آج فرصت ہے تو کچھ دیر ٹھہر دیکھ مجھے
Nabil (b. 1974)آج فرصت ہے تو کچھ دیر ٹھہر دیکھ مجھے
مجھ پہ بھی ڈال ذرا ایک نظر دیکھ مجھے
میرے شانے پہ ترا سر کبھی ہوگا تب تک
رکھ کے شانے پہ سہیلی کے ہی سر دیکھ مجھے
تا قیامت میں جگہ سے نہ ہلوں گا اپنی
تا قیامت تو مجھے دیکھ مگر دیکھ مجھے
جانے کب سمجھے گی تو میں ہی تری منزل ہوں
مرحلوں سے تو مری جان ابھر دیکھ مجھے
تاجؔ کہتا ہے محبت کے ہر اک مارے سے
میں تصور ہوں کسی اور کا پر دیکھ مجھے
دیکھ مجھ کو کہ تجھے تو ہی دکھائی دے گا
تجھ پہ بھی ہو کے رہے گا یہ اثر دیکھ مجھے