مٹے ہیں عشق میں ایسے کہ کون جانے ہے

Nabil (b. 1974)

مٹے ہیں عشق میں ایسے کہ کون جانے ہے

زمیں سے پوچھ فلک سے کہ اب کہاں ہوں میں

چراغ اب بھی ہوں لیکن بجھا ہوا کب سے

میں روشنی تھا کبھی اب تو بس دھواں ہوں میں

مری تلاش میں دنیا نے کیا کمال کیا

کہ پوچھ ڈالا ہے شیشے سے اب کہاں ہوں میں

کبھی میں یاد میں تھا تیری میں دعا میں تھا

ابھی میں ساتھ ہوں تیرے مگر نہاں ہوں میں

اگرچہ ہے بھی تو حق دار تو غرور نہ کر

جو جھک گیا ہے زمیں پر وہ آسماں ہوں میں