یاد تیری جو کبھی آتی ہے بہلانے کو
Ehsan Darbhangavi (1922–1998)یاد تیری جو کبھی آتی ہے بہلانے کو
اور دیوانہ بنا جاتی ہے دیوانے کو
تم محبت بھری نظروں سے اسے دیکھ تو لو
نیند کانٹوں پہ بھی آ جاتی ہے دیوانے کو
ہم بتائیں گے تمہیں شانہ و گیسو کے رموز
ختم کر لو حرم و دیر کے افسانے کو
اس کو محفل میں جو دیکھا تپش غم کا شریک
لے لیا شمع نے آغوش میں پروانے کو
بادہ کش واعظ کج فہم سے کیا بحث کریں
اس نے دیکھا ہے بہت دور سے میخانے کو
آپ زلف اپنی سنوارا کئے اور دنیا نے
آپ سے چھین لیا آپ کے دیوانے کو
جب نہ احسانؔ رہے گا نہ کہانی اس کی
آپ دہرائیں گے احسانؔ کے افسانے کو