ساغر میں بھی ڈھلتی رہتی ہے سجدوں میں بھی پلتی رہتی ہے
Ehsan Darbhangavi (1922–1998)ساغر میں بھی ڈھلتی رہتی ہے سجدوں میں بھی پلتی رہتی ہے
خواہش ہے بہر حال ایک مگر سو بھیس بدلتی رہتی ہے
آداب بدلتے رہتے ہیں تہذیب بدلتی رہتی ہے
انسان کی فطرت سانچے میں حالات کے ڈھلتی رہتی ہے
بات اپنے اپنے ظرف کی ہے دریا کی متانت کیوں ہو خفا
دریا ہی سے وہ بھی نکلی ہے جو نہر مچلتی رہتی ہے
اس راہ گزار امکاں میں ارباب ہوس کی معذوری
پھولوں کی تمنا دل میں لئے کانٹوں پہ چلتی رہتی ہے
اے ہم نفسو آہیں نہ بھرو ناکام سہی مایوس نہ ہو
یہ کس نے کہا غم کی آندھی چلتی ہے تو چلتی رہتی ہے
سودائے طلب گمراہ سہی لیکن یہ نتیجہ کیا کم ہے
ہر سلسلۂ نقش پا سے اک راہ نکلتی رہتی ہے
امکان وہی پیمانے وہی رجحان وہی افسانے وہی