یہ ہجر کا رستہ ہے ڈھلانیں نہیں ہوتیں
Munawwar Ranaیہ ہجر کا رستہ ہے ڈھلانیں نہیں ہوتیں
صحرا میں چراغوں کی دکانیں نہیں ہوتیں
خوشبو کا یہ جھونکا ابھی آیا ہے ادھر سے
کس نے کہا صحرا میں اذانیں نہیں ہوتیں
کیا مرتے ہوئے لوگ یہ انسان نہیں ہیں
کیا ہنستے ہوئے پھولوں میں جانیں نہیں ہوتیں
اب کوئی غزل چہرہ دکھائی نہیں دیتا
اب شہر میں ابرو کی کمانیں نہیں ہوتیں
ان پر کسی موسم کا اثر کیوں نہیں ہوتا
رد کیوں تری یادوں کی اڑانیں نہیں ہوتیں
یہ شیر ہے چھپ کر کبھی حملہ نہیں کرتا
میدانی علاقوں میں مچانیں نہیں ہوتیں
کچھ بات تھی جو لب نہیں کھلتے تھے ہمارے
تم سمجھے تھے گونگوں کے زبانیں نہیں ہوتیں