کسی نافہم سے اظہار تمنا کرنا
Ehsan Darbhangavi (1922–1998)کسی نافہم سے اظہار تمنا کرنا
اپنی خاموش محبت کو ہے رسوا کرنا
ہے ابھی دیر کہ ہو عقل شریک جذبات
شوق کو ہے ابھی ماتم تن تنہا کرنا
کھل سکی ہم سے نہ اب تک غم جاناں کی گرہ
ابھی باقی ہے علاج غم دنیا کرنا
اب یہ گیسو ہیں جو آشفتہ تو کس کا ہے قصور
ہم نے تو چھوڑ دیا عرض تمنا کرنا
زلف کی چھاؤں میں آرام کیا چل نکلا
اک مسافر پہ نہ تھا تم کو بھروسہ کرنا
کچھ کشش میری نظر کو بھی عطا کر اے دوست
تیرے بکھرے ہوئے جلووں کو ہے یکجا کرنا
تم کو احسانؔ مبارک ہو یہ انداز جمیلؔ
رنگ اپنا بھی مگر چاہیئے پیدا کرنا