Poetry
Poet
Meter
- وہ خوبصورت لڑکیاںدشت وفا کی ہرنیاںMunir Niazi (1928–2006)
- ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میںضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہوMunir Niazi (1928–2006)
- یہ صدایہ صدائے بازگشتMunir Niazi (1928–2006)
- دئے ابھی نہیں جلےدرخت بڑھتی تیرگی میں چھپ چلےMunir Niazi (1928–2006)
- ذرا اس خود اپنے ہیجذبوں سے مجبور لڑکی کو دیکھوMunir Niazi (1928–2006)
- روز ازل سے وہ بھی مجھ تک آنے کی کوشش میں ہےروز ازل سے میں بھی اس سے ملنے کی کوشش میں ہوںMunir Niazi (1928–2006)
- کسی سائے کا نقش گہرا نہیں ہےہر اک سایہ اک آنکھ ہےMunir Niazi (1928–2006)
- وہاں جس جگہ پر صدا سو گئی ہےہر اک سمت اونچے درختوں کے جھنڈMunir Niazi (1928–2006)
- وہ میری آنکھوں پر جھک کر کہتی ہے ''میں ہوں''اس کا سانس مرے ہونٹوں کو چھو کر کہتا ہے ''میں ہوں''Munir Niazi (1928–2006)
- اچھی مثال بنتیں ظاہر اگر وہ ہوتیںان نیکیوں کو ہم تو دریا میں ڈال آئےMunir Niazi (1928–2006)
- تم میرے لیے اتنے پریشان سے کیوں ہومیں ڈوب بھی جاتا تو کہیں اور ابھرتاMunir Niazi (1928–2006)
- شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداسرونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیںMunir Niazi (1928–2006)
- کوئی تو ہے منیرؔ جسے فکر ہے مرییہ جان کر عجیب سی حیرت ہوئی مجھےMunir Niazi (1928–2006)
- کیوں منیرؔ اپنی تباہی کا یہ کیسا شکوہجتنا تقدیر میں لکھا ہے ادا ہوتا ہےMunir Niazi (1928–2006)
- لیے پھرا جو مجھے در بہ در زمانے میںخیال تجھ کو دل بے قرار کس کا تھاMunir Niazi (1928–2006)
- محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگیگزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگیMunir Niazi (1928–2006)
- منیرؔ اس خوب صورت زندگی کوہمیشہ ایک سا ہونا نہیں ہےMunir Niazi (1928–2006)
- میں اس کو دیکھ کے چپ تھا اسی کی شادی میںمزا تو سارا اسی رسم کے نباہ میں تھاMunir Niazi (1928–2006)
- وہ جس کو میں سمجھتا رہا کامیاب دنوہ دن تھا میری عمر کا سب سے خراب دنMunir Niazi (1928–2006)
- آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہبد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہHabib Jalib (1928–1993)
- اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاںاب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاںHabib Jalib (1928–1993)
- اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیںدیکھ کے اس بستی کی حالت ویرانے یاد آتے ہیںHabib Jalib (1928–1993)
- اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیںتخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیںHabib Jalib (1928–1993)
- اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارےزندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارےHabib Jalib (1928–1993)
- اس نے جب ہنس کے نمسکار کیامجھ کو انسان سے اوتار کیاHabib Jalib (1928–1993)
- افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہےپروا نہیں اک ماں کا جو دل ٹوٹ گیا ہےHabib Jalib (1928–1993)
- اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔمیری طرح وفا کا پرستار مصحفیؔHabib Jalib (1928–1993)
- اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنارہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھناHabib Jalib (1928–1993)
- باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیںسوچا ہے خموشی سے ہر اک زہر کو پی جائیںHabib Jalib (1928–1993)
- بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہوہوئے نہ ایک تو منزل نہ بن سکے گا لہوHabib Jalib (1928–1993)
- بڑے بنے تھے جالبؔ صاحب پٹے سڑک کے بیچگولی کھائی لاٹھی کھائی گرے سڑک کے بیچHabib Jalib (1928–1993)
- بہت روشن ہے شام غم ہماریکسی کی یاد ہے ہم دم ہماریHabib Jalib (1928–1993)
- بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارےنئے چراغ جلا رات ہو گئی پیارےHabib Jalib (1928–1993)
- پھر دل سے آ رہی ہے صدا اس گلی میں چلشاید ملے غزل کا پتا اس گلی میں چلHabib Jalib (1928–1993)
- پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گےہم ترا شہر چھوڑ جائیں گےHabib Jalib (1928–1993)
- ترے ماتھے پہ جب تک بل رہا ہےاجالا آنکھ سے اوجھل رہا ہےHabib Jalib (1928–1993)
- تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھااس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھاHabib Jalib (1928–1993)
- جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہوکل کیا ہوگا کس کو خبر خاموش رہوHabib Jalib (1928–1993)
- جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہےشبنم مری آنکھوں میں وہیں تیر گئی ہےHabib Jalib (1928–1993)
- جھوٹی خبریں گھڑنے والے جھوٹے شعر سنانے والےلوگو صبر کہ اپنے کئے کی جلد سزا ہیں پانے والےHabib Jalib (1928–1993)
- جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوںمجھ سے آگے جانے والو میں آتا ہوںHabib Jalib (1928–1993)
- چور تھا زخموں سے دل زخمی جگر بھی ہو گیااس کو روتے تھے کہ سونا یہ نگر بھی ہو گیاHabib Jalib (1928–1993)
- خوب آزادئ صحافت ہےنظم لکھنے پہ بھی قیامت ہےHabib Jalib (1928–1993)
- درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالےیہ کس نگر کو روانہ ہوئے ہیں گھر والےHabib Jalib (1928–1993)
- دشمنوں نے جو دشمنی کی ہےدوستوں نے بھی کیا کمی کی ہےHabib Jalib (1928–1993)
- دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیااپنا شریک درد بنائیں کسی کو کیاHabib Jalib (1928–1993)
- دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھاتجھ سے بھی ہم نے ترا پیار چھپائے رکھاHabib Jalib (1928–1993)
- دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیںہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیںHabib Jalib (1928–1993)
- دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہوکیوں اس اندھیاری بستی میں پیار کی جوت جگاتے ہوHabib Jalib (1928–1993)
- ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہمدل لے کے سر عرصۂ غم آ تو گئے ہمHabib Jalib (1928–1993)