شوق نظارہ جو سرگرم نظر ہوتا ہے
Ehsan Darbhangavi (1922–1998)شوق نظارہ جو سرگرم نظر ہوتا ہے
جلوہ گر حسن بہ انداز دگر ہوتا ہے
ہو مبارک یہ تری پردہ نشینی تجھ کو
یاد یہ بھی رہے دیوار میں در ہوتا ہے
جھوٹ پھر جھوٹ ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جھوٹ
پرکشش ہوتا ہے اور زود اثر ہوتا ہے
جس خرابے میں پڑا ہوں اسے گھر کیسے کہوں
در و دیوار سلامت ہوں تو گھر ہوتا ہے
تو ہے وہ نخل گل افشاں ہے جو ہر رہرو پر
میں ہوں وہ پیڑ جو بے برگ و ثمر ہوتا ہے
اس کی بیداد گری دن کے اجالے میں کہاں
بول اندھیرے کا بڑا تا بہ سحر ہوتا ہے
وادیٔ یاد ہے اور پاۓ تصور احساںؔ
دیکھیے کس طرح ماضی کا سفر ہوتا ہے