بڑی چیز حکومت ہے بڑی چیزان سب سے بشر کے لئے عزت ہے بڑی چیزنوح ناروی
  25. دونوں گھروں کا لطف جداگانہ مل گیاکعبے سے ہم چلے تھے کہ بت خانہ مل گیانوح ناروی
  26. سوال وصل پہ عذر وصال کر بیٹھےوہ کس خیال سے ایسا خیال کر بیٹھےنوح ناروی
  27. شکوؤں پہ ستم آہوں پہ جفا سو بار ہوئی سو بار ہواہر بات مجھے ہر کام مجھے دشوار ہوئی دشوار ہوانوح ناروی
  28. عشق میں مجھ کو بگڑ کر اب سنورنا آ گیاہو گیا ناکام لیکن کام کرنا آ گیانوح ناروی
  29. فروغ حسن میں کیا بے ثبات دل کا وجودوہ آفتاب یہ شبنم وہ آگ یہ بارودنوح ناروی
  30. کوچۂ یار میں کچھ دور چلے جاتے ہیںہم طبیعت سے ہیں مجبور چلے جاتے ہیںنوح ناروی
  31. کوئی نہیں پچھتانے والامر جائے مر جانے والانوح ناروی
  32. کیا کہوں ہم نشیں یہ میرا بھاگایک جان اور سیکڑوں ہیں کھڑاگنوح ناروی
  33. کیا وصل کی امید مرے دل کو کبھی ہواس شوخ کی تصویر بھی جب مجھ سے کھنچی ہونوح ناروی
  34. کیا وصل کے اقرار پہ مجھ کو ہو خوشی آجاس کی بھی یہ صورت ہے کبھی کل ہے کبھی آجنوح ناروی
  35. کیوں آپ کو خلوت میں لڑائی کی پڑی ہےملنے کی گھڑی ہے کہ یہ لڑنے کی گھڑی ہےنوح ناروی
  36. گل زار میں یہ کہتی ہے بلبل گل تر سےدیکھے کوئی معشوق کو عاشق کی نظر سےنوح ناروی
  37. گلشن میں کبھی ہم سنتے تھے وہ کیا تھا زمانہ پھولوں کاکلیوں سے کہانی کلیوں کی پھولوں سے فسانہ پھولوں کانوح ناروی
  38. مانا کہ مرا دل بھی جگر بھی ہے کوئی چیزلیکن وہ نظر تیر نظر بھی ہے کوئی چیزنوح ناروی
  39. محبت کا اچھا نتیجہ نہ دیکھانہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھانوح ناروی
  40. مرا دل دیکھو اب یا میرے دشمن کا جگر دیکھوتمہارے بس میں آنکھیں ہیں جدھر جاؤ ادھر دیکھونوح ناروی
  41. مرے دل کی خطائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیںخطاؤں پر سزائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیںنوح ناروی
  42. میرے جینے کا طور کچھ بھی نہیںسانس چلتی ہے اور کچھ بھی نہیںنوح ناروی
  43. میں تردد سے کبھی خالی نہیںعاشقی میں فارغ البالی نہیںنوح ناروی
  44. میں کسی شوخ کی گلی میں نہیںزندگی میری زندگی میں نہیںنوح ناروی
  45. نکھر آئی نکھار آئی سنور آئی سنوار آئیگلوں کی زندگی لے کر گلستاں میں بہار آئینوح ناروی
  46. وہ کریں گے مرا قصور معافہو چکا کر چکے ضرور معافنوح ناروی
  47. ہر صدائے عشق میں اک راز ہےنالۂ دل غیب کی آواز ہےنوح ناروی
  48. ہماری جب ہماری اب ہماری کب سے کیا مطلبغرض ان کو غرض سے کیا غرض مطلب سے کیا مطلبنوح ناروی
  49. ہم عشق میں ان مکاروں کے بے فائدہ جلتے بھنتے ہیںمطلب جو ہمارا سن سن کر کہتے ہیں ہم اونچا سنتے ہیںنوح ناروی
  50. یوں نہ میری بات مانی جائے گیخوب جانچی خوب چھانی جائے گینوح ناروی