زبان مے کدہ میں جس کو مے کش جام کہتے ہیں
Ehsan Darbhangavi (1922–1998)زبان مے کدہ میں جس کو مے کش جام کہتے ہیں
اسے ہم اپنے دل کا دوسرا اک نام کہتے ہیں
حدیث زلف و رخ کیا حال صبح و شام کہتے ہیں
غم جاناں کے پردے میں غم ایام کہتے ہیں
تبسم نے کہی تھی داستاں آغاز الفت کی
سنو اب آنسوؤں سے قصۂ انجام کہتے ہیں
تمہاری انکھڑیوں میں ہے سحر گنگا کے ساحل کی
مگر مے خوار اس کو میکدے کی شام کہتے ہیں
تری زلف سیہ سے خال رخ کا جو بھی رشتہ ہو
اسیران محبت دانہ زیر دام کہتے ہیں
ترے درد محبت کو زمانہ اک مرض کہہ لے
مگر ہم تو علاج گردش ایام کہتے ہیں
دل افسردہ کو احسانؔ تم شمع سحر کہہ لو
مگر احباب تو اس کو چراغ شام کہتے ہیں