عمر کی ڈھلتی ہوئی دوپہر میں

Munawwar Rana

عمر کی ڈھلتی ہوئی دوپہر میں

ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کا احساس بھی

آدمی کو تازہ دم کر دیتا ہے

اور اگر سچ مچ خنک ہوائیں

تھکن نصیب جسم سے کھیلنے لگیں

تو شب کی تاریکی خضاب جیسی دکھائی دیتی ہے

آس پاس گردش کرتا ہوا سناٹا

آرزوؤں کی گہما گہمی سے گونجنے لگتا ہے

خواب تعبیروں کی تلاش میں بھٹکنے لگتے ہیں

بدن کی اکتاہٹیں چوپال کے شور شرابے میں ڈوب جاتی ہیں

ڈھلتے ہوئے سورج کی لالی سے سہاگ جوڑے کی خوشبو

آنے لگتی ہے

لیکن خوابیدہ آرزوؤں کی شاہراہ سے گزرتے ہوئے

لوگ

اپنی منزل کا پتا بھول جاتے ہیں

اسی پتا بھولنے کو سماج

دھرم اور مذہب کی آڑ لے کر

ایسی بے ہودہ گالیاں دیتا ہے

جو طوائفوں کے محلوں میں بھی نہیں

سنائی دیتیں