میرے اسکول مری یادوں کے پیکر سن لے
Munawwar Ranaمیرے اسکول مری یادوں کے پیکر سن لے
میں ترے واسطے روتا ہوں برابر سن لے
تیرے استادوں نے محنت سے پڑھایا ہے مجھے
تیری بینچوں نے ہی انسان بنایا ہے مجھے
نا تراشیدہ سا ہیرا تھا تراشا تو نے
ذہن تاریک کو بخشا ہے اجالا تو نے
علم کی جھیل کا تیراک بنایا ہے مجھے
خوف کو چھین کے بے باک بنایا ہے مجھے
تجھ سے شفقت بھی ملی تجھ سے محبت بھی ملی
دولت علم ملی مجھ کو شرافت بھی ملی
شفقتیں ایسی ملی ہیں مجھے استادوں کی
پرورش کرتا ہو جیسے کوئی شہزادوں کی
تیری چاہت میں میں اس درجہ بھی کھو جاتا تھا
تیری بینچوں پہ ہی کچھ دیر کو سو جاتا تھا