یہ درویشوں کی بستی ہے یہاں ایسا نہیں ہوگا
Munawwar Ranaیہ درویشوں کی بستی ہے یہاں ایسا نہیں ہوگا
لباس زندگی پھٹ جائے گا میلا نہیں ہوگا
شیئر بازار میں قیمت اچھلتی گرتی رہتی ہے
مگر یہ خون مفلس ہے کبھی مہنگا نہیں ہوگا
ترے احساس کی اینٹیں لگی ہیں اس عمارت میں
ہمارا گھر ترے گھر سے کبھی اونچا نہیں ہوگا
ہماری دوستی کے بیچ خود غرضی بھی شامل ہے
یہ بے موسم کا پھل ہے یہ بہت میٹھا نہیں ہوگا
پرانے شہر کے لوگوں میں اک رسم مروت ہے
ہمارے پاس آ جاؤ کبھی دھوکہ نہیں ہوگا
یہ ایسی چوٹ ہے جس کو ہمیشہ دکھتے رہنا ہے
یہ ایسا زخم ہے جو عمر بھر اچھا نہیں ہوگا