مٹی میں ملا دے کہ جدا ہو نہیں سکتا

Munawwar Rana

مٹی میں ملا دے کہ جدا ہو نہیں سکتا

اب اس سے زیادہ میں ترا ہو نہیں سکتا

دہلیز پہ رکھ دی ہیں کسی شخص نے آنکھیں

روشن کبھی اتنا تو دیا ہو نہیں سکتا

بس تو مری آواز سے آواز ملا دے

پھر دیکھ کہ اس شہر میں کیا ہو نہیں سکتا

اے موت مجھے تو نے مصیبت سے نکالا

صیاد سمجھتا تھا رہا ہو نہیں سکتا

اس خاک بدن کو کبھی پہنچا دے وہاں بھی

کیا اتنا کرم باد صبا ہو نہیں سکتا

پیشانی کو سجدے بھی عطا کر مرے مولیٰ

آنکھوں سے تو یہ قرض ادا ہو نہیں سکتا

دربار میں جانا مرا دشوار بہت ہے

جو شخص قلندر ہو گدا ہو نہیں سکتا