ہنستے ہوئے ماں باپ کی گالی نہیں کھاتے

Munawwar Rana

ہنستے ہوئے ماں باپ کی گالی نہیں کھاتے

بچے ہیں تو کیوں شوق سے مٹی نہیں کھاتے

تم سے نہیں ملنے کا ارادہ تو ہے لیکن

تم سے نہ ملیں گے یہ قسم بھی نہیں کھاتے

سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر

مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے

بچے بھی غریبی کو سمجھنے لگے شاید

اب جاگ بھی جاتے ہیں تو سحری نہیں کھاتے

دعوت تو بڑی چیز ہے ہم جیسے قلندر

ہر ایک کے پیسوں کی دوا بھی نہیں کھاتے

اللہ غریبوں کا مددگار ہے راناؔ

ہم لوگوں کے بچے کبھی سردی نہیں کھاتے