کبھی تصور میں آ رہی ہو کبھی تخیل پہ چھا رہی ہو

Ehsan Darbhangavi (1922–1998)

کبھی تصور میں آ رہی ہو کبھی تخیل پہ چھا رہی ہو

مرے شبستان آرزو کو نگار خانہ بنا رہی ہو

رہ وفا میں قدم قدم پر نئی نئی شرط لا رہی ہو

یہ کس نے بہکا دیا ہے تم کو یہ کیا شگوفے کھلا رہی ہو

یہ خود پرستئ ناروا ہے یہ بے وفائی کی انتہا ہے

تمہاری خاطر جو لٹ چکا ہے اسی سے آنکھیں چرا رہی ہو

بگاڑ میں اک بناؤ سا ہے لگاوٹوں میں کھچاؤ سا ہے

دیا امیدوں کا میرے دل میں جلا رہی ہو بجھا رہی ہو

فضا بھی ناساز ہے جہاں کی وہاں وفا سانس لے گی کیوں کر

ہوا بھی غماز ہے جہاں کی وہاں مجھے کیوں بلا رہی ہو

اگرچہ صحرائے زندگی میں کوئی مرا ہم سفر نہیں ہے

مگر یہ محسوس ہو رہا ہے کہ تم مرے ساتھ آ رہی ہو

پھر آج یاد ان کی آ رہی ہے مگر اس انداز سے کہ احساںؔ

عروس نو جیسے پہلی شب میں بدن کو اپنے چرا رہی ہو