Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. کیا غیر تھا کہ شب کو نہ تھا جلوہ گر چراغرہتا ہے ورنہ گھر میں ترے تا سحر چراغMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  2. کیا لائقِ زکوٰۃ کوئی بے نوا نہ تھاانفاسِ باد میں نفسِ آشنا نہ تھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  3. کیوں نہ اڑ جائے مرا خواب ترے کوچے میںفرش ہے مخمل و کمخواب ترے کوچے میںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  4. گور میں یادِ قدِ یار نے سونے نہ دیافتنۂ حشر کو رفتار نے سونے نہ دیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  5. گہ ہم سے خفا وہ ہیں گہے ان سے خفا ہممدت سے اسی طرح نبھی جاتی ہے باہمMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  6. لازم ہے بے وفا تجھے اہلِ وفا سے ربطکیسا ہے دیکھ عکسِ ادا کو ادا سے ربطMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  7. مانا سحر کو یار اسے جلوہ گر کریںطاقت ہمیں کہاں کہ شبِ غم سحر کریںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  8. محو ہوں میں جو اس ستمگر کاہے گلہ اپنے حالِ ابتر کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  9. مر گئے ہیں جو ہجرِ یار میں ہمسخت بے تاب ہیں مزار میں ہمMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  10. مطبوع یار کو ہے جفا اور جفا کو ہمکہتی ہے بد عدو کو وفا اور وفا کو ہمMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  11. میں پریشاں گرد اور محفل نشیں تو کب نہ تھاہر کہیں کس دن نہ تھا میں، ہر کہیں تو کب نہ تھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  12. میں وصل میں بھی شیفتہ حسرت طلب رہاگستاخیوں میں بھی مجھے پاسِ ادب رہاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  13. ناصح تپاں ہے، شیفتۂ نیم جاں کی طرحکیا دل میں چبھ گئی نگہِ جاں ستاں کی طرح؟Mustafa Khan Shefta (1809–1869)
  14. نہ اس زمانے میں چرچا ہے دانش و دیں کانہ شوقِ شعرِ تر و بذلہ ہائے رنگیں کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  15. نہ کر فاش رازِ گلستاں عبثنہ ہو بلبلِ زار نالاں عبثMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  16. وصل کے لطف اُٹھاؤں کیوں کرتاب اس جلوے کی لاؤں کیوں کرMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  17. وہ پری وش عشق کے افسوں سے مائل ہو گیامفت میں مشہور میں لوگوں میں عامل ہو گیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  18. ہم بے نشان اور وفا کا نشاں ہنوزہے خاکِ تن ہوا و ہوا خوں فشاں ہنوزMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  19. ہم پر ہے التفات ہمارے حبیب کاگیرا مگر نہیں ہے نفس عندلیب کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  20. ہند کی وہ زمیں ہے عشرت خیزکہ نہ زاہد کریں جہاں پرہیزMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  21. ہے بد بلا کسی کو غم جاوداں نہ ہویا ہم نہ ہوں جہاں میں خدا یا جہاں نہ ہوMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  22. ہے دل کو یوں ترے دمِ اعجاز اثر سے فیضغنچے کو جیسے موجۂ بادِ سحر سے فیضMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  23. یار کو محرومِ تماشا کیامرگِ مفاجات نے یہ کیا کیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  24. یاں کے آنے میں نہیں ان کو جو تمکیں کا خیالغالباً کچھ تو ہوا ہے مری تسکیں کا خیالMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  25. یہ پیچ و تاب میں شبِ غم بے حواسیاںاے دل! خیالِ طرہ تابیدہ مو نہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  26. یہ فیضِ عام شیوہ کہاں تھا نسیم کاآخر غلام ہوں میں تمہارا قدیم کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  27. یہ بات تو غلط ہے کہ دیوانِ شیفتہہے نسخہء معارف و مجموعۂ کمالMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  28. اٹھ صبح ہوئی مرغ چمن نغمۂ سرا دیکھنور سحر و حسن گل و لطف ہوا دیکھMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  29. اس جنبشِ ابرو کا گلہ ہو نہیں سکتادل گوشت ہے ناخن سے جدا ہو نہیں سکتاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  30. بچتے ہیں اس قدر جو اُدھر کی ہوا سے ہمواقف ہیں شیوۂ دلِ شورش ادا سے ہمMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  31. پابندیِ وحشت میں زنجیر کے مشتاقبے رحم نہیں جرمِ وفا قابلِ بخششMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  32. تقلیدِ عدو سے ہمیں ابرام نہ ہو گاہم خاص نہیں اور کرم عام نہ ہا گاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  33. جفا و جور کا اس سے گلہ کیاجو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  34. خورشید کو اگرچہ نہ پہنچے ضیائے شمعپروانے کو پسند نہیں پر سوائے شمعMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  35. دشمن سے ہے میرے دلِ مضطر کی شکایتکیوں کر نہ کروں شوخیِ دلبر کی شکایتMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  36. دور رہنا ہم سے کب تک اور بے گانے کے پاسہیں قریبِ مرگ، کیا اب بھی نہیں آنے کے پاس؟Mustafa Khan Shefta (1809–1869)
  37. شیفتہ آیا ہوں میں کس کا تماشا دیکھ کررہ گئے حیران مجھ کو سب خود آرا دیکھ کرMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  38. طالعِ خفتۂ دشمن نہ جگانا شبِ وصلدیکھ اے مرغِ سحر غل نہ مچانا شبِ وصلMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  39. غم غلط کرنے کو احباب ہمیں جانبِ باغلے گئے کل تو عجب رنگِ گلستاں دیکھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  40. قبر پر وہ بتِ گل فام آیابارے مرنا تو مرے کام آیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  41. کہا کل میں نے اے سرمایۂ نازتلون سے ہے تم کو مدعا کیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  42. کیا تھا نور جب اللہ نے پیدا محمد کااسی دن سے ہوا ہے عاشق شیدا محمد کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  43. کیا فائدہ نصیحتِ نا سود مند کاکیا خوب پند گو بھی ہے محتاج پند کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  44. واں ہوا پردہ اٹھانا موقوفیاں ہوا راز چھپانا موقوفMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  45. ہائے اس برقِ جہاں سوز پر آنا دل کاسمجھے جو گرمیِ ہنگامہ جلانا دل کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  46. یوں بزمِ گل رخاں میں ہے اس دل کو اضطرابجیسے بہار میں ہو عنادل کو اضطرابMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  47. یوں پاس بوالہوس رہیں چشمِ غضب سے دوریہ بات ہے بڑی دلِ عاشق طلب سے دورMustafa Khan Shefta (1809–1869)